پاکستانی سیاستدانوں کو شہریوں سے زیادہ شاہانہ شادیوں کی فکر ہے۔

fatima-razaفاطمہ رضا

آپ تصور کیجیے  کہ روشنیاں چھت پر اور اسکی آنکھوں میں جگمگا رہی ہوں۔ ریشم، شفون، سیٹن، ویلویٹ  موجود ہو اور ان کی سلوٹیں پانی کیطرح نرم و نازک ہوں۔ جیولر موتیوں اور سونے کے زیورات سے بھرے ڈبے لے کر آیا جس میں بہت ہی چمکدار موتی ، سونے کی زیورات، سمندر جیسے نیلے موتی، سکارلٹ روبی، اور ایمرلڈ جیسے خوبصورت زیورات ہیں۔ وہاں چمکدار جوتے، سہانی خوشبوئیں، بہت سے کھانے، گفٹ بیگ اور دوسری شان و شوکت کی چیزیں ہیں۔ صالحہ اپنی ماں کے پیچھے چھپی بیٹھی تھی اور ہر چیز کو دیکھ کر حیران ہو رہی تھی۔ اس  کی ماں اس خاندان کی ایک عرصہ سے بائی کی حیثیت سے کام کر رہی تھی ۔ اب اس خاندان کی lush weddingبیٹی کی شادی ہونے جارہی تھی  اور جنت اس شادی پر کام میں مدد کے لیے اپنی بیٹی کو ساتھ لائی تھی۔

اس نے پہلی بار اپنی بیٹی کو ساتھ کام پر چلنے کا کہا تھا۔ مختلف کام کرتے ہوئے جنت صالحہ کا پورا دھیان رکھ رہی تھی اور گھبرا رہی تھی کہ اس کی بیٹی کوئی چیز گرا نہ دے جو اتنی مہنگی ہو اور ان کے بھاری پڑ جائے۔ پہلے دن ہی کام سے واپس آ کر صالحہ ایک دم خاموش  تھی۔ اگلے دن جب جنت بیدار ہوئی تو دیکھا کہ صالحہ کہیں جا چکی ہےlush wedding 4 ۔ اس نے آس پاس ڈھونڈنا شروع کیا  اور اسے پیچھے کے کمرے میں بیٹھا ہوا پایا۔ وہ اپنے اس پرانے سوٹ کیس کو گھور رہی تھی جو اس کی ماں نے صالحہ کی شادی کے لیے کپڑوں اور زیورات سے بھر  رکھا تھا۔

 اس میں کچھ ان سلے کپڑے اور کچھ پرانے جوتے تھے جو مالکن نے اسے پچھلی عید پر دیے تھے۔ جنت نے صالحہ کو آوازیں دیں لیکن وہ نہیں ہلی۔ نیچے بیٹھ کر اس نے اپنی بیٹی کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ گر گئی۔ وہ مر چکی تھی۔ اس کے ہاتھ سے چوہے مار دوائی کی بوتل بھی نیچے گِری۔ جنت اپنے حواس کھو بیٹھی۔ کچھ گھنٹوں بعد اس نے بیٹی کی لاش کو کمرے سے نکالا۔ اپنی بیٹی کی لاش کے پاس بیٹھ کرlush wedding 1 وہ سوچنے لگی کہ آخر کس چیز نے اس کی جان لے لی۔

سیدھا الزام تو اس خاندان پر نہیں لگا سکتے جو اپنی بیٹی کی شادی ٹھاٹھ باٹھ سے کروا رہے تھے۔ ایسا کوئی قانون نہیں ہے جو سوسائٹی کے غریب لوگوں کی خود کشی کا ذمہ دار امیر لوگوں کو قرار دے۔ ان کے خلاف کیا کیس بن سکتا تھا؟ کیا یہ بتاتی کہ انہوں نے گھر میں بہت زیادہ روشنیاں پھیلا کر بنگلے کو سجا رکھا تھا یا وہاں بہت سے زیورات موجود تھے؟  قانونی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ کامن سینس  کے خلاف ہو گا کہ ایک خاندان پر اپنی بیٹی کی شادی دھوم دھام کرنے پر مقدمہ درج کروایا جائے۔

لیکن کیا اتنی شان و شوکت سے شادی کرنا ضروری ہے؟ کچھ عرصہ قبل سابقہ وزیر خزانہ اور پیپلز پارٹی کے لیڈر نوید قمر کی بیٹیوں کی شادی بھی شاہانہ طریقے سے تھائی لینڈ میں منعقد ہوئی۔ اس سے سندھ کے لوگوں کو بہت تشویش ہوئی کیونکہ نوید قمر ایسی پارٹی سے ہیں جو اپنے آپ کو پاکستان کے غربا lush wedding 2کی نمائندہ جماعت بتاتی ہے۔ جب ایک لیڈر اس طرح کی شان و شوکت کا مظاہرہ کرنے لگے تو لوگوں کو سوال اٹھانے سے روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔

کئی سال سے تھر کے علاقے میں قحط جاری ہے اور بچے بھوکے مر رہے ہیں کیونکہ انہیں کھانے کو کچھ نہیں مل پا رہا  lush wedding 6جب کہ سیاست دان عیاشیاں کر رہے ہیں اور بیرون ملک جا کر اپنی بیٹیوں کی دھوم دھام سے شادیاں کروا رہے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ صرف سیاسی لیڈر ہی اس چیز کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ ہر وہ پاکستانی جو امیر خاندان میں پیدا ہوتا  ہے  وہ اگر بھوکے مرنے والوں کی مدد نہیں کرتا تو وہ برابر کا ذمہ دار ہے۔ اپنی گھر کی تقریبات پر اچھا انتظام کرنا بری بات نہیں ہے لیکن ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ اس سے دوسرے لوگوں اور خصوصا غربا میں مایوسی نہ پھیلے۔

حال ہی میں ہونے والی انوش منیب شادی پاکستان کی سب سے لمبے عرصہ تک جاری رہنے والی شادی تھی اور ہم نے اس شادی کا ہر لمحہ انجوائے کیا۔ اگرچہ میں شادی شدہ جوڑے کو دعائیں دیتی ہوں لیکن   کیا یہ ضروری تھا کہ وہ شادی پر اس قدر ٹھاٹھ باٹھ کا انتظام کرتے اور کروڑوں روپے خرچ کرتے؟  پچھلے سال جنوری سے ستمبر تک ہم انسٹا گرام پر اس شادی کی تصاویر دیکھتے اور حیران ہوتے رہے۔ نواز شریف کی نواسی مہر النسا کی شادی lush wedding 5بھی بہت زیادہ ہی دھوم دھام سے ہوئی جس میں 4500 مہمانوں نے شرکت کی ۔

اس کے باوجود ایسا لگتا ہے جیسے انہوں نے بہت کم خرچ کیا ہو۔ پانامہ کیس کی نظر سے دیکھیں تو یہ بہت ہی معمولی شادی قرار دی جا سکتی ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ بہت سے لوگ اسے شدت پسندانہ نقطہ نظر قرار دیں گے لیکن  معاشرہ میں ذمہ داری کا احساس پیدا کرنے کے لیے دوسروں کی طرف توجہ دلانی پڑتی ہے۔ پنجاب کے قانون کے مطابق شادیوں میں صرف ایک ڈش کی اجازت ہے  اور رات کو 10 بجے کے بعد شادی ہال بند کرنا لازمی ہے۔ یہی قانون اب سندھ میں بھی رائج ہو چکا ہے لیکن اگر سیاستدان خود اس قانون پر عمل نہیں کریں گے تو اس کی اہمیت کھو جائے گی۔

حال ہی میں بھارت کی لوک سبھا میں جو میرج بل پاس ہوا اس کے مطابق ایک خاندان شادی پر 5 لاکھ روپے سے زیادہ خرچ کرے گا تو اسے 10 فیصد رقم غریب لڑکیوں کی شادی کے لیے دینی ہو گی۔ ہمارے ملک میں اس مثال کو اپنانا چاہیے تاکہ یہاں کے لوگوں کو سماجی دباو اور سٹیٹس اور حیثیت کے دباو سے نجات مل سکے۔ پاکستان میں ایک ایسی پالیسی کی ضرورت ہے جس کے مطابق شادی پر ہونے والے اخراجات کو کنٹرول کیا جائے  اور یہ قانون امیر لوگوں کے لیے بھی اتنا  ہی لازمی ہو جتنا یہ غربا کے لیے ہوتا ہے۔ شادیوں کا مقصد معاشرے میں خوشی بانٹنا ہوتا ہے نہ کہ لوگوں کو ان کی غربت کا احساس دلانا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *