مذاکرات کی بحالی خوش آئند مگر

رؤف طاہرrauf

ساڑھے تین ماہ کے تعطل کے بعد حکومت اور تحریکِ انصاف میں مذاکرات کی بحالی وطنِ عزیز کی تعمیروترقی اور یہاں آئینی و جمہوری نظام کے تسلسل میں یقین رکھنے والے ہر پاکستانی کے لئے اطمینان کا باعث ہے۔ کپتان کے بقول، وزیراعظم کے استعفے سے دستبرداری کے بعد اب اس کی تمام تر تگ و تاز حکومت اور تحریکِ انصاف میں (ان ) مذاکرات کی بحالی کے لئے ہے جن کا آخری سیشن 30اگست کو جہانگیر ترین کی رہائش گاہ پر ہواتھا، میڈیا سے گفتگو میں فریقین نے اس پر اطمینان کا اظہار کیا تھااور پھر اسی شام پرائم منسٹرہاؤس سمیت ریڈ زون میں واقع حساس ترین قومی اداروں پر دھاوے کے بعد یہ سلسلہ معطل ہوگیا تھا۔جمہوری معاشروں میں معاملات اور تنازعات تصادم کے ذریعے نہیں مکالمے اور مذاکرات کے ذریعے طے کئے جاتے ہیں۔ منتخب ادارے اس کے لئے بہترین فورم ہوتے ہیں۔ مذاکرات باہر بھی ہوسکتے ہیں اور آئینی ضرورت ہو تو منتخب ادارے سے ان کی توثیق کرائی جا سکتی ہے۔ نئے مذاکرات کے لئے اسحاق ڈار اور احسن اقبال پر مشتمل دو رکنی حکومتی کمیٹی کے مقابل عمران خاں نے شاہ محمود قریشی کی سربراہی میں اسد عمر، شفقت محمود اور عارف علوی پر مشتمل چار رکنی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ جمعرات کی شام احسن اقبال اور اسد عمر میں ملاقات بھی ہوچکی۔ تحریکِ انصاف کے میڈیا سیل کے اعلامیے کے مطابق، مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے ، فریقین میں ابتدائی ملاقات انتہائی تعمیری اور سود مند رہی ۔
نیک توقعات اور خواہشات اپنی جگہ لیکن مذاکرات کے تسلسل اور مثبت پیش رفت کے لئے سازگار ماحول کی فراہمی بھی ضروری ہے، اس کے لئے ضروری ہے کہ سیاسی درجۂ حرارت کم کیا جائے، تصادم اور کشیدگی کی بجائے تعاون اور مفاہمت کا جذبہ بروئے کار آئے۔مذاکرات کی میز پر بیٹھ جانے کے بعد فریقین تلواریں میان میں ڈال لیتے ہیں۔ ایوب خاں اور اپوزیشن کی 8جماعتوں پر مشتمل جمہوری مجلس ِ عمل میں مذاکرات کے دوران ان جماعتوں نے اسٹریٹ ایجی ٹیشن معطل کر دیا تھا۔ (مغربی پاکستان میں بھٹو صاحب اور مشرقی پاکستان میں مولانا بھاشانی نے مذاکرات کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ایجی ٹیشن جاری رکھا۔ ایوب خان نے مذاکرات کے آغاز سے قبل ہی آئندہ انتخابات میں اُمیدوارنہ ہونے کا اعلان کردیا تھا انہوں نے بالغ رائے دہی (آڈلٹ فرنچائز ) اور وفاقی پارلیمانی نظام کی بحالی کے دونوں بنیادی مطالبات بھی تسلیم کرلئے لیکن مذاکرات کا بائیکاٹ کرنے والوں نے مغربی اور مشرقی پاکستان میں ایجی ٹیشن جاری رکھا۔ نتیجۃً جنرل یحییٰ اور اس کے ہم نوالہ و ہم پیالہ رفقا کو شب خون مارنے کا موقع مل گیا۔ بھٹو صاحب کے ساتھ مذاکرات کا آغاز ہوا تو پی این اے نے ڈھائی ماہ سے جاری اسٹریٹ ایجی ٹیشن معطل کر دیا۔ 34دن جاری رہنے والے مذاکرات 5جولائی کی شب مارشل لا پر منتج کیوں ہوئے، وہ ایک الگ کہانی ہے۔
پرویزرشید کی طرف سے عمران کو ’’زبان کو لگام دینے‘‘ کا مشورہ قدرے سخت سہی لیکن اس کے مفہوم و مدعا سے اختلاف ممکن نہیں۔ مذاکرات کے آغاز کے ساتھ یہ توقع بے جا نہ تھی کہ عمران اپنے پلان سی کا باقی ماندہ حصہ ملتوی کر دیں گے لیکن وہ جمعرات کی شام بھی کنٹینر پر ہمیشہ کی طرح سخت زبان استعمال کر رہے تھے(وزیراعظم کے لئے ’’مسٹر ڈاکو‘‘ کا خطاب)کراچی میں جمعہ کو ہونے والے احتجاج کو وہ پرامن قرار دے رہے تھے۔ اہلِ فیصل آباد کی طرح کراچی والوں سے بھی ان کا کہنا تھا، کسی کے ساتھ زور زبردستی نہیں ہوگی۔ جس کی مرضی دُکان کھولے ، جس کی مرضی بند رکھے لیکن متوازن و معتدل شخصیت کا امیج رکھنے والے نرم خو عارف علوی بے قابو ہوئے جار ہے تھے۔ سندھ تاجر اتحاد کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے اور کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد، گاڑیاں چلانے کا اعلان کر رہا تھا اور ’’سافٹ اسپوکن‘‘ عارف علوی کا کہنا تھا، کل کراچی میںکوئی گاڑی نہیں چلنے دی جائے گی۔ کوئی دُکان نہیں کھلے گی، بندرگاہ بھی بند ہوگی۔ پیپلز پارٹی اور اس کی صوبائی حکومت کے علاوہ ایم کیو ایم نے بھی ہڑتالیوں کو فری ہینڈ دینے کا فیصلہ کیاتھا۔ کراچی میں احتجاج کی کال پر عمل درآمد کس حد تک رضاکارانہ رہا؟ ناظرین ٹی وی اسکرینوں سے خود اندازہ کرسکتے ہیں۔ خدا کا شکر ہے تادمِ تحریر (ایک بجے دوپہر تک )کوئی لاش نہیں گری تھی ۔ صوبائی حکومت، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی حکمتِ عملی کے باعث، کراچی’’پرامن طور پر‘‘ بند تھا۔
عمران کا کہنا تھا ، انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن بن جائے تو وہ اپنی احتجاجی تحریک کو کال آف کردیں گے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جوڈیشل کمیشن حکومت نے نہیں، جناب چیف جسٹس نے تشکیل دینا ہے، وزیراعظم نے تو 12اگست کو اپنی نشری تقریر میں اس کا اعلان کرنے کے ساتھ ، اگلے روز قابلِ احترام چیف جسٹس کو اس کے لئے باقاعدہ خط بھی لکھ دیا تھا۔ حکومت نے جمعرات کو سپریم کورٹ کو ایک اور خط بھی لکھ دیا جس میں جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے لئے مدت مقرر کرنے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔ آئینی ماہرین کے مطابق اس میں ایک رکاوٹ آئین کا آرٹیکل 225 بھی ہے جس کے تحت انتخابی عذرداریوں کا فیصلہ صرف الیکشن ٹربیونلز ہی کر سکتے ہیں۔ عمران خان کو سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری صاحب نے بھی یہی جواب دیا تھا،اب جنا ب ناصرالملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ 2013 کے عام انتخابات کو کالعدم قرار دینے کے لئے دائر کی گئی درخواستوں کو بھی اسی بناء پر مسترد کرچکی ہے۔ پھر مسئلہ جوڈیشل کمیشن کے ٹرمز آف ریفرنس کا بھی ہے۔ جناب انصار عباسی کا یہ انکشاف دلچسپ ہے کہ تحریکِ انصاف کے قانونی ماہرین کا مشورہ ہے کہ عمران خاں نے انتخابی دھاندلیوں کے حوالے سے سابق چیف جسٹس جناب افتخار چوہدری ، نگران وزیراعلیٰ نجم سیٹھی، جناب نوازشریف ، جنگ/جیو کے چیف ایگزیکٹو ، الیکشن کمیشن کے ارکان اور ریٹرننگ افسروں پر جو الزامات لگاتے رہے، ان کی تحقیقات کو ٹرمز آف ریفرنس میں شامل نہ کیا جائے کہ کنٹینر پر کی جانے والی تقریروں ، پریس کانفرنسوں میں جاری کئے گئے بیانات اور ٹاک شوز کی گفتگو کی حد تک تو یہ ٹھیک ہیں، لیکن جوڈیشل کمیشن کے روبرو تو انہیں باقاعدہ دلائل اور شواہد کے ساتھ ثابت کرنا پڑے گا، اور اس حوالے سے ان کی پٹاری میں کچھ نہیں۔ لاہور کے حلقہ 122 (عمران خاں vs ایاز صادق)کی سماعت کرنے والے جناب کاظم علی ملک پر مشتمل ٹربیونل کے سامنے بھی عمران خاں سخت مشکل میں تھے۔
انہوں نے دھاندلی کی گواہی کے لئے جو 6پولنگ ایجنٹ پیش کئے، اِن میں سے کسی ایک کا تعلق بھی ان پولنگ اسٹیشنز سے نہیں تھاجہاں دھاندلی کی شکایت کی گئی تھی۔ عمران کا کہنا تھا، اسپتال میں زیرعلاج ہونے کی وجہ سے وہ کسی ایک دھاندلی کے بھی عینی شاہد نہیں۔ انہیں دھاندلی کی اطلاع ان کے چیف پولنگ ایجنٹ شعیب صدیقی نے دی تھی، شعیب صدیقی خود یہاں صوبائی اسمبلی کے حلقہ 147 سے تحریک ِ انصاف کے اُمیدوار تھے اور قانوناً وہ کسی دوسرے اُمیدوار کے پولنگ ایجنٹ نہیں بن سکتے تھے۔مزید دلچسپ بات یہ کہ شعیب صدیقی کی شہادت بھی عمران نے ٹربیونل میں نہ کروائی۔
المختصر یہ کہ وہ انتخابی دھاندلی کا کوئی ایک بھی چشم دید گواہ پیش نہ کرسکے۔ سارا انحصار سنی سنائی باتوں پر تھا۔ وہ ایاز صادق کی طرف سے عائد کئے گئے کسی اعتراض کا کوئی جواب نہ دے سکے اور آخر ِ کار وہ یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ ان کے پاس کوئی ثبوت، کوئی شہادت نہیں، جو کچھ بھی ہے ، تھیلوں میں ہے۔عمران خوش قسمت ہے کہ جناب کاظم علی ملک نے اس کے باوجود تھیلے کھولنے کا حکم جاری کردیا ہے۔ اس سے قبل سعد رفیق کے خلاف عذرداری کی سماعت کے دوران حامد خاں کے وکلاء جناب ملک سے بدتمیزی پر اُتر آئے تھے، یہاں تک کہ انہوں نے اس پٹیشن کی سماعت سے معذرت کرلی اور الیکشن کمیشن کو لکھ بھیجا کہ وہ اِسے کسی اور ٹربیونل میں منتقل کردیں۔ اب یہ کیس فیصل آباد ٹربیونل میں زیرسماعت ہے۔انہی دنوں عمران کا یہ بیان بھی سامنے آیا کہ جوڈیشل کمیشن نے انتخابات کو فیئر اور فری قرار دیا تب بھی وہ اسمبلیوں میں نہیں جائیں گے، بلکہ نئے انتخابات کی تیاری کریں گے۔ گویا نئے انتخابات کے لئے تحریک جاری رکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ دِنوں کی طرح دلوں کو بھی پھیرنے پر قادر ہے تو کیوں نہ اُمید رکھی جائے کہ جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ آنے کے بعد عمران خاں اپنے رویے پر نظرثانی کریں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *