موہنجو داڑو کی باقیات ایک تاریخی کہانی بیان کرتی ہیں۔

nadeem 1ندیم ایف پراچا

موہنجو داڑو سندھی تہذیب کا قدیم ترین نمونہ ہے۔ یہ 5000 سال قبل تعمیر ہوئی تھی  اور آج پاکستان کے علاقے سندھ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ بہت سے مورخین کا خیال ہے کہ اس تہذیب کو 3000 سال قبل ترک کیا گیا ۔ یہ کئی سال تک مٹی کے نیچے دبی رہی  اور آرکیالوجسٹ حضرات نے 1920 میں اسے دریافت کر لیا۔ اس تہذیب کے بارے میں تفصیلی مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ ایک مہذب معاشرے جس میں بہت سے تاجر، مچھیروں اور کسانوں کی تہذیب ہے۔ ان لوگوں کی تحریری زبان اور مذہبی رسومات تھیں۔

یہ جگہ دریائے سندھ کے مغرب میں واقع ہے اور آج کل اس علاقے کو لاڑکانہ ڈسٹرکٹ کہا جاتا ہے۔ موہنجو داڑو سندھی تہذیب کا سب سے بڑا شہر تھا۔ آجکل اس شہر کا زیادہ ترحصہ پاکستان میں شامل ہے۔ 60 کی دہائی میں کچھ آرکیالوجسٹ نے اس جگہ کا دوبارہ معائنہ کیا اور دعوی کیا کہ موہنجو داڑو کی تہذیب کی تباہی کی وجہ وسطی ایشیا سے آنے والے حملہ آور لوگ تھے جنہیں آرین کہا جاتا تھا۔ انہوں نے سندھی تہذیب کے لوگوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ بعد کے ماہرین آثار قدیمہ اور مورخین کا خیال ہے موہنجو داڑو کو لوگ اس لیے چھوڑ نے لگے کہ یہاں کا موسم تبدیل ہو گیا اور دریائے سندھ mohanjodaro 1کا رخ بدل گیا ۔

ان وجوہات کی بنا پر یہاں مون سون کی بارشیں رک گئیں اور حالات بدتر ہونا شروع گئے۔ میں نے پہلی بار موہنجو داڑو کی باقیات کو 1974 میں دیکھا۔ تب میں 8 سال کا تھا  اور کراچی کے سکول میں تیسری جماعت میں پڑتا تھا۔ ہم وہاں سکول ٹرپ پر گئے تھے  اور پی آئی اے فلائیٹ کے ذریعےوہاں پہنچے۔ تب روزانہ پی آئی اے فلائیٹس موہنجو داڑو جاتیں اور اس مقصد کے لیے موہنجو داڑو کے قریب ایک ائیر پورٹ بھی تعمیر کیا گیا تھا۔ وہاں بہت سے mohanjodaro 2مورخین، آثار قدیمہ کے ماہرین اور سیاح ہر وقت موجود رہتے تھے اور لوگ پاکستان بھر سے اس جگہ کو دیکھنے آتے تھے۔

 مجھے اس ٹرپ کے بارے میں صرف اتنا ہی یاد ہے کہ وہاں بہت سے غیر ملکی مرد اور عورتیں بھی موجود تھیں۔ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ پاوں کے نیچے زمین سے صاف معلوم ہوتا تھا کہ یہ بہت قدیم زمانہ کی مٹی ہے۔ یہ جگہ دیکھنے سے پہلے مجھے لگتا تھا کہ موہنجو داڑو کے بارے میں کہانیاں بھی پریوں کی کہانیوں جیسی ہیں  لیکن جب میں وہاں پہنچا تو میں نے بار بار زمین پر اپنے پاوں دبا کر مٹی کو محسوس کرنے کی کوشش کی اور سچائی کا پتہ لگایا۔ دوسری  بار اس جگہ کا دورہ میں نے 1986 میں کیا تب میں 12ویں جماعت میں تھا اور کراچی کے سرکاری کالج میں پڑھتا تھا۔

 84 سے 86 کے بیچ میں نے سندھ کی بہت سی جگہوں کا معائنہ کیا جس کی بنیادی وجوہات سیاسی نوعیت کی تھیں۔ میں ایک پروگریسو طلبا تنظیم کا ممبر تھا اور 80 کی دہائی میں  اندرون سندھ ضیاالحق کی ڈکٹیٹرشپ کے خلاف احتجاج کا گڑھ بن چکا تھا اور میری سٹوڈینٹ تنظیم  صوبے کے ہر شہر میں سیاسی دوروں پر جایا کرتی تھی۔ 86 میں میں چار طلبا کے ساتھ سہون شریف بھی گیا جہاں ہم ضیا الحق کےخلاف احتجاج کا ارادہ رکھتے تھے۔ ہم سہون شریف بس پر گئے تھے۔ پہلے ہم حیدر آباد پہنچے وہاں سے ایک دوسری بس پر سوار ہو کر سہون شریف پہنچے۔  سہون شریف کو یہاں کے مشہور لعل شہباز قلندر کے مزار کی بدولت پہچانا جاتا ہے۔

 تب ہم اسی مزار کے آس پاس  احتجاج کرنے کی پلاننگ کر رہے تھے۔ حیدر آباد کے کچھ لوگوں نے ہمیں ڈرایا کہ ضیا نے کئی لوگوں کو عام  لباس میں لوگوں کو گرفتار کرنے کے لیے تعینا ت کر رکھا ہے ۔ ہمیں کہا گیا کہ جب تک ان افواہوں کی تردید یا تصدیق نہیں ہو جاتی ہم تب تک کوئی ایکشن نہ لیں۔ حیدر آباد میں رکے رہنے کے بجائے ہم نے لاڑکانہ جانے کا فیصلہ کیا جہاں ہمارا ایک ساتھی رہتا تھا۔ ہم بس پر لاڑکانہ پہنچے لیکن اس ساتھی کا گھر نہ ڈھونڈ پائے ۔ اس کے بھائی نے بتایا کہ شاید اسے دوسرے گاوں میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ہمیں مجبورا رات ایک عام سے ہوٹل جس کانام چاند ہوٹل تھا میں گزارنی پڑی۔

 اس میں ہمیں ایسا کمرا ملا جس میں صرف ایک چارپائی تھی جو پسوں سے بھری پڑی تھی۔ ہم نے چارپائی کی بجائے فرش پر سونے کا فیصلہ کیا۔ ہمیں جس mohenjodaro 6چیز نے سونے میں مدد کی وہ وسکی تھی جو ہم نے 60 روپے میں ایک  ہوٹل کے ملازم سے خریدی تھی۔

اگلے دن ہم میں سے ایک لڑکے جس کا نام ریحان تھا اور اسے روسی کہہ کر بلاتے تھے نے ایک موٹر سائکل کرائے پر حاصل کی ۔ اس کا پلان یہ تھا کہ ہم اس گاوں جائیں گے جہاں سے ہمارے لاڑکانہ والے دوست کو گرفتار کیا گیا تھا۔ میں بھی روسی کے ساتھ ہو لیا۔ ہمیں وہ گاوں نہ ملا اور لاڑکانہ واپس جاتے ہوئے مجھے ایک بورڈ نظر آیا جس پر لکھا تھا 'موہنجوداڑو 20 کلو میٹر'۔

اب ہم لاڑکانہ جانے کی بجائے موہنجو داڑو کی طرف جا رہے تھے۔ ہم دوپہر کے کچھ دیر بعد وہاں پہنچے۔ میں دیکھ کر بہت حیران ہوا۔ جگہ بہت ہی خوبصورت لگ رہی تھی۔ یہ بہت کھلی اور پرسکون جگہ تھی۔ جیسے ہی ہم کھنڈرات کی طرف بڑھے مجھے وہ جگہ یاد آ گئی جہاں میں نے 11 سال قبل اپنے mohenjodaro 3پاوں کے نشان بنائے تھے۔

وہاں کوئی نہیں تھا ۔ تھوڑی دور ایک دو آدمی قدیم زمانے کی اینٹوں پر کھڑے تھے۔ وہ کسی نقشے کا معائنہ کر رہے تھے ۔ ان میں سے ایک جاپانی تھا۔ یا شاید مجھے ایسا لگ رہا تھا۔ ہمارے تھوڑا اور قریب ایک شخص ایک ادھوری دیوار پر بیٹھا تھا۔ وہ سگریٹ پی رہا تھا اور سامنے خالی جگہ کی طرف گھور کر دیکھ رہا تھا۔

جب میں اس مقام کی طرف بڑھنے لگا جہاں میں پچھلے چند سال پہلے کے دورے میں آیا تھا تو روسی آگے بڑھ گیا اور ان لوگوں کے قریب پہنچ گیا جو ہم سے 200 میٹر آگے تھے۔  میں اسی جگہ پر کھڑا رہا اور زور زور سے زمین پر پاوں مارنے لگا۔ اس سے مجھے بہت مزا آیا اور میں کھلکھلا اٹھا۔ تبھی مجھے پیچھے سے کسی  نے آواز دیکر کہا: سائیں تم یہاں تیل ڈھونڈ رہے ہو کیا؟ میں نے واپس مڑ کر دیکھا تو ایک شخص مجھے گھورے جا رہا تھا۔ میں مسکرایا اور جیب سے سگریٹ نکال کر سلگانے لگا۔ پھر میں اس دیوار کی طرف بڑھنے لگا جہاں وہ شخص کھڑا تھا۔

میں نے اسے سلام کیا اور مصافحہ کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا۔ وہ 50 سال سے اوپر کا معلوم ہوتا تھا۔ اس کی مونچھیں کالی  تھی شاید اس نے ڈائی کروا رکھی تھیں۔ سر پر پگڑی پہنے ہوئے تھا۔ سندھی شلوار قمیص پہن رکھی تھی جس کا رنگ گلابی تھا۔ اس نے میرے سلام کا جواب دیا اور بہت دھیان سے میری طرف دیکھنے لگا۔

کیا تم کراچی سے ہو؟ اس نے اردو بولتے ہوئے کہا: میں نے کہا جی ہاں؟ کیا آپ کو اتنی آسانی سے پتہ چل جاتا ہے؟ میں نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔

 

وہ سنجیدہ نظروں سے ایک بار پھر دوسری طرف دیکھنے لگا اور ایک سگریٹ سلگائی۔ میں نے پوچھا: کیا آپ یہیں کے رہنے والے ہیں؟ وہ آہستہ سے میری طرف مڑا اور بتایا کہ وہ یہاں ایک گائیڈ ہوا کرتا تھا۔ آج کل یہاں سیاحوں سے زیادہ گائیڈ نظر آتے ہیں۔ میں نے اتفاق کیا اور کہا کہ مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے۔ میں پہلی بار یہاں 74 میں آیا تھا۔ کیا آپ  تب بھی گائیڈ تھے؟

اس نے اپنے کندھے اچکائے اور کہا: آج کل میری یادداشت میرا ساتھ نہیں دے رہی۔ میرے والد یہاں ایک گائیڈ ہوا کرتے تھے۔ بہت سے لوگ یہاں آیا کرتے تھے۔ میں نے پوچھا کہ آپ اب بھی یہاں کے گائیڈ ہیں؟ اس نے مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائی اور کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں تو آپ کے لیے میں گائیڈ بننے کے لیے تیار ہوں۔ میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔ وہ ہنس پڑا اور کہنے لگا: پیسے کون مانگ رہا ہے؟ یہ ہماری دھرتی ماں ہے۔ میں نے اتفاق میں سر ہلایا۔ پھر اس نے پوچھا: تمہیں کیا سمجھ آئی؟ میں نے کہا کیا تم پاکستان کی بات کر رہے ہو؟ وہ پھر ہنسنے لگا اور کہا: نہیں سائیں جی، میں پاکستان کی نہیں بلکہ کی پیدائش کی جگہ کی بات کر رہا ہوں، جو بھارت کی بھی جائے پیدائش ہے۔ اس نے اس سارے منظر کی طرف سر اور آنکھوں mohaenjodaro 4سے اشارہ کرتے ہوئے کہا یہ سر زمین سندھ ہی تو ہے۔ میں نے کہا: دریائے سندھ؟

اس نے اتفاق کرتے ہوئے کہا: جی ہاں، سندھو نے موہنجو داڑو کو جنم دیا۔ پھر اس کی بدولت بھارت اور پاکستان کا جنم ہوا۔ کیا سمجھے سائیں؟ میں نے پوچھا: تو پھر عربوں کے بارے میں آپ کا کیا کہنا ہے؟ اس نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا کہ کیا تم محمد بن قاسم کی بات کر رہے ہو؟ میں نے کہا جی ہاں۔ اس نے کہا کہ وہ ہمارا مہمان تھا۔ میں نے کہا: لیکن اس نے سندھ پر حملہ کیا اور یہاں کے بادشاہوں کو شکست دی۔ اس نے بڑے شوق سے ایک بار پھر میری طرف دیکھ کر گھورنا شروع کیا۔ پھر اس نے مجھے ایک دلچسپ کہانی سنائی۔ اس نے کہا کہ 1979 میں ان کے ایک چھوٹے بھائی ایک الیکٹریشن کی حیثیت سے عمان میں کام کرنے گئے۔ ایک بار ان کے عرب باس نے ان کی بہت بے حرمتی کی۔

بھائی نے جواب میں عرب باس کو بتایا کہ میں سندھ سے ہوں اور سندھ کے لوگوں سے عربوں نے بہت سی ایسی چیزیں سیکھی ہیں جو وہ پہلے نہیں جانتے تھے۔

میں نے پوچھا: تو اس کے عرب باس نے کیا کہا؟ اس نے ہنس کر جواب دیا کہ اس کے باس نے اس کی عزت کرنا شروع کر دیا اور اسے قدیم پاکستانی کہنے لگا۔ میں نے پوچھا: تو کیا اس سے تہمارے بھائی کو بے عزتی محسوس نہیں ہوئی؟

وہ شخص مجھے گھور کر دیکھنے لگا اور کہا: سائیں، اس کی کیسے بے عزتی ہو گی۔ میرے اور تمہارے آبا و اجداد یہیں سے تھے۔ ہم قدیم زمانے کے لوگ ہیں۔ تمہیں کیا سمجھ آئی سائیں؟ میں نے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے اسے سگریٹ پیش کیا۔ اس نے سگریٹ سلگایا۔ میں نے پوچھا کہ سارے مہمان کہاں چلے گئے؟

اس نے سگریٹ کا دھواں منہ میں بھرا۔ پھر پھونک ڈالا۔ سگریٹ کی تعریف کرتے ہوئے اس نے کہا۔ بہت اچھا۔ میں نے پوچھا یہ گولڈ فلیک ہے؟ اس نے ہاں میں سر ہلایا اور سورج کی طرف دیکھنے لگا جو غروب ہو رہا تھا۔

آپ کو معلوم ہے میرا بھائی اپنے باس کو کیا بلاتا تھا؟ وہ انہیں اونٹ کا ڈرائیور کہا کرتا تھا۔ میں نے مسکرا کر پوچھا کیا واقعی ایسا تھا؟ اور باس کو غصہ نہیں آتا تھا؟ اس نے ڈوبتے سورج کی طرف دیکھتے ہوئے بتایا: مجھے نہیں معلوم۔ میں تین سال سے اپنے بھائی سے نہیں ملا ہوں۔

میں نے پوچھا کیوں؟ اس نے بتایا کہ اس نے اپنے بیوی بچوں کو عمان بلا لیا اور پھر کبھی واپس نہیں آیا۔ اس نے سوچا یہ بچوں کے لیے مناسب جگہ نہیں ہے۔ میں نے پوچھا کیسے؟

اس نے کندھے اچکائے اور بولا۔ خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ وہ ہمیں ایسے دیکھنے لگا جیسے ہم کوئی غیر ملکی ہوں ۔ اس نے موہنجو داڑو آنا بھی بند کر دیا باوجود اس کے کہ اسے اس جگہ سےبہت محبت تھی۔ وہ اور اس کے مہمان چلے گئے۔ اس کے مہمان بھی اس جگہ کو کوئی نئی اور عجیب جگہ لگنے لگی تھی۔ میں نے کہا بڑی عجیب بات ہے۔

اس نے روسی کو ہماری طرف آتے دیکھ کر پوچھا: تمہارا دوست سندھی ہے؟ میں نے ہاں مین جواب دیا۔ میں نے کہا کہ وہ خیر پور کا ہے لیکن تعلیم کرااچی سے حاصل کر رہا ہے۔ روسی کو مخاطب کرتے ہوئے اس نے اونچی آواز میں پوچھا؟ تمہیں کیا پتہ چلا؟

مجھے پتہ چلا کہ وہاں ایک بھی سگریٹ کی دوکان نہیں تھی۔ روسی نے اونچی آواز میں بتایا۔ میں اور روسی اونچی آواز میں ہنس پڑے۔ لیکن وہ شخص mohenjodaro 5سنجیدہ ہوتے ہوئے بولا۔ کسی کے بڑوں کی قبروں کے پاس کھڑے ہو کر سگریٹ پینا اچھی بات نہیں ہے ۔

لیکن تم تو سگریٹ پی رہے تھے۔ میں نے اسے فوری طور پر یاد دلایا۔ وہ مسکرایااور کہا: میرے بھائی کی طرح میں نے اپنی بڑوں کی عزت کرنا چھوڑی دی ہے۔ پھر روسی اور مجھے مخاطب کر کے اس نے کہا: تم دونوں اب بھی نوجوان ہو۔ جو میں نے کھویا وہ تم نہ کھو دینا۔

پھر ایسا ہو ہی گیا۔ اسی لمحے روسی نے جھک کر اس شخص کے پاوں کو چھو لیا اور بولا' بھلی سائیں'۔ پھر اس نے مجھے بتایا کہ ہم لیٹ ہو رہے ہیں۔ ۔ہم نے اس شخص کو اللہ حافظ کہا جس کا مجھے کبھی نام معلوم نہیں ہو سکا۔ میں نے کبھی پوچھا بھی نہیں۔ تھوڑی دیر بعد ہم لاڑکانہ کی طرف نکل پڑے۔ اس دن سے آج تک میں نے کبھی روسی کو سگریٹ پیتے نہیں دیکھا۔ اس نے سگریٹ ہمیشہ کے لیے چھوڑ دی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *