تجرباتی سائنس کی بنیاد مسلمانوں نے ہی رکھی ، مسلمان سائنس دانوں کے کارنامے!

3

لاہور۔ شاید ہی دنیا کا کوئی علم ایسا ہو جسے مسلمانوں نے حاصل نہ کیا ہو۔ اسی طرح سائنس کے میدان میں بھی مسلمانوں نے وہ کارہائے نمایاں انجام دیے جو رہتی دنیا تک قائم رہیں گے۔ گو کہ آج اہل یورپ کا دعویٰ ہے کہ سائنس کی تمام تر ترقی میں صرف ان کا حصہ ہے، مگر اس حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ تجرباتی سائنس کی بنیاد مسلمانوں نے ہی رکھی ہے اور اس کا اعتراف آج کی ترقی یافتہ دنیا نے بھی کیا ہے۔ اس ضمن میں ایک انگریز مصنف اپنی کتاب ’’میکنگ آف ہیومینٹی‘‘ میں لکھتا ہے کہ ’’مسلمان عربوںنے سائنس کے شعبہ میں جو کردار ادا کیا وہ حیرت انگیز دریافتوں یا انقلابی نظریات تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ آج کی ترقی یافتہ سائنس ان کی مرہون منت ہے‘‘۔ ایک دوسرا انگریز مصنف جان ولیم ڈریپرا اپنی کتاب ’’یورپ کی ذہنی ترقی‘‘ میں لکھتا ہے کہ مسلمان عربوں نے سائنس کے میدان میں جو ایجادات و اختراعات کیں وہ بعد میں یورپ کی ذہنی اور مادی ترقی کا باعث بنیں۔

آٹھویں صدی سے بارہویں صدی عیسوی میں مسلمان سائنس پر چھائے رہے۔ جس وقت مسلمان سائنس میں نئی نئی ایجادات اور انکشافات کر رہے تھے، اس وقت سارا یورپ جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ یہ مسلمانوں کا سنہری دور تھا۔ اس دور میں الخوارزمی، رازی، ابن الہیشم، الاہروی، بو علی سینا، البیرونی، عمر خیام، جابر بن حیان اور فارابی جیسے سائنس دان پیدا ہوئے۔ اگر یہ کہا جائے کہ دنیا ابھی تک البیرونی جیسی شخصیت پیش نہیں کر سکی تو غلط نہ ہوگا۔ جو بیک وقت ماہر طبیعات، ماہر لسانیات، ماہر ریاضیات، ماہر اراضیات وجغرافیہ دان، ادیب و طبیب اور مورخ ہونے کے ساتھ ساتھ شاعر اور کیمیا دان بھی تھا۔ البیرونی نے 180 کتابیں تصنیف کی ہیں۔ البیرونی نے ثابت کیا کہ روشنی کی رفتار آواز کی رفتار سے زیادہ ہوتی ہے۔ فلکیات پر البیرونی نے کئی کتابیں تحریر کیں۔ دنیا آج بھی البیرونی کو بابائے فلکیات کے نام سے یاد کرتی ہے۔

بو علی سینا فلسفہ اور طب میں مشرق اور مغرب کے امام مانے جاتے ہیں۔ ابن سینا نے تقریبا 100 کے قریب تصانیف چھوڑی ہیں۔ بو علی سینا کے بارے میں پروفیسر براؤن کا کہنا ہے کہ جرمنی کی درس گاہوں میں آج بھی بو علی سینا کی کاوشوں سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ بو علی سینا اور محمد بن ذکریا الرازی کی تصاویر اب بھی پیرس یونیورسٹی کے شعبہ طب میں آویزاں ہیں۔

ساری دنیا آج بھی جابر بن حیان کو بابائے کیمیا مانتی ہے۔ جابر بن حیان نے شورے، گندھک اور نمک کا تیزاب ایجاد کیا۔ واٹر پروف اور فائر پروف کاغذ بھی جابر بن حیان کی ایجاد ہے۔ روشنی پر دنیا کی سب سے پہلے جامع کتاب ’’المناظر‘‘ ابن الہیشم نے لکھی۔ پن ہول کیمرے کا اصول بھی پہلے انہوں نے دریافت کیا۔ ابن الہیشم بابائے بصریات بھی کہلاتے ہیں۔ مشہور مسلمان ماہر فلکیات و ریاضی دان اور شاعر عمر خیام نے ’’التاریخ الجلالی‘‘ کے نام سے ایک ایسا کلینڈر بنایا جو آج کل کے رائج کردہ گریگورین کلینڈر سے بھی زیادہ صحیح ہے۔ ابو القاسم الزاہروی آج بھی جراحت (سرجری) کے امام مانے جاتے ہیں۔ ان کی سب سے مشہور کتاب ’’التصریف‘‘ ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے زخم کو ٹانکا لگانے، مثانے سے پتھری نکالنے اور جسم کے مختلف حصوں کی چیر پھاڑ کے متعلق بتایا۔ یہ کتاب کئی صدیوں تک یورپ کی طبی یونیورسٹیوں میں بطور نصاب پڑھائی گئی۔

ابو جعفر محمد بن موسیٰ الخوارزمی نے فلکیات، ریاضی اور جغرافیہ میں نام پیدا کیا۔ گنتی کا موجودہ رسم الخط ایجاد کیا اور گنتی میں صفر کا استعمال سب سے پہلے انہوں نے کیا۔ الجبرے کا علم معلوم کیا اور مثلث ایجاد کی۔ الجبرے پر ان کی مشہور کتاب ’’حساب الجبر و المقابلہ‘‘ اٹھارہویں صدی تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں بطور نصاب پڑھائی جاتی رہی۔ موسیقی میں ابتدائی سائنسی تحقیق ابو نصر محمد فارابی نے کی۔ چیچک کا ٹیکا سب سے پہلے محمد بن زکریا نے ایجاد کیا۔ رازی دنیا کے پہلے طبیب تھے جنہوں نے چیچک اور خسرہ پر مکمل تحقیقات کیں اور چیچک کا ٹیکا ایجاد کیا۔ اس کا اعتراف انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں بھی موجود ہے۔ ابن یونس نے پنڈولیم کا اصول ایجاد کیا۔ ابو الحسن نامی مسلمان سائنسدان نے سب سے پہلے دوربین ایجاد کی۔ انسانی جسم میں خون گردش کرتا ہے۔ یہ نظریہ سب سے پہلے ابن النفیس نے پیش کیا۔

یہ ہیں مسلمان سائنس دانوں کے وہ روشن کارنامے جن سے اہل یورپ والے بھی روشنی لیتے رہے لیکن کئی مغربی مصنفوں اور مورخین نے اسے اپنے سائنس دانوں سے منسوب کر دیا۔ ستم تو یہ ہوا کہ خود ہمارے لکھنے والوں نے اسے انگریزوں اور دوسرے یورپی سائنس دانوں کا کارنامہ سمجھا اور لکھا۔ یہ سب کچھ مغربی مصنفین کی تحریروں پر اندھا اعتماد کرنے سے ہوا:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *