کبھی کبھی پاگل پن بھی ضروری ہے

syed arif mustafa

آسان فیصلوں کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ انہیں کرنا کبھی مشکل نہیں ہوا کرتا لیکن ان میں خرابی یہ ہوتی ہے کہ یہ مشکلات سے نبرد آزما ہونے کے قابل ہی نہیں رہنے دیتے اور افراد ہو یا قومیں ، انکی زندگی میں کبھی کبھی مشکل فیصلے کرنے پڑجاتے ہیں یعنی عمرانی لغت کی رو سےجسے پاگل پن کہتے ہیں وہی کبھی عین دانشمندی ہوا کرتا ہے اور اس پہ عمل ناگزیر ہوجاتا ہے بلاشبہ لاہور میں پی ایس ایل کا فائنل کرانا انتہائی مشکل فیصلہ ہے ،اور اسی لیئے عمران خان نے لاہور میں پی ایس ایل کرکٹ ٹورنامنٹ کرانے کو پاگل پن ٹہرایا ہے ہے لیکن ، میرے نزدیک درحقیقت یہ اب تک کا وہ واحد لائق تحسین فیصلہ ہے جو جاتی امراء کے خاندانی راجوڑے کی طرف سے اس دور اقتدار میں کیا گیا ہے ۔۔۔ اگر لاہور میں فائنل کرانے کا اعلان پہلے ہی سے نہ کیا گیا ہوتا اوراب زبردستی کی بہادری دکھانے کے لیئے اسے لاہور لایا گیا ہوتا تو میں تو تب بھی اسکی تعریف کرتا لیکن اس وقت جبکہ بہت عرصہ قبل ہی یہ مقام مشتہر کیا جا چکا ہے تو دہشتگردوں کی کارروائیوں سے ڈر کے جگہ بدلنے کا عمل تو سراسر بزدلانہ امر ہوگا اور اس سے بلاشبہ دہشتگردوں کے حوصلے ایسے بلند ہونگے کہ باید و شاید ،،،

عمران خان کا یہ بیان یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ ان میں ایک مدبر ہونے کے آثار دو دور تک موجود نہیں ورنہ وہ کبھی بھی اس معاملے پہ تبصرہ نہ کرتے کیونکہ یہ ان معاملوں میں سے ایک ہے کہ جنہیں گفتگو کا موضوع بنانے کی ایسی کوئی خاص ضرورت بھی نہیں تھی کیونکہ اگر حکومت پرامن طور پہ یہ میچ کرنے میں کامیاب رہتی ہے تو خود عمران خان کی عقلی کی رائے کے وزن پہ کئی سوالیہ نشانات لگ جائیں گے اور ویسے بھی سیکیوریٹی کے سخت نظام کو بروئے کار لاکے یہ فائنل کرانا کچھ ایسا ناممکن بھی نہیں ہے کیونکہ اگر حکومت اور سیکیوریٹی ادارے اپنی پوری توجہ اور توانائی کو بروئے عمل لاکے کسی ایک مخصوص جگہ کو سیکیوریٹی کے لحاظ سے محفوظ بنانا چاہیں تو یہ کام کیوں نہیں ہوسکتا آخر بھارتی سیکوریٹی ادارے بھی تو اپنے وزیراعظم کو برسہا برس سے جاری بدترین مخدوش حالات میں بھی کشمیر کے دورے کراتے رہتے ہیں جبکہ یہاں عوامی سطح پہ تو کسی مخالفانہ صورتحال درپیش ہونے کا خدشہ بھی نہیں ،،، تو پھر اس سے کہیں بہتر حالات میں ایک میچ کے انعقاد کا چیلنج قبول کیوں نہیں کرسکتے ۔۔۔ اگر ہم یہ بھی نہیں کرسکتے تو پھر ہمیں نہ کسی ادارے کی ضرورت ہے نہ ہی حکومت کی ۔۔۔ یاد رکھیئے کہ قومیں ہوں یا افراد یا ادارے ،انہیں کبھی نہ کبھی برے حالات اور چیلنوں کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے لیکن اسکے سامنے سے راہ فرار اختیار کرنا اس مسئلے کو مزید بگاڑ تو سکتا ہے لیکن بہتری لانے کا باعث نہیں بن سکتا ۔۔۔ ایسے چیلنجوں کو قبول کرکے مقابلے کے لیئے ڈٹ جانے ہی سے مخالف کا حوصلہ پست ہوسکتا ہے اور مقابل کا حوصلہ پست کرنے کا عملی مطلب یہ ہے کہ آدھی سے زائد جنگ تو ویسے ہی جیت لی گئی-

یہ بھی اپنے ذہن میں رکھیئے کہ رہنماء اپنی قوموں کے پیچھے نہیں چلتے ، وہ قوموں کو وژن دیتے اور منزل کا نشان بتاتے ہیں اور اسکے لیئے رستے کھوجتے ہیں اور منزل تک پہنچنے کے لیئے اپنی قوم کی رہنمائی کرتے ہیں نہ کہ قوم کے اندیشوں اور وسوسوں سے اپنے حواس کھودیتے ہیں ،،، رہنماء کی بصیرت بحرانوں ہی میں تو پتا چلتی ہے ،،، لاریب ہمیں ڈٹ جانا چاہیئے اور دہشتگردی کے سامنے عزم و حوصلے کا بہترین مظاہرہ کرنا ہوگا ،،، جو کہ لرزتی ٹانگوں اور کانپتے لہجے کے ساتھ کبھی ممکن نہیں - میری قوم کا ہرفرد مجھ جتنا ہی اہم ہےاور انکے ساتھ وہاں فائنل میں اسٹیڈیئم میں موجود ہونا میرے لیئے کسی اعزاز سے کم نہ ہوگا،،، تاہم میرے پاس اس میچ کا کوئی ٹکٹ نہیں لیکن اگر مل سکا تو میں کرکٹ سے واجبی سی دلچسپی رکھنے کے باوجود یہ میچ دیکھنے ضرور جاؤں گا.....خطرے کے ہر امکان کی ایسی تیسی ....!!!

[email protected]

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *