ایک نوبل انعام سائنس میں چاہئے

یاسر پیر زادہYasir Pirzada

کیا آپ کی ملاقات کبھی کسی ایسے نوجوان سے ہوئی ہے جو طبیعات کے شعبے میں تحقیق کے ذریعے اس کائنات کی ابتداکا راز جاننے کا ارادہ رکھتا ہو ‘یا حیاتیات کے کسی شعبے میں ریسرچ کرکے یہ جاننے کا خواہش مند ہو کہ زمین پر زندگی کیسے شروع ہوئی ‘یافلکیات کا ایسا طالب علم جس کا مقصد حیات یہ راز پانا ہو کہ کائنات میں ہمار ے علاوہ بھی کہیں ذہین مخلوق پائی جاتی ہے یانہیں‘ یا ریاضی کا کوئی ایسا عاشق جو دنیا و مافیہا سے بے خبر پرائم نمبر ز سے متعلق تحقیق میں جتا ہو ‘یا عمرانیات کا کوئی سٹوڈنٹ جس نے تہیہ کر رکھا ہو کہ وہ دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کا کوئی حل ڈھونڈ نکالے گا (ایسا حل نہیں جو ڈان برائون کے ولن نے Infernoمیں دیا ہے )‘ یا oceanography کا کوئی ایسا ماہر جس نے یہ جاننے کے لئے اپنی زندگی وقف کر رکھی ہو کہ سمندروں کی تہہ میں کیا پایا جاتا ہے‘ یا جنگلی حیات کا کوئی عالم جسے اس بات کی فکر کھائے جا رہی ہو کہ دنیا میں کون کون سی مخلوق ناپید ہو رہی ہے ‘یاایسی نوجوان خاتون جو NASA میں بطور خلاباز بھرتی ہو کر multiverseکی حقیقت ڈھونڈنا چاہتی ہو ‘ یا ایسا نوجوان لڑکا جو یہ کھوج لگانے کے لئے کیمیا کے شعبے میں ایم ایس سی کر رہا ہوکہ وہ کون سے کیمیائی اجزا تھے جو زمین پر زندگی کی شروعات کا باعث بنے ‘ یا کوئی ایسا عالم نباتیات جو دنیا میں موجود ساڑھے پانچ لاکھ سے زائد زندہ اجسام میں سے کسی ایک پر تحقیق کرکے موذی امراض کا علاج ڈھونڈنے کی کوشش کرے …!
ممکن ہے ان شعبوں میں تحقیق اور علم کی جستجو رکھنے والے لوگ کہیں خاموشی سے اپنا کام کررہے ہوں مگر ان کی تعداد یقیناً آٹے میں نمک کے برابر ہے ‘ آئے روز ہماری ملاقات جن طلبہ سے ہوتی ہے وہ میڈیکل ‘ انجینئرنگ ‘ کامرس ‘ اکائونٹنگ ‘فنانس یا زیادہ سے زیادہ آئی ٹی کے شعبے میں ڈگری لینے کے خواہش مند ہوتے ہیں تاکہ اس کے بعد انہیں اچھی سی نوکری ملے جس کے بعد وہ اپنا گھر بسائیں اور پھر باقی کی زندگی ہنسی خوشی ٹی وی کے چینل تبدیل کرکے دیکھتے ہوئے گزار دیں ۔یہی وجہ ہے کہ ماہر تعلیم حضرات کا پالا زیادہ تر اس قسم کے سوالات سے پڑتا ہے کہ ’’ میں نے ایم ایس سی آئی ٹی میں کیا ہے ‘ اب میں باہر جانا چاہتا ہوں ‘ مجھے کیا کرنا چاہئے؟ ‘‘ …میںنے بی کام کیا ہے ‘ مجھے ایم بی اے فنانس کرنا چاہئے یا مارکیٹنگ ؟‘‘ …’’بی فارمیسی کا کیا اسکوپ ہے ‘ کیا مجھے نوکری مل جائے گی؟‘‘دکھ اس بات کا نہیں کہ یہ نوجوان ماہرین تعلیم سے اس قسم کے سوالات پوچھتے ہیں کیونکہ یہ ا سٹوڈنٹ اس ملک میں رہتے ہیں جہاں کوئی بھی بات یقینی نہیں ‘ کسی بات کی گارنٹی نہیں اور مستقبل کی کوئی ضمانت نہیں ‘یہی وجہ ہے کہ ہمارے نوجوان ہر لحاظ سے اپنا مستقبل محفوظ بنانے کے لئے فکر مند رہتے ہیں ‘ انہیں اچھی طرح پتہ ہے کہ اس سفاک معاشرے میں ان جیسوں کی تعداد کروڑوں میں ہےاوریہ کروڑ کیسے جیتے کیسے مرتے ہیں کسی کو پروا نہیں‘مگر المیہ یہ ہے کہ اس معاشرے میں ایسے نوجوان کتنے ہیں جو مالی طور پر آسودہ اور مستقبل کی فکر سے آزاد ہونے کے باوجود ان شعبوں میں تحقیق کا بیڑا اٹھاتے ہیں جن کا ذکر شروع میں کیا گیا !
یہ بات درست ہے کہ ترقی یافتہ معاشروں میں بھی ایسے لوگوں کی تعداد عام لوگوں سے کم ہوتی ہے جو علم و تحقیق کا کام کرتے ہیں مگر بہر حال یہ تعداد اتنی ضرور ہوتی ہے کہ ان معاشروں میں ترقی کا پہیہ بھرپور رفتار سے چلتا ہے اور ایک لمحے کیلئے بھی نہیں رکتا ۔تو آخر کیا وجہ ہے کہ ہمارے ہاں تعلیمی اداروں میں میٹرک سے لیکر گریجویشن تک اعلیٰ پوزیشن حاصل کرنیوالے طلبا و طالبات سے جب بھی ان کے مستقبل کے بارے میں سوالات کئے جاتے ہیں تو وہی رٹے رٹائے جواب آتے ہیں‘ ا ن ذہین ترین طلبہ میں سے کوئی اشارتاً بھی یہ نہیں کہتا کہ وہ محقق بننے کا ارادہ رکھتا ہے !یہ پوزیشن ہولڈرز آخر ہمارے معاشرے میں کیا کررہے ہیں ؟انہیں تو سرکاری اور نجی شعبے سے وظیفوں کی کمی بھی نہیں تو اس کے باوجود یہ لوگ معاشرے میںکسی ویلیو ایڈیشن کا باعث کیوں نہیں بنتے ؟
اس کی تین وجوہات ہیں ۔پہلی وجہ ماحول ہے ‘ ہمارے معاشرے میں تحقیق اور جستجو کا وہ ماحول ہی نا پید ہے جس میں اعلیٰ پائے کے ماہر طبیعات اور فلکیات جنم لیں ‘ تحقیقی ماحول کیلئے ضروری ہے کہ طالب علم سوال اٹھائے اور اس ضمن میں کوئی شجر ممنوعہ نہ ہو‘ سائنس میں ترقی اسی صورت ممکن ہے جب سماجی علوم خاص طور سے فلسفہ ‘ الہیات‘ عمرانیات اور انسانی نفسیات جیسے شعبوں میں ہر قسم کی بحث کی آزادی ہو ‘ یہ آزادی اس ماحول کو جنم دیتی ہے جو ریسرچ کے لئے ناگزیر ہے ۔ہمارے ہاں طالب علموں کی ترجیح آرٹس کے مقابلے میں سائنس ہوتی ہے ‘گو اس کی وجہ سائنس سے محبت نہیں بلکہ فکر معاش ہے ‘ اس کے باوجود ہم اکا دکا لوگوں کے علاوہ کوئی ڈھنگ کا سائنس دان پیدا نہیں کر سکے کیونکہ سائنسی تحقیق جس ماحول میں پنپتی ہے وہ ہمیں میسر نہیں ۔دوسری وجہ نالائق لوگوں کی ’’کامیابیاں ‘‘ ہیں ‘ اپنے ارد گرد رسمی تعلیم سے نا بلد اور انگوٹھا چھاپ لوگوں کو دنیاوی طور پر کامیاب دیکھ کر نوجوانوں میں وہ علمی جستجو ہی پیدا نہیں ہو پاتی جو انہیں تحقیق کے شعبے کی طرف راغب کر سکے ‘ اس معاشرے میں ایک محقق اور کرکٹر ‘ ایک عالم اور ایکٹر اور ایک سائنس دان اور سرمایہ دار کے درمیان جو فرق روا رکھا جاتا ہے وہ کسی بھی نوجوان کی علمی حوصلہ شکنی کے لئے کافی ہے ‘یہ وہ معاشرہ ہے جہاں کسی محقق یا عالم کی موت پر تو بمشکل سنگل کالمی خبر شائع ہوتی ہے جبکہ اداکارائوں کے اسکینڈلز کی بریکنگ نیوز پرائم ٹائم پر چلائی جاتی ہے ‘ ایسے ماحول میں کسی نوجوان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ’’ایم تھیوری‘‘ پر ریسرچ کا ارادہ رکھتا ہے ‘ دیوانے کا خواب ہے۔تیسری وجہ محنت سے جان چھڑاناہے‘ گو کہ ہمارے ذہین طلبہ امتحان میں پوزیشن لینے کے لئے دن رات پڑھتے ہیں اور بد ترین حالات میں بھی بہترین نتائج دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر نہ جانے کیوں یہ تمام اس وقت تک ہی ہوتی ہے جب تک ڈگری کے نتیجے میں کوئی اچھی سی نوکری ہاتھ میں نہ آجائے ‘ اس کے بعد آہستہ آہستہ ہماری صلاحیتوں کو زنگ لگنا شروع ہو جاتا ہے اور پھر ایک وقت وہ بھی آتا ہے جب ہماری زندگی کا مقصد آئی فون کے نئے ماڈل کے حصول تک محدود ہو جاتا ہے (موبائل فون کے ماڈل تبدیل کرنا بری بات نہیں ‘ کیونکہ یہ میرا بھی شوق ہے تاہم صرف یہی شوق رکھنا لمحہ فکریہ ہے )۔امتحا ن میں اچھے نمبروںسے کامیاب ہونے کے لئے محنت کرنا ایک بات ہے ‘ مگر کسی شعبے میں اعلیٰ پائے کی تحقیق کرنا بے حد صبر آزما اور ایسا کام ہے جس کیلئے انتھک محنت درکار ہوتی ہے جس کی بدقسمتی سے ہمیں عادت نہیں‘اور پھر ضرور ی بھی نہیں کہ اس کا نتیجہ ہمارے جیسے معاشروں میں دنیاوی کامیابی کی شکل میں بھی سامنے آئے۔
ملالہ یوسفزئی نے نوبل کا امن انعام جیتا ہے اور اس عمر میں جیتا ہے جب لوگ صحیح طور سے ا پنا کیرئیر بھی شروع نہیں کر پاتے ‘ اس قسم کے اعزازات عموما ً اس وقت لوگوں کو نصیب ہوتے ہیں جب وہ اپنی تمام عمر کسی خاص شعبے میں تحقیق پر صرف کر دیں جبکہ ملالہ کے آگے ابھی پوری زندگی پڑی ہے ۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ملالہ پاکستان میں ان طالب علموں کی حوصلہ افزائی کے لئے کوئی ادارہ قائم کرے جو تحقیق اور جستجو کے آرزو مند ہوں اور اس ادارے میں انہیں فکر معاش اور غیر یقینی مستقبل سے آزاد ایسا ماحول ملے کہ اگلے پچاس برسوں میں سائنس کے شعبے میں کم از کم پانچ نوبل انعام ہمارے حصے میں آئیں ۔کیا یہ نا ممکن ہے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *