کھیل

8سال تک انگلش ٹیم میں پانی پلانے کیلئے بھاگتا رہا، اسی لیے پی ایس ایل کھیلنے کو ترجیح دی، سیم بلنگز

Share

انگلینڈ کے بلے باز سیم بلنگز نے کہا ہے کہ انگلینڈ کے بجائے پاکستان سپر لیگ میں لاہور قلندرز کے لیے کھیلنے کو ترجیح دینے کا کوئی افسوس نہیں اور آٹھ سال تک پانی پلانے کے لیے بھاگتا رہا لہٰذا اب میں کرکٹ کھیل کر لطف اندوز ہونا چاہتا ہوں۔

انگلینڈ کی ٹیم بنگلہ دیش کے خلاف سیریز کھیلنے میں مصروف ہے لیکن ایلکس ہیلز، سیم بلنگز، لیام ڈاسن اور ٹائمل ملز جیسے سینٹرل کنٹریکٹ سے محروم کھلاڑی اپنی ٹیم کے لیے کھیلنے کے بجائے پاکستان سپر لیگ کے پرکشش معاہدوں کو ترجیح دیتے ہوئے لیگ کھیلنے میں مصروف ہیں۔

انہی کھلاڑیوں میں سیم بلنگز بھی شامل ہیں جنہوں نے 2019 کے بعد سے ون ڈے کرکٹ میں تقریباً 48 کی اوسط سے رنز اسکور کیے ہیں لیکن وہ انگلینڈ کے مسلسل رکن نہیں ہیں۔

31سال کی عمر کے وکٹ کیپر بلے باز رواں سال بھارت میں شیڈول ورلڈ کپ پر نظریں جمائے ہوئے ہیں اسی لیے وہ بینچ پر رہنے کے بجائے زیادہ سے زیادہ کرکٹ کھیلنا چاہتے ہیں۔

بلنگز نے کرک انفو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ میں نے انگلینڈ کے لیے عدم دستیابی ظاہر کی ہے بلکہ میں نے منیجنگ ڈائریکٹر روب کی اور جوز بٹلر سے لمبی گفتگو کی اور مجھے لگا کہ اپنے کیریئر کے اس موقع پر مجھے زیادہ سے زیادہ کرکٹ کھیلنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انگلش ٹیم میں جگہ بنانا بہت مشکل ہے لیکن اپنی عمر کے اس مرحلے پر مجھے بس کرکٹ کھیلنے کی ضرورت ہے، یہ صورتحال تھوڑی پیچیدہ ہے لیکن جن کھلاڑیوں کا انگلش بورڈ سے کنٹریکٹ نہیں ہے انہیں ایسے ٹورنامنٹس میں شرکت نہ کرنے پر کافی نقصان ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرا کھیل برصغیر سے مطابقت رکھتا ہے اور میرے لیے بہت سیدھا سا پیغام ہے کہ اگر آپ رنز کررہے ہیں تو آپ کو ہر حال میں منتخب کیا جائے گا اسی لیے میں نے یہ فیصلہ کیا۔

انگلش بلے باز نے کہا کہ دنیا بھر میں بہت ساری کرکٹ کھیلی جائے گی، اگر میں گھر جاتا ہوں تو کاؤنٹی کرکٹ اور دی ہنڈریڈ کھیل سکتا ہوں اور یہ مجھے ورلڈ کپ کے انتخاب کے لیے بہت اچھی پوزیشن میں کھڑا کر دے گی۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا انہیں دورہ بنگلہ دیش میں حصہ نہ لینے کا افسوس ہے تو انہوں نے کہا کہ ایسا بالکل نہیں ہے، ہر کوئی انگلینڈ کے لیے کھیلنا چاہتا ہے لیکن میں 31سال کا ہوں اور 8سال سے پانی پلانے کے لیے بھاگ رہا ہوں لہٰذا اب میں صرف کرکٹ کھیل کر لطف اندوز ہونا چاہتا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب آپ اس دباؤ سے آزاد ہو کر کھیلتے ہیں کہ آپ کو اپنی جگہ برقرار رکھنے کے لیے نہیں کھیلنا اور آپ کی جگہ کو ٹیم میں کوئی خطرہ نہیں تو کھیلنے کا انداز بدل جاتا ہے، اس فرنچائز لاہور قلندرز نے مجھ پر مکمل بھروسہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ بیٹنگ اور کیپنگ کریں گے، آپ ہماری ٹیم کے اہم رکن ہیں۔

سیم بلنگز نے کہا کہ میری اس وقت پوری توجہ پاکستان سپر لیگ کھیلنے اور جیتنے پر مرکوز ہے اور میں اپنی ٹیم کو جتوانے کے لیے جو بھی ممکن ہو وہ کرنے کی پوری کوشش کررہا ہوں، اس کے بعد کینٹ کلب میں بطور کپتان کاؤنٹی کھیلنے جاؤں گا اور اور ہنڈرڈز میں بھی اپنی ٹیم کی قیادت کروں گا لہٰذا ورلڈ کپ سے قبل بہت سی کرکٹ کھیل سکتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ میرا آئیڈیا یہ ہے کہ اگر میں زیادہ سے زیادہ رنز کر کے اپنی ٹیم کو جتواؤں گا تو میرے پاس ورلڈ کپ میں انگلینڈ کی نمائندگی کا بہترین موقع ہے۔

دنیا بھر کے کھلاڑیوں کے لیے انڈین پریمیئر لیگ بے انتہا اہمیت رکھتی ہے جہاں وہ لاکھوں ڈالر کے معاہدے کرتے ہیں اور پچھلے سال سیم بلنگز نے بھی کولکتہ نائٹ رائیڈرز سے 2کروڑ بھارتی روپے کا معاہدہ کیا تھا لیکن اس سال انہوں نے بھی لیگ کھیلنے سے معذرت کر لی ہے۔

سیم بلنگز نے کہا کہ گزشتہ سال میں نے انڈین پریمیئر لیگ میں کچھ میچز کھیلے اور کچھ میں کھیلنے کا موقع نہیں ملا لیکن میں مسلسل کھیلنا چاہتا ہوں اور بینچ پر نہیں بیٹھنا چاہتا، میں اپنے بقیہ کیریئر کا فائدہ اٹھانا چاہتا ہوں اور یہی میرے لیے سب سے بہترین ہے۔