قصوروارکون؟

عنبر حسین

ambar Hussain

یہ واقعہ لیاقت آباد میں پیش آیا ۔
آج سے دو دن پہلے کی بات ہے رات کا سناٹا ہر طرف چھایا ہواتھا عمو ماً اس وقت لائٹ جاتی نہیں تھی مگر آج چلی گئی تھی سردیوں کی آمد آمد تھی اس لیے خاموشی کا احساس ذرا زیادہ ہو رہا تھا میں اپنے خیالوں میں گم یہ سوچ ہی رہی تھی کہ اچانک غیر متوقع طور پر لائٹ آگئی ابھی کچھ دیر ہی گزری ہوگی کہ ایک درد ناک چیخ اور بھاگنے کی دھم دھم کی آواز نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا۔ یا اللہ رحم میری بچی، یہ کیا ہوگیا کیسے ہوا ،ابھی یہ میرے پاس ہی تو تھی ۔معلوم ہوا کے پڑوس میں رہنے والے کرائے دار کی 2 سال کی بچی پانی کی بڑی بالٹی میں ڈوب گئی ہے ۔
محلے کے چند معتبر حضرات بچی کو قریبی ہسپتال میں لے گئے اور کچھ ہی دیر میں ۲ سال کی منّی کا لاشہ لے کر آگئے عجب کُہرام مچ گیا اہلِ محلہ کی باتیں اور ماں کی آہیں سسکیاں بین ۔ماں اور باپ کی حالت اس وقت ایسی نہ تھی کہ کچھ بتا پاتے اور نہ ہی کسی میں اتنی ہمت کے اس قیامت کے بعد کوئی سوا ل کر سکے، مگر ہاں سب تھے اس ہی شش و پنج میں کہ یہ ہوا کیسے ؟بچی بالٹی تک کیسے پہنچی اور پھر کیسے بالٹی کے اندر گری جتنے منہ اتنے سوال اور ساتھ ہی متوقع جواب۔
ما ں لاپرواہ ہے ،ہوش نہیں تھا کہ بچی کہاں ہے ، ماں کو موبا ئل فون سے فرصت ہو تو دیکھے، ارے یہ بچی بھی بڑی بے چین طبیعت ایک جگہَ ٹکتی ہی کہاں تھی، ار ے اندھیرا بہت ہے ان کے گھر میں، باپ کیا کر رہا تھا،ارے یہ لائٹ بھی تو اتنا جاتی ہے ،بھیّا اس ہی وجہ سے ہم نے تو جنریٹر لے لیا ہے، بڑی بالٹی میں پانی بھر کے رکھنے کی کیا ضرورت تھی ، ارے علا قے میں اتنے دن سے پانی کہاں آرہا ہے اور ان کے تو چھوٹے بچوں کا ساتھ ہے ، ماں کی لاپرواہی ہے اس میں سب اپنا اپنا حتمی فیصلہ سنا رہے تھے اور ساتھ ساتھ اپنی رائے بھی دے رہے تھے مگر ایک کڑوا سچ تھا کہ 2 سال کی ایک معصوم بچی پانی محفوظ کرنے کی غرض سے رکھی گئی بالٹی میں ڈوب کے ہلاک ہو گئی تھی۔
اس کا قصور وار کون تھا ؟ وہ بچی جو نا سمجھ تھی یا شرارتی تھی، یا وہ ماں جس نے پانی کی ضرورت اور قلت کے پیش نظر پانی جمع کر کے رکھا،یا کے الیکٹرک جو اعلا نیہ اور غیر اعلانیہ دونوں طرح کی لوڈشیڈنگ کے عذاب میں لوگوں کو مبتلا رکھتی ہے،یا وہ غریب باپ جو جنریٹر خریدنے کی حیثیت نہیں رکھتا تھا ، یا انسان کی سہولت کے لیے ایجاد ہونے والا موبائل فون، یا عوام کے مسائل حل کرنے کے دعوئے دار سیاسی لیڈر جنھیں ایک دوسرے پر الزام ترا شی سے فرصت ملے تو وہ ان مسائل کی طرف دیکھیں جو ان کی توجہ کے طلب گار ہیں۔ 2سال کی منّی اپنے گھر میں گھروالوں کی موجودگی میں دنیا سے رخصت ہو گئی اس کے پیچھے ہزار باتیں ،ماں کاش میں بالٹی پانی سے بھر کے نہ رکھتی،باپ کاش میرے پاس گھر کے خرچ سے اتنا بچ پاتا کہ میں اس موم بتی کے بجائے گھر کو یوپی ایس یا جنریٹر سے روشن کر دیتا ۔ان گنت سوال اور قیاس آرائیاں مگر حقیقت ایک کہ معصوم ننھی کلی مرجھاگئی اور پانی میں ڈوب کر مر گئی ہے اب ان جھوٹے دعوئے اور وعدے کرنے والے حکمرانوں اور سیاست دانوں کو بھی چُلّو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہیے جو عوام کو زندگی کی بنیادی سہولیات تک نہیں دے پائے خود کو عوامی لیڈر اور عوام کا غم خوار کہنے والے ایک بار سوچیں کہ پانی بجلی گھر جیسی بنیادی ضروریات تک سے محروم عوام کو ان کے دھرنوں اور بڑے بڑے منصوبوں کی نہیں بلکہ بنیادی ضروریاتِ زندگی کی ضرورت ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *