عمران خان نوکروں کا کھانا کیوں کھاتے ہیں؟

asif mehmood

کسی سے وعدہ کر لیا تھا کہ اب عمران خان پر کچھ نہیں لکھوں گا لیکن وہ عمران خان ہی کیا جو آپ کو گدگدا نہ دے. اب اس تازہ ارشاد گرامی پر غور فرمائیے.

صاحب فرماتے ہیں کبھی نوکروں کے گھر سے کھانا منگوا لیتا ہوں اور کبھی بھوکا سو جاتا ہوں. یعنی معاملہ صرف یہی نہیں کہ صاحب جب گھر سے نکلتے ہیں تو جیب میں بٹوا تک نہیں ہوتا صرف میزبان نما اے ٹی ایم مشین ساتھ ہوتی ہے بلکہ معاملہ یہ بھی ہے کہ صاحب نوکروں کو بھی نہیں چھوڑتے اور بجائے اس کے کہ نوکروں کے گھر بھی ان کے ہاں سے کھانا جائے یہ نوکروں کے گھر سے کھانا منگوا کر کھا جاتے ہیں. گویا یہ ارشاد فرماتے ہوئے انہیں اندازہ تک نہیں وہ کیا کہہ رہے ہیں. بلبلے ڈرامے میں مومو کہتی ہے چلو اندر چل کر آرام کریں تو محمود صاحب کہتے ہیں وہ جو ہم اندر چل کر کریں گے وہ آرام ہو گا. تو عمران خان جو کھاتے ہیں وہ نوکروں کے گھر سے آتا ہے؟

اگر وہ اس ارشاد سے لوگوں پر اپنے فقر و سادگی کا رعب جمانا چاہتے ہیں تو جو لوگ کچھ نہیں جانتے وہ تو شاید مرعوب ہو جائیں لیکن سوال یہ ہے کہ میرے جیسا آدمی کیا کرے؟ ہنسے اور ہنستا چلا جائے یا روے اور روتا ہی رہے. نوکروں کے گھر شاید چینی ختم ہو گئی ہو گی اور یہ خبر سن کر گنڈا پور صاحب شہد لے کر حاضر ہونے لگے ہوں گے جب بات کا بتنگڑ بن گیا.

امریکی سفیر گھر آئے اور انہیں گرین ٹی دی گئی اور ساتھ پیکٹ میں بند بسکٹ. امریکی. سفیر کا نام یہاں اس لیے لیا گیا کہ صاحب کی فقیری کے ساتھ دلیری کی بھی دھاک بیٹھ جائے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر نوکروں کو اتنی تمیز بھی نہیں سکھا سکے کہ مہمان کو چائے کیسے پیش کی جاتی ہے تو کیا یہ بہادر رہنما کی درویشی سمجھی جائے؟ عمران خان ذرا اس پیلو پر بھی روشنی ڈال دیں کہ جب وہ کسی کے ہاں مہمان بنتے ہیں کیا اس وقت بھی کھانے کے معاملے میں یہی درویشی اختیار کی جاتی ہے. یا یہ رویہ صرف بطور میزبان اختیار کیا جاتا ہے؟ سادگی کی اتنی داستانیں مت بیان کیجیے ورنہ لوگوں نے حقائق بیان نہ بھی کیے تو صرف وہ ویڈیو ہی شیر کر دی جس میں دھرنے کے ایام میں صاحب ناشتہ فرما تے ایک خاتون کو انٹرویو دے رہے تھے تو سادگی کے سارے نقاب اتر جاءیں گے.
رہی بات صاحب کی بے نیازی کی کہ انہیں پرواہ نہیں کون سا کپڑا پہن رکھا ہے تو جناب کوئی ایک تصویر دکھا دیجیے جس میں آپ برطانیہ میں ہوں اور لباس کے معاملے میں ایسی بے نیازی برتی ہو.

بہت کچھ مزید کہہ سکتا ہوں اور بہت کچھ کو واقعی بہت کچھ سمجھا جائے لیکن بہت سے سخن ہائے گفتنی کسی کے احترام میں نا گفتہ چھوڑ رہا ہوں.

1

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *