مادری زبان

faheem-akhter-uk

21 فروری کو پوری دنیا میں عالمی یومِ مادری زبان منایاگیا۔ اس موقع پر دنیا بھر میں سیمنار ، جلسہ اور رنگا رنگ تقاریب منعقد کی گئیں ۔ سوشل میڈیا پر بھی عالمی یومِ مادری زبان کے حوالے سے ڈھیروں پیغامات پوسٹ کئے گئے۔ کسی نے اپنی زبان کا جشن منایا تو کسی نے اپنی زبان کی تباہی کا ماتم منایا۔ کسی نے نصیحت کی تو کوئی اپنی محبت کا اظہار کر رہا تھا۔گویا عالمی یومِ مادری زبان کے موقع پر زیادہ تر لوگوں نے اپنی زبان سے محبت کا اظہار اپنے اپنے انداز میں کیا۔ میں نے بھی عالمی یومِ مادری زبان کے موقع پر اپنی خوشی کا اظہار فیس بُک پر کیا ۔اس موقع پر میں نے لوگوں کو یہ پیغام دیا کہ ’ آئیے آج ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اردو زبان کے فروغ اور ترقی کے لئے بلا امتیاز،ذاتی مفاد، تعصب، اور بنا بھید بھاؤ کے ہم بطور رضا کار اس کی حفاظت کریں گے۔‘
عالمی یومِ مادری زبان ہر سال 21؍ فروری کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ دنیا کی مادری زبانوں کو فروغ دیا جائے اور اس کے ذریعہ لسانی ،ثقافتی تنوع اور کئی زبان جاننے والے کو بڑھاوا ملے۔ 17؍نومبر 1999کو UNESCOنے عالمی یومِ مادری زبان منانے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2008 میں ایک قرار داد پیش کر کے زبانوں کے بین الاقوامی سال منانے کو با ضابطہ طور تسلم کیا۔
عالمی یومِ مادری زبان ایک سماجی تحریک کا نتیجہ ہے۔ اس تحریک کے آغاز ہونے کا ایک مقصد اپنی مادری زبان کو بولنے اور لکھنے کا حق ملنا چاہئے تھا۔عالمی یومِ مادری زبان 2000سے منا یا جا رہا ہے۔ تا کہ اس سے دنیا بھر میں امن اور ایک دوسرے کے احترام کو فروغ دیا جائے۔اقوام متحدہ کے مطابق زبانیں ایک طاقتور آلہ ہیں جو ور ثہ کے تحفظ اور ترقی پزیر میں اہم رول نبھاتی ہیں۔مادری زبان کو فروغ دینا دراصل صرف لسانی تنوع کو ہی بڑھاوا نہیں دیتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ثقافت، رواداری اور سمجھداری میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔جس سے ایک دوسرے میں ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے اور امن قائم ہوتا ہے۔
اقوام متحدہ نے کینیڈا کے ایک بنگلہ بولنے والے رفیق اسلام کے ایک خط سے متا ثر ہو کر عالمی یومِ مادری زبان منانے کا فیصلہ کیا۔1988 میں رفیق اسلام نے اس وقت کے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کوفی عنان کو ایک خط لکھا جس میں انہوں نے مشورہ دیا کہ دنیا کی زبانوں کا تحفظ کیا جائے اور ہر سال 21؍ فروری کو’ عالمی یومِ مادری زبان‘ منایا جائے۔تاہم رفیق اسلام ایک بنگالی ہونے کے ناطے انہوں نے 21؍ فروری کو خاص کر چنا ۔کیونکہ اسی دن مشرقی پاکستان کے چند طالب علموں نے بنگلہ زبان کی حمایت اور حقوق کے لئے اپنی جان دے دی تھی۔
تاہم اس تحریک کا اصل باب 1952کے اس واقعے سے منسلک ہے جس میں مشرقی پاکستان کے چند طالب علموں کو ڈھاکہ یونیورسٹی میں اس لئے مار دیا گیا کہ انہوں نے اپنے بنگلہ زبان کے حمایت اور حقوق کے لئے تحریک چلائی تھی۔ چونکہ یہ واقعہ 21؍ فروری کو ہوا تھا اس لئے اقوام متحدہ نے اس دن کو ہر سال ’عالمی یومِ مادری زبان ‘کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے۔عالمی یومِ مادری زبان کے موقعے پر بنگلہ دیش میں سرکاری چھٹّی ہوتی ہے۔بنگلہ دیش میں اس دن کو’ شوہید دیوس‘ بھی کہتے ہیں۔اس دن کو منانے کا ایک خاص مقصد یہ ہے کہ تنوع آبادی میں لسانی اور ثقافتی خیر سگالی کو فروغ دیا جائے۔اس کے علاوہ مختلف قوموں کے درمیان وحدت کو بھی فروغ دیا جائے۔ تا کہ اس طرح دنیا کے مختلف حصّوں میں بولی جانے والی زبانوں کا تحفظ اور حفاظت ہو۔
(UNESCO)یونیسکوکی ڈائریکٹر جنرل ارینا بوکوا نے ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’ عالمی یومِ مادری زبان کے موقع پر ممکنہ طور پر کئی زبا نوں کی تعلیم (multilingual education) کو دنیا کے ہر حصّے میں تسلیم کیا جائے۔ اس کے علاوہ مقامی زبانوں کو تعلیم ، انتظامی سسٹم ، ثقافتی اظہار ، ذرائع ابلاغ ، سائبر اسپیس اور تجارت میں بھی تسلیم کیا جانا چاہئے۔‘
کئی زبانوں میں تعلیم کیوں اہم ہے ۔ آئیے یونیسکوکے نقطہ نظر سے جانتے ہیں کہ کئی زبانوں میں تعلیم کو فروغ دینا کیوں اہم ہے۔متعدد زبانوں کی تعلیم کی سہولت فراہم کرنے سے لوگوں کو تعلیم تک رسائی ملتی ہے۔ اس کے ذریعہ اقلیتی طبقہ اور مقامی زبانوں کے بولنے والے خاص کر لڑکیوں اور عورتوں کے منصفانہ رویے کو فروغ ملتا ہے۔اس سے پڑھانے کے معیار کو فائدہ پہنچتا ہے اور تعلیم حاصل کرنے والوں میں تفہیم اور تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھاوا ملتا ہے۔
کئی زبانوں کی تعلیم ذہن کو مضبوط بناتی ہے اور علمی پہلو کے ذریعہ یہ مادری زبان سے براہ راست کسی چیز کو سیکھنے کو یقینی بناتی ہے۔یہ متعلمین اور استاد کے بیچ مکالمہ اور بات چیت کو حقیقی مواصلات میں اضافہ کرتی ہے۔اس سے لوگوں کو شمولیت کی سہولت فراہم ہوتی ہے اور سماج میں نئے علم اور ثقافتی اظہار کو موقع ملتا ہے۔ اس طرح عالمی اور مقامی طور پر لوگوں میں پر امن باہمی تعامل کو یقینی بنانے کا موقع ملتا ہے۔
جہاں عالمی یومِ مادری زبان کو ہر سال اس لئے منایا جارہا ہے کہ زبانوں کی حفاظت ہو اور اس کے بولنے والوں کی پہچان بنی رہے۔ تو وہیں بہت ساری زبانوں کے مٹنے کا اندیشہ بھی پایا جارہا ہے۔ جس کی کئی وجوہات پائی جا رہی ہیں۔ مثلاً مادری زبانوں کو فروغ نہیں دینا یا ان زبانوں کی اہمت کو نہیں سمجھنا وغیرہ۔
دنیا میں لگ بھگ سات ہزار زبانیں بولی جاتی ہیں۔ لیکن ایسا اندازہ لگا یا جا رہا ہے کہ اگلی چند نسلوں کہ بعد بہت ساری زبانیں مٹ جائیں گی۔یہی وجہ ہے کہ یونیسکومقامی زبانوں کے فروغ کے لئے دنیا بھر میں کئی اہم پروگرام کا انعقاد کر رہی ہے۔ جس سے لوگوں میں اپنی ثقافت اور اہمیت کا اندازہ ہوتاہے۔ہندوستان میں کئی زبانیں بولی جاتی ہیں۔ لیکن اب بھی بہت زبانیں ایسی ہیں جو حکومت کی لاپرواہی کی وجہ سے دم توڑ رہی ہیں۔ خاص کر ان علاقوں میں جہاں ہندی زبان کو زیادہ فروغ دیا گیا ہے۔ مثلاً راجھستانی ، انگیکا، اوادھی، بھوجپوری وغیرہ ایسی زبانیں ہیں جو زندہ رہنے کے لئے جدوجہد کر رہی ہیں۔حالانکہ ان زبانوں کے بولنے والے مسلسل حکومت سے اس کی حفاظت کی مانگ کر رہے ہیں۔ڈیلی ایکسپریس کے رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے اسکولوں میں بچے تین سو سے زیادہ زبانیں بولتے ہیں۔کچھ اسکولوں میں انگریزی بولنے والے بچّوں کی تعداد دیگر زبان بولنے والوں بچّوں سے کم ہے۔ایک اسکول میں 360بچّوں میں سے 324بچّوں کی پہلی زبان پنجابی ہے۔
برطانیہ میں کئی زبانیں بولنے والے پائے جاتے ہیں ۔ اس کی ایک وجہ دیگر ممالک کے لوگوں کا آکر یہاں بسنا ہے۔ ان میں پولش، پنجابی(جن میں پاکستان اور ہندوستان دونوں ممالک کے لوگ شامل ہیں)، اردو،بنگالی ، اسپینش، فرینچ وغیرہ اہم ہیں۔
اردو میری مادری زبان ہے ۔ جس پر مجھے صرف فخر ہی نہیں ہے بلکہ مجھے اس بات کا بھی احساس ہے کہ میں اردو زبان کی محبت میں گرفتار ہوں۔ مجھے اس بات کو بتانے میں کوئی جھجھک نہیں ہے کہ اردو زبان کے ذریعہ ہی میری پہچان ہے۔ جس کی مثال یہ ہے کہ لندن میں 23سال بسر کرنے کے بعد بھی میں اپنی زبان کو بھول نہیں پایا ہوں۔ آ ج بھی انگریزوں کے ساتھ کام کر نے کے باجود میں اردو کی خدمت میں تن تنہا رضاکار انہ کے طور پر جتا ہوا ہوں۔
لیکن اس کے باوجود مجھے یہ بھی تشویش ہے کہ اردو زبان کو نئی نسل کے لوگ اس حدتک نہیں بول رہے ہیں ۔ جس کی ایک وجہ انگریزی زبان کا عام ہونا اور سماج میں انگریزی کا بولنا اہم سمجھا جاتا ہے۔ میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ زبان چاہئے آپ کوئی بھی بولے لیکن اردو زبان کو جس طرح بچپن میں قرآن پڑھانا ضروری سمجھا جاتا ہے اسی طرح اردو کو بھی بچّوں میں پڑھانا لازمی کرنا چاہئے۔ تبھی ہم اردو زبان کی حفاظت کر پائیں گے۔ ان تمام باتوں کے علاوہ ہم عالمی یومِ مادری زبان کے موقع پر دنیا کے سات ہزار سے زیادہ زبان بولنے والوں کو مبار کباد پیش کرتے ہیں اور یہ مشورہ دیتے ہیں کہ مادری زبان کا ہم صرف جشن نہ منائیں بلکہ اس کے فروغ اور ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیں تاکہ ہم زبان کا تحفظ کر سکیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *