پاکستان میں برداشت کا مظاہرہ کرنے والی اسلامی آوازوں کو دبایا جا رہا ہے

ولیم ڈال رمپلwillaim dalrymple

پچھلے ہفتے لاہور میں دھماکہ ہونے کے صرف تین دن بعد  ایک داعش کے خود کش اہلکار نے سندھ کے علاقے سہون شریف میں ایک صوفی دربار کے اندر خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا کر درجنوں افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس دھماکہ میں 90 افراد جاں بحق ہوئے اور اس سے واضح ہوا کہ ریڈیکل اسلامسٹ آج کے ماڈریٹ اور تحمل کا پرچار کرنے والی آوازوں کو دبانے میں مصروف ہیں۔ 

اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ داعش کا دائرہ دنیا بھر تک پھیل چکا ہے اور اس جماعت سے تعلق رکھنے والے لوگ کتنی آسانی سے پاکستان بھر کے کسی بھی علاقے کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ سہون شریف دربار میں دھماکہ سے دنیا بھر میں داعش کا بڑھتا ہوا رسوخ واضح ہوا ہے  خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں استحکام کی ضرورت ہے۔ لعل شہباز قلندر کے دربار میں ہر طبقہ اوراقلیتوں کے لوگ اور خواتین آ جاتی تھیں  اور انہیں کوئی نہیں روکتا تھا۔ تقسیم ہند کے ساٹھ سال بعد بھی  اس دربار کا دربان ہندو ہے  اور سالانہ تہوار کا آغاز ہندو ہی کرتا ہے ۔ بہت سے ہندو مذہبی رہنما اس دربار پر عرس میں شامل ہوتے ہیں۔ البتہ اس دربار میں ایسے رسم و رواج پائے جاتے ہیں جنہیں مسلمان کسی طرح قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ 

یہاں صوفی شاعری کے گانے گائے جاتے ہیں لوگ خواتین کے ساتھ مل کر ڈانس کرتے ہیں اور ہشیش کا استعمال کیا جاتا ہے۔ عرس میں ہندو اور عیسائی بھی جوش و خروش سے شریک ہوتے ہیں۔ اسلامی دنیا میں ریڈیکل اسلام کی ایک تحریک چل رہی ہے۔ 20 ویں صدی تک بہت زیادہ فرسودہ خیالات کے حامی مسلمانوں کو قابل قبول نہیں سمجھا جاتا تھا لیکن 1970 کے بعد سعودی تیل کی دولت کو استعمال کرتے ہوئے اس طرح کے عدم برداشت والے  عقائد کو پروان چڑھایا گیا ہے۔ اس کے نتیجہ میں بہت سے عصری مسلمانوں  کو ایسی تعلیمات سکھائی گئیں جن میں صوفی ازم کو قبول کرنے کی ترویج نہیں تھی۔ 

 سہون شریف پر ہونے والا ہر واقعہ بہت اہمیت کا حامل ہے  کیونکہ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ گلوبل اسلام کس سمت کو ترجیح دینے کا حامی ہے۔ کیا یہ ماڈرن پلورلسٹک اسلام کا انتخاب کرے گا یا سعودی فنڈنگ سے متاثر ہو کر وہابی اور سلفی اسلام کو ترجیح دیتا ہے جس کے تحت ہندوازم، عیسائیت اور جدائزم کے لیے نفرت پھیلائی جاتی ہے۔ ساوتھ ایشیا میں اسلام تبدیل ہو رہا ہے۔ 16ویں صدی کے یورپ کی طرح اسلام بھی موسیقی، تصاویر، تہواروں اور درباروں پر صوفیا کی قبروں اور ان سے متعلقہ تواہم کے خلاف ہے۔ عیسائی یورپ میں لوگ صرف مذہبی متن کو اتھارٹی کا ذریعہ قرار دیتے تھے  اور اس مقصد کے لیے اربن مڈل کلاس کے سپورٹرز کی مدد لیتے تھے  جو تواہم کے سخت خلاف تھے۔ 

ہارڈ لائن وہابی اور سلفی فنڈامنٹلزم پاکستان میں تیزی سے اس لیے پھیل رہی ہے کہ سعودیوں نے بہت سے مدرسوں کی تعمیر پر لاگت اپنے ذمہ لے رکھی ہے جن سے ملک میں سکول کی تعلیم کا خلا پر ہوتا ہے۔ کچھ سال پہلے جب میں آخری بار سہون شریف گیا دیکھا کہ وہاں کا سب سے بڑا مدرسہ لعل شہباز قلندر کے دربار کے پاس ایک حویلی میں  واقع تھا۔ سلیم اللہ جو اس مدرسہ کے ناظم تھے  ایک تعلیم یافتہ نوجوان تھے لیکن  وہ فرسودہ تعلیمات سے اپنی دلچسپی کا کھلے عام اظہار کر رہے تھے ۔ ان کے مطابق صوفی ازم اور آرتھو ڈاکس کے بیچ کا جھگڑا بہت ہی معمولی مسئلے پر ہے ۔ وہ یہ کہ ہم قبروں کی پوجا کرنا پسند نہیں کرتے۔

اس بارے میں قرآنی تعلیمات بہت واضح ہیں۔ قران کے مطابق ایک مسلمان کو مردوں کے سامنے جھکنے اور سوال کرنے کا حکم نہیں ہے۔ کسی نیک آدمی کے سامنے بھی دعائیں  مانگنا اور سجدہ کرنا جائز نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد بتوں اور قبروں کی پوجا کرنے والے کافروں کو شریعت کے راستے کی طرف لانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ طالبان کی ایک نئی قسم پاکستان میں آ رہی ہے۔ سلیم اللہ کا دعوی تھ اکہ زیادہ تر مسلمان نظام خلافت کے حامی ہیں  اور پاکستان کی انٹیلی جینس ایجنسیاں بھی ان کے ساتھ ہیں۔ 

جب خلاقت قائم ہو جائے گی تو  ہمارا فرض ہو گا کہ تمام مزارات کو ڈھا دیں  اور اس کا آغاز ہم سہون شریف کے دربار کو ڈھا کر کریں گے۔ سلیم اللہ کی اپنی تنظیم کے پاکستان بھر میں 5 ہزار کےقریب مدارس ہیں  اور وہ سندھ میں مزید 1500 مدارس کے قیام پر غور کر رہے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق آج کل پاکستان میں مدرسوں کی تعداد 1947 کے مقابلے میں تین گنا بڑھ چکی ہے اور کل تعداد 8000 سے تجاوز کر گئی ہے۔ مذہبی گلوکاروں کو ریڈیکل بنا دیا گیا ہے اور بہت سی صوفی درگاہوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ 2010 میں داتا دربار کو بھی حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ امجد صابری کو کھلے عام قتل کر دیا گیا۔ ساوتھ ایشیا میں اس کی گہری جڑہوں کی بدولت صوفی ازم کا پیغام داعش کے لیے تباہی کا سبب بن رہا ہے  اور ہر طرح کے فنڈا منٹلازم کے ادارے اپنے آپ کو خطرے میں محسوس کرتے ہیں۔ 

سہون شریف کے ایک کافر نے کچھ سال پہلے وہابی ملاوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا: پیار کے پیغام کے بغیر یہ لوگ محمد ﷺ کے پیغام کے اصل معنی کو بگاڑ رہے ہیں۔ اگر پاکستانی حکومت سکولوں پر رقم خرچ کر پائے اور بچوں کو ملک کی اقدار اور مذہبی تعلیمات سے صحیح طرح آگاہ کرے  اور تعلیم کا کام سعودی عرب کے ہاتھوں میں ڈال کر ایف 16 خریدنا بند کرے تو ملک کی حالت بہتر ہو سکتی ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ پاکستان بھی بہت جلد 9/11 سے قبل کے افغانستان کی شکل اختیار کر لے گا  جہاں ریڈیکل اور تشدد پسند لوگوں کو کھلے بازوں سے خوش آمدید کہا جاتا ہے ۔ یہاں داعش جیسے گروپ بہت تیزی سے رسوخ حاصل کر رہے ہیں  ۔ اس ملک میں اقلیتوں اور  ماڈریٹ مسلمانوں کو بے دردی سے قتل کر دیا جاتا ہے جو ایک خوفناک حقیقت ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *