مرد و خواتین میں زیادہ پسینہ کسے آتا ہے؟

یہ بات آسٹریلیا میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آئی— شٹر اسٹاک فوٹو

آخر کچھ افراد کو بہت زیادہ پسینہ کیوں آتا ہے اور کیا مرد اس معاملے میں خواتین سے آگے ہوتے ہیں؟ تو اس کا جواب آپ کو دنگ کرنے کے لیے کافی ہے۔ یہ بات آسٹریلیا میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آئی۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ کسی فرد کو کتنا پسینہ آئے گا اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ اس کا جسمانی حجم اور ساخت کیسی ہے اور اس مرد و خواتین سے کوئی تعلق نہیں۔ آسان الفاظ میں لمبے یا موٹے افراد کو زیادہ پسینہ آتا ہے جبکہ دبلے پتلے افراد اس حوالے سے کچھ محفوظ ہوتے ہیں۔

پسینہ آنا جسم کا خود کو ٹھنڈا کرنے کے دو میں سے ایک طریقہ ہے اور ایسا ہونے پر جلد پر پانی کے قطرے ابھرنے کے بعد اڑنے پر جسم ٹھنڈا ہونے لگتا ہے۔ جسم کا خود کو ٹھنڈا کرنے کا دوسرا طریقہ جلد میں دوران خون کو بڑھانا ہے۔

وول آن گونگ یونیورسٹی کی اس تحقیق میں بتایا کہ جسم کے ٹھنڈے کرنے کے اس طریقہ کا انحصار جسمانی حجم اور ساخت پر ہوتا ہے خاص طور پر دبلے پتلے مرد و خواتین میں جسم خود کو ٹھنڈا کرنے کے لیے دوران خون کے طریقے پر زیادہ انحصار کرنا پڑتا ہے یا دوسرے الفاظ میں انہیں پسینہ کم آتا ہے۔ اس تحقیق کے دوران 24 مردوں اور خواتین کو جسمانی سرگرمیوں کی ہدایت کی گئی اور نتائج سے معلوم ہوا کہ بھاری بدن والے افراد کو پسینہ زیادہ آتا ہے جبکہ جسمانی طور پر پتلے افراد جسم ٹھنڈا رکھنے کے دوران خون کے طریقہ کار کا استعمال کرتے ہیں۔ اس تحقیق کے نتائج جریدے ایکسپریمینٹل فزیولوجی میں شائع ہوئے :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *