پاپ کارن کھائیں ، جان بنائیں

razia syed

آج کی کہانی میں بہت سی کہانیاں پوشیدہ ہیں ، منے میاں ہیں تو انھیں ہر لمحہ اسی طرح بھوک ستاتی ہے جس طرح ٹی وی چینلز کو بریکنگ نیوز کی ضرورت ستاتی ہے ۔ شرجیل ہیں فلموں کے شیدائی ، اور زاہدہ کے ہاں مہمان نوازی تو بس ختم ہی سمجھو اچھا اختلافات تو ان کے چاہے بےشمار ہوں لیکن ایک بات پر یہ بالکل متفق ہیں اور وہ ہے پاپ کارن کی محبت ۔۔

جی بالکل آپ حیران نہ ہوں ، شرجیل تب پاپ کارن کے نشے میں مبتلا ہوئے جب سے انھوں نے سنیما میں فلمیں دیکھنا شروع کیں ، زاہدہ کے گھر مہمانوں کی آمد نے انھیں مائیکرو ویو میں پاپ کارن بنانا سکھا دئیے اب وہ بھی اپنی جگہ درست ہیں ، روز روز آنے والے مہمانوں کا بار کیسے اٹھائیں ، اور منے میاں کو اتنی فکر ویڈیوز گیمز کی نہیں ہوتی جتنا سیاپا ان کی وقت بے وقت کی بھوک نے ڈال رکھا ہے ۔

pop

اب یقینا آپ پوچھیں گے کہ آپ پاپ کارن پر بلاگ کیوں لکھ رہی ہیں حالانکہ پرائی محبت سے آپکا واسطہ ہی کیا ہے ؟ اصل بات یہ ہے کہ ہم اپنے ان تین رشتہ داروں کی محبت میں گرفتار ہیں اوراسی وجہ سے درد مشترک کے طور پر پاپ کارن سے لاشعوری طور پر عشق کرنے لگے ہیں ۔

 مجھے تو اس عشق کی وجہ سے یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ پاپ کارن کی تعریف اور توصیف بیان نہ کرنے سے ہم کسی ’’پاپ ‘‘ کے مرتکب نہ ہو جائیں ۔ تو جناب پاپ کارن بہت ہی قدیم غذا ہے اور اسکے دانے ایک ہزار سال قبل پیرو میں کئی مقبروں میں بھی ملے ہیں۔ یہ تھئیٹرز میں تقریبا انیس سو بارہ سے فروخت ہو رہے ہیں ، اور یہ تھئیٹرز میں اس لئے بیچے جاتے ہیں کہ ان کے کھانے کے بعد شدید پیاس بھی محسوس ہوتی ہے اور فلم بین ڈرنکس بھی خرید لیتے ہیں ۔

پاپ کارن مکئی کے دانے ہوتے ہیں جنہیں زیادہ درجہ حرارت پر بھون لیا جاتا ہے ۔  ان میں وٹامن بی ، آئرن ، پوٹاشیم ، فاسفورس ، زنک ، کوپر اور پوٹاشیم کی وافر مقدار ہوتی ہے ۔امریکن ڈایا بیٹک انسٹی ٹیوٹ کے مطابق  یہ ذیابیطس اور ہارٹ اٹیک سے بچائو میں بھی مدد دیتے ہیں ۔ پاپ کارن دو سٹائلز میں بنائے جاتے ہیں ایک کو سنو فلیک اور دوسرے کو مشروم سٹائل کہا جاتا ہے ، سنو فلیک کیونکہ سائز میں بڑے ہوتے ہیں لہذا یہ فلموں اور تھئیٹرز میں فروخت ہوتے ہیں ۔

امریکا کی پاپ کارن کے ساتھ دوستی بہت پرانی ہے اور مزے کی بات یہ بھی ہے کہ یہاں سب سے زیادہ پاپ کارن کھائے جاتے ہیں یہاں سات سو سے زائد اقسام کے  پاپ کارن اگائے جاتے ہیں  ، امریکی ستر فیصد پاپ کارن گھروں میں اور تیس فیصد سرکس ، تھئیٹرز اور سنیما میں کھاتے ہیں ۔ ۔

امریکی بزنس مینCharles cretorsنے کمرشل بنیادوں پر اٹھارہ سو ترانوے میں پاپ کارن کی مشین ایجاد کی ۔پاپ کارن الینوائے نامی ملک کا سرکاری سنیک بھی ہے وہاں ہر سال پاپ کارن ڈے بھی منایا جاتا ہے اور یہ سلسلہ انیس سو اٹھاون سے جاری ہے ۔

ہم میں سے بہت سے لوگ اس غلط فہمی میں بھی مبتلا ہیں کہ یہ وزن میں کمی کرنے کے لئے بہترین ہیں لیکن صرف اس صورت میں جب ہم ان سے ہی پیٹ بھریں ، کیونکہ اس میں بہت زیادہ پروٹین ہوتی ہے ، جو کہ بھنے ہوئے گوشت اور انڈے سے بھی زیادہ طاقتور ہوتی ہے ۔ اس میں آلو کے چپس سے زیادہ فائبر ہوتا ہے ، گھریلو سطح پر بننے والے پاپ کارن جو مائیکرو ویو میں بنتے ہیں نسبتا کم کیلیوریز کے حامل ہوتے ہیں ۔

تفریحی مقامات پر فروخت ہونے والے پاپ کارن میں کسی بڑے برگر کے مقابلے میں تین سے پانچ گنا تک چکنائی موجود ہوتی ہے ۔تین پیالی پاپ کارن میں ترانوے حرارے اور ایک اعشاریہ پانچ گرام چکنائی ہوتی ہے ۔

شکر والے پاپ کارن میں چار سو حرارے پائےجا تے ہیں ، پاپ کارن کے فوائد بے شمار ہیں ، کیونکہ یہ کاربوہائیڈریٹ اور امانئیو ایسڈ سے بھرپور غذا ہے اس میں انسان کو اعصابی دبائو سے نجات دینے ، موڈ خوشگوار بنانے کی صلاحیت بھی موجود ہے ۔

جہاں تک اسکی کاشت کا تعلق ہے تو خزاں کا موسم اسکی پیداوار کے لئے موزوں ترین ہے ، تو اب آپ بھی پاپ کارن کھائیں اور جان بنائیں لیکن یہ ذہن میں رہے کہ جو پاپ کارن ابھی تیار نہیں ہوتے اور پیکٹ میں بند ہوتے ہیں ، انھیں ٹھنڈی اور خشک جگہ پر سٹور کریں ،  ان کو فریج میں رکھنے کی غلطی نہ کریں تاکہ ان کی نمی ختم نہ ہو سکے،  کیونکہ نمی ختم ہونے سے وہ پھولے ہوئے نہیں بنیں گے جبکہ  کھانے والوں کا منہ پھول کر کپا ہو جائے گا ۔۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *