’عمران خان حسبِ معمول تاریخ کی غلط جانب، پہلے طالبان اور اب پی ایس ایل ‘

ان دنوں پاکستان سُپر لیگ کا بخار عروج پر ہے۔ کون آ رہا ہےکرکٹ اور کون نہیں آرہا۔ ٹکٹ ختم ہو گئے یا نہیں اور لوگوں کا غم و غصہ کہ انھیں ٹکٹ کیوں نہیں ملا۔ تو اسی حوالے سے بات کرتے ہیں کہ آخر کیوں پی ایس ایل کے
لاہور میں انعقاد پر رائے منقسم ہے اور لوگ عمران خان کے بیانات پر اتنے سیخ پا کیوں ہیں۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کو لاہور میں پاکستان سپُر لیگ کے فائنل کے انعقاد پر اعتراض ہے اور وہ اس بات کو برملا کہہ رہے ہیں۔

 

 

عمران خان نے اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'فائنل لاہور میں کروانے کا فیصلہ احمقانہ ہے اور کرفیو لگا کر تو میچ عراق اور شام میں بھی کروائے جا سکتے ہیں۔'

عمران خان کا کہنا تھا کہ 60 ہزار اہلکار لگا کر یہ پیغام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ جیسے سب کچھ ٹھیک ہے تو اگر سب ٹھیک ہے تو پورا ٹورنامنٹ پاکستان میں کیوں نہیں کرواتے؟

اس پر تبصرہ کرتے ہوئے عباس نے ٹویٹ لکھی کہ 'عمران خان کیوں پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں کروانے کے خلاف ہیں؟ یہی لوگ سکیورٹی مہیا کرنے پر لگے ہوتے اگر وہ وزیراعظم ہوتے۔ ان لوگوں کو ہماری حمایت چاہیے۔'

احد عباسی نے لکھا کہ 'عمران خان کو پی ایس ایل کو سیاست کی نذر نہیں کرنا چاہیے۔ خدا کے لیے آپ ایک مایہ ناز کرکٹر رہ چکے ہیں ہمیں خود سے نفرت کروانے پر مجبور نہ کریں۔'

عدیم غفار رانا نے لکھا: 'عمران خان حسبِ معمول تاریخ کی غلط جانب ہیں۔ اس سے پہلے طالبان کے معاملے پر اور اب پی ایس ایل کے حوالے سے۔'

حسین فاروق کا کہنا تھا کہ 'میرے اندازے کے مطابق میں عمران خان سے متفق ہوں کہ پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں کرانا بہت بڑا خطرہ ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں ہے چونکہ کوئی غیر ملکی کھلاڑی نہیں آ رہا ہے۔'

منصور علی خان نے لکھا کہ 'چونکہ عمران خان سمجھتے ہیں کہ پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں کرانا خطرناک ہے انھیں ایک کم درجے کا پاکستانی نہیں بناتا۔ براہِ مہربانی لوگوں کو اس طرح پرکھنا بند کریں۔'

احسن زوار نے لکھا 'عمران خان نے پی ایس ایل کے فائنل کے بارے میں جو کہا ہے اس میں کچھ غلط نہیں۔ یہ اُن کا نقطۂ نظر ہے جس کا احترام کیا جانا چاہیے اور ان کے تحفظات درست ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *