مذاکرات یا لڑائی؟

Najam Sethiنجم سیٹھی

 پی ٹی آئی اَٹھ دسمبر کو فیصل آباد بند کرانے میں کامیاب رہی حالانکہ یہ شہر پی ایم ایل (ن) کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ تین وجوہات کی بنا پر اس بندش کی توقع کی جارہی تھی.... پہلی یہ ہے کہ ٹریفک روکنے اور کاروبار بندکرانے کے لئے بہت بڑے ہجوم کی ضرورت نہیں ہوتی، پی ٹی آئی کے چند سو مشتعل کارکن ایسا کرسکتے تھے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ حکمران جماعت اور پی ایم ایل (ن) کے رہنمائوں کے مجموعی تحمل کے باوجود پی ٹی آئی کی بدزبانی اور گالی گلوچ کے کلچر سے پی ایم ایل (ن) کے مقامی کارکنان کا مشتعل ہو جانا فطری بات تھی۔ تیسری وجہ کچھ رہنمائوں کے بیانات، خاص طور پر شیخ رشید کے نعرے ’’آگ لگادو، لوٹ لو، مار دو، تباہ کردو....‘‘کے بعد عام شہریوں اور کاروباری طبقے کے دل میں ڈر بیٹھ چکا تھا۔ پولیس، چاہے مسلح ہو یا غیر مسلح، کی موجودگی احتجاجی مظاہرین کو مزید مشتعل کردیتی ہے۔ اس کی طرف سے ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج ، آنسو گیس یا واٹر کینن کا استعمال میڈیا کوریج کا مرکزی منظر بن کر جہاں اس کے اسٹوڈیوز کی رونق بڑھاتا ہے وہاں مظاہرین کے جوش کو بھی مہمیز دیتا ہے، چنانچہ فیصل آباد میں ہونے والے تصادم کی تمام راہیں ہموار ہوچکی تھیں۔ جیسا کہ ظاہر تھا کہ فیصل آباد میں کشیدگی پیدا ہوگی لیکن ایک پراسرار گن مین ، جس کی مبینہ فائرنگ سے مظاہرین میں سے ایک شخص کی ہلاکت ہوئی، کا نمودار ہونا اور پھر اچانک غائب ہوجانابہت سے شکوک و شبہات کو جنم دینے کا باعث بنا۔ ایک دوسرے پر الزامات کے گولے داغے جانے کا سلسلہ شروع ہوگیا اور پی ایم ایل (ن) کی مقامی قیادت کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی گئی۔ اس افسوس ناک پیش رفت سے مبصرین کے اس خدشے کو تقویت ملی کہ پی ٹی آئی کو’’گونواز گو‘‘ تحریک پر مزید تیل گرانے کیلئے لاشوں کی تلاش ہے تاکہ فوج کو مداخلت پر مجبور ہونا پڑے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پی ایم ایل (ن) کی حکومت نے خود کو حالات کے رحم و کرم پر اس طرح کیوں چھوڑ دیا ہے؟یہ اس تاثر کو زائل کرنے کیلئے کیوں کچھ نہیں کرپارہی کہ اس محاذآرائی کی ذمہ داری پی ٹی آئی کے علاوہ اس پر بھی عائد ہوتی ہے۔
اس الزام کی وجہ سے اس کی تو سیاسی ساکھ مجروح ہورہی ہے لیکن پی ٹی آئی کو کوئی نقصان نہیں پہنچ رہا۔ بنیادی طور پر عمران خان کے مطالبات چارحلقوں میں ووٹوں کی تصدیق تک محدود تھے۔ اُنھوں نے الیکشن کمیشن کو اس عمل کو تیز کرنے کا کہا لیکن دھاندلی کے واقعاتی ثبوت پیش نہ کئے۔ اپنی روایتی جھنجھلاہٹ میں اُنھوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحب سے اپیل کی لیکن اُنہیں وہاں سے ریلیف نہ ملا۔ اس پر اُنھوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ ہونہ ہو، سابق چیف جسٹس صاحب اور الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ایم ایل (ن) کے ساتھ مل کر عقربی سازش کرتے ہوئے انتخابات چرا لئے ہیں۔ چنانچہ اُنھوں نے اس مفروضے کو سچ مانتے ہوئے اس کے خلاف تحریک شروع کردی۔ ایک مرحلے پرعمران خان نے ان الزامات کی تحقیقات کے لئے ایک قابل ِ اعتماد جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیالیکن حکومت نے لاپروائی سے کام لیتے ہوئے اسے رد کردیااور کہا کہ اس کے لئے پیش کردہ شرائط ناقابل ِ قبول ہیں۔خاں صاحب کی پیش کردہ شرائط میں یہ بات بھی شامل تھی کہ تحقیقات کے عمل میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کو بھی شامل کیا جائے، اس عمل کو چھے ہفتوں میں مکمل کیا جائے اور اگر کمیشن کو ثبوت مل جائے کہ قومی سطح پر دھاندلی کی گئی تھی تو دوبارہ انتخابات کرائے جائیں۔ محض اشک شوئی کے لئے حکومت نے سپریم کورٹ کو خط لکھ کر جوڈیشل کمیشن کے مطالبہ کی حمایت چاہی لیکن اس کے خدوخال واضح نہ کئے۔ اسی طرح حکومت اپنے حق ِ حکمرانی پر سمجھوتہ کئے بغیر عمران خان کے الزامات کا جواب دینے اور ان کی شکایات کا ازالہ کرنے کے لئے مذاکرات پر بھی راضی ہوگئی ۔ چنانچہ ، جیسا کہ نظر آرہا تھا، وہ گفت و شنید بے نتیجہ ثابت ہوئی۔ اس وقت حکومت کے دل میں اس سازش کا گہرا تاثر موجود ہے کہ دفاعی اداروں کے حکومت سے ناخوش کچھ عناصرعمران خان، طاہر القادری، جنرل پرویز مشرف کے حامیوں اور گجرات کے چوہدریوں سے ساز باز کرکے نوازحکومت کو چلتا کرنا چاہتے ہیںتاکہ اس کی جگہ نام نہاد ماہرین کی حکومت قائم کرکے ’’اسٹیبلشمنٹ کی حامی‘‘ پی ٹی آئی کے اقتدار کا راستہ ہموار کیا جاسکے۔ اس تاثر کو مزید تقویت اس بات سے ملی کی عمران خان نے اپنے موقف میں لچک دکھائے بغیر ملک گیر احتجاجی تحریک چلائی اور پنجاب کے اہم شہروں کو زبردستی بند کرانا شروع کردیا۔ اگر عمران خان کی ہٹ دھرمی اور جارحانہ رویہ دکھانے کی پالیسی جاری رہتی ہے تو حکومت کے پاس اُن سے مذاکرات کرتے ہوئے امن و امان قائم رکھنا مشکل ہوگا۔
دوسری طرف عدلیہ بھی عمران کے موقف سے متفق دکھائی نہیں دیتی۔ درحقیقت حال ہی میں سپریم کورٹ نے نواز شریف کو اس بنا پر منصب سے ہٹانے کے لئے پی ٹی آئی کے رہنمائوں کی طرف سے دائرکردہ یہ درخواست رد کردی ہے کہ نواز شریف ’’ایک اچھے مسلمان ‘‘ نہیں کیونکہ اُنھوں نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر غلط بیانی سے کام لیا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ کے ایک ڈویژن بنچ نے حکومت سے استفسار کیا ہے کہ وہ امن و امان قائم رکھنے میں کیوں ناکام ہے؟اس کا مطلب یہ کہ ملک اور اس کی معیشت کو نقصان پہنچانے اور ملک کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے والے پی ٹی آئی کے احتجاج کو سختی سے رو ک دیا جائے۔ ان حالات میں حکومت کو چاہئے کہ وہ دھاندلی کے ایشو کو نمٹانے کے لئے پی ٹی آئی کے ساتھ خلوص ِ نیت سے مذاکرات کرے۔ ایسا کرتے ہوئے وہ میڈیا اور دیگر سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل کرسکے گی اور اگر پھر پی ٹی آئی نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناقابل ِ قبول شرائط رکھنے کا سلسلہ بند نہ کیا تو حالات کی تمام ترذمہ داری اس پر عائد ہوگی۔ اسی طرح حکومت کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ لاہور میں فیصل آباد کے واقعات کا اعادہ نہ ہونے دے۔ اسے چاہئے کہ وہ پولیس اور مبینہ ’’گلو بٹوں‘‘ کو روکے رکھے تاکہ پی ٹی آئی شہری زندگی کوجی بھر کے برہم کرلے اور ایسا کرتے ہوے، عوامی غیض وغصب کا سامنا کرے۔ عمران خان کی کامیابی کا دارومدار حکومت کو اشتعال دلا کر غلطیوں پر آمادہ کرنا ہے۔ اس وجہ سے وہ میڈیا میں بھی زندہ رہ سکتے ہیں اور اپنی احتجاجی آگ کے لئے مزید ایندھن میں حاصل کرسکتے ہیں۔ اس لئے بہتر ہے کہ اُنہیں کھل کر کھیلنے دیا جائے تاکہ وہ عوام کی ہمدردیوں سے محروم ہوجائیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *