پرانے دور کی اختتامی ساعتیں

ایازا میرAyaz Amir

اسحقٰ ڈار کا یہ کہنا کہ حکومت پی ٹی آئی سے غیر مشروط مذاکرات پر آمادہ ہے، کسی دانائی یابصیرت کا اظہار نہیں بلکہ اب حکومت کے پاس ’’دانائی‘‘ کے سوا کوئی اور آپشن بچا ہی نہیں۔ پہلے اسلام آباد میں30 نومبر کے عظیم الشان جلسے اور پھر آٹھ دسمبر کوفیصل آباد بند ہوجانے کی ٹھکائی سے حکومت کی عقل ٹھکانے آنا شروع ہوگئی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کہاں کی بات چیت، کہاں کے مذاکرات.... دراصل لاتوںکے بھوت لاتوں سے کم پر راضی نہیں ہوتے۔
حکمرانوں کی گردن کا سریا پگھل چکاکیونکہ عمران خان اور پی ٹی آئی میرے تصورات سے کہیں بڑھ کے سخت جان اور پر عزم ثابت ہوئے۔ میری رائے کو ایک طرف رکھیں کیونکہ میںنے کبھی بھی عمران کو بطور ایک سیاست دان سنجیدگی سے نہیں لیا تھا۔ میں نے کتنی مرتبہ غیر ملکی صحافیوںسے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عمران اپنی تمام تر خوبیوں کے باوجود ایسے جوش سے تہی داماں ہے جو عوام کا خون گرماتے ہوئے اُن میں تحریک پیدا کرتا ہے،اور کچھ عرصہ پہلے تک عمران کے بارے میں عمومی تصور یہی تھا لیکن یہ اُس وقت کی بات تھی جب وہ اکیلے ہی میدان میں تھے اور ان کی کرکٹ کے حوالے سے پہچان سیاسی شہرت کے ٹکسال میں ڈھلنا شروع نہیںہوئی تھی۔ تاہم اُنھوں نے ثابت قدمی دکھائی۔ یہ بات میں پہلے بھی کہہ چکاہوں، پھر دہرانے کی اجازت چاہتاہوں کہ کوئی عام انسان ایسی ثابت قدمی نہیں دکھاسکتا تھا۔ وہ بہت دیر پہلے ہی ہمت ہار کر مایوسی کی گرد میں کھو جاتااور اپنے ہم وطنوں کو کوستا کہ وہ کھوٹے کھرے کی پہچان کرنے کے اہل نہیں۔
2013کے انتخابات میںجب پی ٹی آئی ملک کی دوسری یا تیسری بڑی جماعت بن کر ابھری تویہ پی ایم ایل ( ن) کی انتخابی کامیابی سے بہت پیچھے تھی۔ جب عمران نے انتخابی دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے چار حلقوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی بات کی تو اُنہیں کس نے سنجیدگی سے لیا تھا؟جب میں نے لاہور مال پر واقع ایک ہوٹل ،جہاں میں ٹھہرا ہوا تھا، کی کھڑکی سے 14 اگست کا لانگ مارچ دیکھا تو شرکا ءکی تعداد زیادہ متاثر کن نہیں تھی۔ ان کی حالت ایک تھکی ماندی فوج کی طرح تھی جسے اپنی مہم اور مقاصد کا علم نہ ہو۔ اس کے بعد کنٹینر سے تقاریر شروع ہوگئیں اور حکمران جماعت کے پیشہ ور چمچے، گفتار کے غازی اور مبصرخوش گمانی کے سمندر میں غرق ، طائوسی لہجے اور پررعونت اندازمیں،کہ فقط وہی قوم کے نبض آشنا ہیں، ان پر استہزائیہ جملے کسنے لگے، تنقید اور توہین کاامتزاج سیاسی بیانیہ بن کر سنائی دینے لگا۔ علامہ قادری اور عمران کو جمہور مخالف قرار دے کر جمہوریت کے تحفظ کے عہد وپیمان دیکھنے میں آئے۔ کہا گیا کہ ان کے پیچھے کوئی خفیہ ہاتھ .... ہمارے ہاں خفیہ ہاتھوں کی کمی نہیں لیکن وہ اتنے دانا کب سے ہوگئے ہیں؟
تاہم یہ گفتارکے غازی خوش گمانی کے گھوڑوں پر ہی سوار رہے اور زمینی حقائق بدلنا شروع ہوگئے۔ مظاہرین نے پھیلائی جانے والی قنوطیت کو درخور ِ اعتنا نہ جانا ۔ ہر روز قادری صاحب عوام کو آئین اور قانون کی سربلندی کا لیکچر دیتے جبکہ ان کے کارکنوں نے پنجاب پولیس کو خدا کا خوف یاددلانا شروع کردیا۔ یہ ایک اہم پیش رفت تھی کیونکہ پنجاب پولیس کا ہمت ہارجانا.... خاص طور پر ماڈل ٹائون سانحے کے بعد.... حکمران طبقے کے قلعے میں نقب لگاگیا۔ اس کے ساتھ عدم تحفظ کی بے یقینی نے حکمرانوں کو گھیر لیا اور جیسا کہ میں نے کہا، سریا پگھلنے کا آغاز ہوگیا۔ وزیر ِ داخلہ ، جو اب تک عملی طور پر سلیمانی ٹوپی پہن چکے ہیں.... ویسے ادھر ہی کہیں ہیں....نے تیس اگست کی شام شاہراہ ِ دستور پر طاقت کا استعمال کرنے کا تجربہ کیا اور پولیس نے ان کی براہ ِ راست ہدایات کی روشنی میں اندھی طاقت استعمال کرکے دیکھ لی لیکن بے سود۔ سینکڑوں کارکن زخمی ہوئے لیکن، خاص طور پر علامہ صاحب کے پیروکاروں کے پائے استقلال میں لرزش نہ آئی۔ یہ پولیس تھی جسے پیچھے ہٹنا پڑا۔ یہ آخری موقع تھا جب مظاہرین کے خلاف سرکاری طاقت استعمال کی گئی۔ فیصل آباد میں پی ٹی آئی کو روکنے کے لئے پی ایم ایل (ن) کے کارکنوں کو استعمال کرنے کی حماقت حکومت کے اپنے گلے پڑگئی۔
عمران کے خطبات ِ شب گزیدہ حوصلگی اور جرأت کا پیغام عوام کے دل میں اتارنے میں کامیاب رہے۔پی ٹی آئی کو برگر یا ممی ڈیڈی پارٹی کہا جاتا تھالیکن آج اس کے کارکن بے خوف ہیں ۔ ان کے سامنے اپنے لیڈر کی جرأت ایک روشن مثال کی طرح ہے۔ آپ ان پر جتنی مرضی تنقید کرلیں.... یہ آپشن سب کےلئے کھلا ہے.... لیکن جس طرح پی ٹی آئی کے قائد نے بغیر تیاری کے مختصر نوٹس پر عوامی احتجاج کی مثال قائم کی ہے اور جس طرح مظاہرین نے ان کے حوصلہ کو مزید اعتماد بخشا ہے، اس پر غالب کی زبان میں یہی کہا جاسکتا ہے....’’خوی ٔ تو ہنگامہ زا‘‘۔ سچ پوچھیں تو مجھے شک تھا کہ وہ فیصل آباد کو بند نہیں کرسکیںگے لیکن شہر نے ان کی کال پر اس طرح ردعمل ِدیا کہ پی ایم ایل (ن) کے ہوش گم ہوگئے۔باقی تبدیلیاں نظرانداز کردیں، کیا یہ کم ہے کہ ایک بڑی تعداد میں نوجوان لڑکیاں اور خواتین احتجاجی مظاہروں میں شامل ہیں؟ ہمارے ملک میں ایسا پہلے کب ہوتا تھا؟خواتین، اس خوف سے بے نیاز کہ کوئی اُنہیں چھیڑے گا یا تنگ کرے گا، بے دھڑک جلسوں میں بیٹھی ہیں ۔ پاکستان کے روایتی معاشرے میں اس سے بڑا اور کیا انقلاب ہوگا؟تاریخ کی ستم ظریفی ملاحظہ فرمائیں، زرداری نے پی پی پی کا سرپرست اور ملک کا صدر بن کر ہی پی پی پی کا پنجاب کی حد تک دھڑن تختہ کرنا تھا۔ یہ وہ کا م تھا جو جنرل ضیا اور آئی ایس آئی کے یکے بعد دیگر ے آنے والے کئی سربراہ نہ کرسکے۔اسی طرح شریف برداران نے بھی تیسری مدت کے اقتدار میں آناتھا تاکہ عوام کے سامنے ان کا کھوکھلا پن پوری طرح عیاں ہوسکے۔ آج دولت کے انبار لگانے والے نااہل حکمرانوں کے مقابلے میں عمران کہیں بہتر سیاست دان ثابت ہورہے ہیں۔
اکتوبر 99ء میں مشرف کے شب خون نے شریف برادران کو سیاسی شہید بنا کر جمہوریت کا چمپئن بنادیا، لیکن خوش قسمتی سے اس اگست میں فوج نے مداخلت سے اجتناب کیا حالانکہ بار ہاایسے مواقع آئے جب سیاسی پنڈتوں کو شب خون کے آثار دکھائی دے رہے تھے۔ اگر ایسا ہوتا تو ایک مرتبہ پھر حکمرانوں کی خامیاں نظروںسے اوجھل ہوجاتیں اوروہ زیادہ طاقت سے میدان میں آجاتے۔ کچھ ناگزیر واقعات کا مداوا نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی انہیں روکا جاسکتا ہے۔ مشرف کی وردی اترنے کے بعد ق لیگ کی تباہی ناگزیر تھی۔ زرداری کے تخت پر بیٹھنے کے بعد پی پی پی کی پنجاب میں تباہی کے راستے کو نہیں روکا جاسکتا تھا۔ آج شریف برداران بھی اسی راہ کے مسافر ہیں، چنانچہ منزل سے مفر ممکن نہیں۔ دراصل اُنہیں پی پی پی کے مقابلے میں کھڑا کیا گیا تھا، آج جب پی پی پی نہیں تو ان کی ضرورت بھی ختم۔ جہاں تک پاکستان کے موجودہ مسائل کا تعلق ہے تو سب کو علم ہے کہ ان کا حل موجودہ حکمرانوں کے بس کی بات نہیں۔
اس وقت تک ان کی کارکردگی اور خوبیاں، جو بھی ان کے پلے تھیں، سب کے سامنے آچکی ہیں۔ ان کی ستائش کے خوگر ایمانداری سے بتائیںکہ کیا قوم کو مصائب سے نکالنے والے رہنمائوں کا طرز ِعمل ایسا ہوتا ہے؟ پاکستان مزید تین یا چار سال لیپ ٹاپ تقسیم کرنے یا مزید میٹرو بس سروس قائم کرنے کے بل بوتے پر نہیں چل سکتا۔ موجودہ حکمرانوں کی تخیل ِ پرواز اس سے آگے رسائی نہیں رکھتی۔ آپ اُنہیں چوتھی مرتبہ بھی منتخب کرلیں ، وہ لیپ ٹاپ اور فلائی اوور کی دنیا سے باہر نہیں جھانک سکتے۔ ان کی دنیا میں نہ کسی کو اسپتال درکار ہوتے ہیں اور نہ ہی تعلیمی ادارے، بس سڑکیں اور فلائی اوور۔ لیکن ان کی بدقسمتی ہے کہ آج کا پاکستان 1990کی دہائی والا پاکستان نہیں ہے....جب آئی ایس آئی سیاست دانوں میں رقم تقسیم کرتی تھی۔ آج ملک کو درپیش نئے چیلنج نئی قیادت کا تقاضا کرتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے جلسوں میں آپ اس نئے پاکستان ، اس کی نئی قیادت اور تبدیل ہوتے ہوئے نئے سیاسی امکانات کی جھلک دیکھ سکتے ہیں۔ یہاں عوامی جوش، موسیقی، رنگ ، جذبات اور سیاسی تصورات ہم آہنگ ہوکر ایک نئے معاشرے کے خدوخال تشکیل دے رہے ہیں۔ یہاں متوسط اور رئیس، دونوں موسیقی کی دھمک پر رقص کناں ہیں۔ پرانی طرز ِ سیاست، جس کی نمائندگی عابد شیر علی، رانا ثنا اﷲ، پرویز رشید، نثار، سعد رفیق ،خواجہ آصف ، اسحٰق ڈارکرتے ہیں.... حیرت سے محو ِ لب ِ بام ہے جبکہ عمران کنٹینر سے اتر کر میدان میں کود چکے ہیں۔اس وقت پی ایم ایل (ن) کی سب سے اہم حکمت ِ عملی یہی ہے کہ وہ چالیں چلنا چھوڑدے اور انتخابی بے قاعدگیوں کو درست کرنے کے لئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دے۔ بہتر ہے کہ ایسا جلد ہی کرلے کیونکہ طوفان امنڈتاچلاآرہا ہے اور اس کے پاس وقت بالکل نہیں ۔ اس وقت ملک کو تازہ انتخابات کی ضرورت ہے۔ امید ہے کہ ہم جلد ہی ملک میں انتخابی معرکے کی دھمک سنیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *