میرے ہاتھ باندھ دیے گئے اور مجھے حراست میں رکھا گیا لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری

ہدایت حسینhidayat hussain

50 سال قبل 1967 میں سندھ کی تاریخ کا اہم واقعہ 4 مارچ کے دن پیش آیا جب  جی ایم بیراج کے پس 207 طلبا کو گرفتار کر لیا گیا ۔ جی ایم بیران جامشورو ارو حیدر آباد کے درمیان میں واقع ہے جہاں طلبا ون یونٹ کے خلاف سراپا احتجاج تھے۔ ون یونٹ کا قیام 1955 میں ہوا تھا۔ اس احتجاجی ریلی میں ملک بھر سے بہت سے طلبا موجود تھے جو اس سے قبل احتجاج میں شرکت سے گریزاں تھے۔ ون یونٹ کی وجہ سے سندھ کے لوگوں کو ثقافی، سیاسی ، انتظامی اور معاشی سطح پر بے عزت کرنے میں مشغول تھا۔ سندھی زبان جو 2500 سال پرانی ہے کو مغربی پاکستان میں کوئی آفیشل حیثیت نہیں دی جاتی تھی ۔ اسے صرف پرائمری سکولوں میں تعلیم کے لیے جاری رکھا گیا  اور صرف سندھ کے دیہاتی علاقوں تک محدود کر دیا گیا۔

اس طرح سندھیوں کو اپنے کلچر اور زبان کو ترقی دینے کے مواقع سے محروم کر دیا گیا تھا۔ سیاسی اور انتظامی لحاظ سے تو سندھ کو جیسے نقشے سے ہی غائب کر دیا گیا ہو۔ سیاست اور نظام صرف لاہور تک محدود ہو چکی تھی۔ تقسیم کی وجہ سے آزادی کے تناسب میں پیش آنے والی تبدیلیوں  کی وجہ بھارت سے مسلمانوں کی بڑی تعداد میں ہجرت تھی  اور اس تبدیلی کی وجہ سے سندھ جو ہندو آبادی کا گڑھ تھا مختلف مذاہب کے لوگوں میں بٹ گیا اور بڑے بڑے شہر بھی لوگوں کو نوکریاں مہیا کرنے میں بہت مشکلات میں گھر گئے۔

آخری سہارا

یہ تحریک  اس وقت شروع ہوئی جب سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر حسن علی عبد الرحمان کو فروری 1967 کو برطرف کر دیا گیا۔ یہ فیصلہ مغربی پاکستان کے گورنر نواب امیر محمد خان کالاباغ نے کیا تھا۔

رحمان جو سندھ یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر تھے  اور انہیں سندھی طلبا کو داخلہ دلانے میں مدد کرنے پر برخاست کیا گیا تھا ۔ جب ان کو ہٹایا گیا تو طلبا نے مزاحمت کی  اور احتجاج شروع کر دیا۔ 4 مارچ کو سندھ یونیورسٹی ، لیاقت میڈیکل کالج اور  انجینیرنگ کالج کے طلبا تنظیم کی جنرل باڈی  میٹنگ منعقد ہوئی۔

طلبا بسوں میں احتجاج کے لیے شرکت کرنے آ رہے تھے جب انہیں جی ایم بیراج کے پاس پولیس نے گھیرے میں لے لیا۔ طلبا پر تشدد کیا گیا اور 207 طلبا کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کے ظلم کے خلاف صوبے بھر میں تحریک شروع ہو گئی۔ وائس چانسلر کو واپس بحال نہیں کیا گیا  لیکن پھر بھی 4 مارچ تحریک سے صوبے بھر میں سیاسی آگاہی پیدا ہوئی۔

میرا کردار

میں سندھ یونیورسٹی کے حیدر آباد کیمپس کا فرسٹ ائیر کا طالب علم تھا۔ جب طلبا کی گرفتاری کی خبر پھیلی اس دن بہت اچھا موسم تھا۔ یہ ایک بہت خوفناک واقعہ تھا کیونکہ اس کے ذریعے طلبا کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔

وائس چانسلر کی برطرفی کے بعد احتجاج روکنے کے لیے حیدر آباد کے کمشنر مسرور احسن اردو بولنے والے طلبا کی ریلی بھی منعقد کروانے کی کوشش کی ۔ چونکہ اردو بولنے والے زیادہ تر طلبا حکومت کے ساتھ تھے اس لیے ہم میں سے کچھ نے فیصلہ کیا کہ طلبا کے اندر تقسیم کے چانس کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس کا واحد طریقہ یہ تھا کہ ہم گرفتار ہونے والے طلبا کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔ کم سے کم پولیس ایکشن کی مذمت کے طور پر  دیواروں پر نعرے لکھے جا سکتے تھے۔

میں اور میرے دوست عنایت کشمیری نے برش لیا اور پولیس  اور ایوب کے خلاف نعرے لکھنے لگے ۔ نعرے لکھتے وقت ہم آنے والی ٹریفک پر نظر رکھ رہے تھے  تا کہ اگر کوئی پولیس گاڑی آئے تو ہم چھپ سکیں۔ ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ پولیس ون وے ٹریفک کی پابندی نہیں کرتی ۔ ایک پولیس وین پوری تیز رفتاری سے آئی اور ہم پر لاٹھیاں برسنے لگیں۔ ہمیں اٹھا کر گاڑی میں ڈال دیا گیا۔ گاڑی ہمیں سیدھا مارکیٹ تھانہ لے گئی۔ پھر ہمیں گالیاں بھی سننا پڑیں۔

ہمیں ہاتھ باندھ کر دو کرسیوں کے بیچ باندھ دیا گیا۔ وہاں ہمیں چار دن اور چار راتیں اسی حالت میں گزارنا پڑیں۔ اس وجہ سے ہم پہلے سے بھی زیادہ بڑے باغی بن گئے۔ مارکیٹ تھانہ چکلا کے قریب واقع تھا۔ یہاں اکثر طوائفوں کو بازار سے اٹھا کر لوٹنے اور دوسرے مقاصد کے لیے لایا جاتا تھا۔ ہمیں کھانا بھی نہیں دیا جاتا تھا اور پانی ہم پینا نہیں چاہتے تھے تا کہ بعد میں پولیس کے سامنے واش روم جانے کے لیے ہاتھ نہ جوڑنے پڑیں۔

چار دن بعد ایک مشہور وکیل حفیظ قریشی اور ایک سیاسی لیڈر آئے ۔ انہوں نے ایس ایچ او سے ایف آئی آر کی کاپی مانگی تا کہ قانونی چارہ جوئی کی جا سکے۔ لیکن ایف آئی آر درج ہی نہیں ہوئی تھی۔ ایسے لگتا تھا کہ ایس ایچ او نے متعلقہ محکمہ کو ہماری گرفتاری کی خبر ہی نہیں کی تھی۔ اس نے پریشانی میں ہمیں وکیل کے ساتھ بھیج دیا اور معافی بھی مانگی اور کہا کہ اسے معلوم نہیں تھا کہ ہم لوگ سٹوڈنٹ ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ اس دور میں لوگوں کو اغوا کر کے مار ڈالنے کی رسم شروع نہیں ہوئی تھی۔

سندھ کی دریافت

اس بہادری کے اظہار نے ہمیں بہت شہرت دلائی ۔ میں اس وقت سندھی نیشنلسٹ جام ساقی کو جانتا تھا  اور میں انہیں ان کی بے لوث اور قربانی دینے کی عادت کی وجہ سے بہت اچھی شخصیت مانتا تھا۔ وہ ایک دور کے گاوں سے ملنے تھرپارکر آئے۔ میں اکثر ان کی کھولی میں انہیں ملنے جایا کرتا تھا۔

وہ اپنا کھانا شام کو ایک چھوٹے چولہے پر بنایا کرتے تھے۔ اس کے باوجود وہ اصرار کرتے کہ میں ان کے ساتھ کھانا کھاوں۔ میں نے اپنی زندگی میں ان جیسا شخص نہیں دیکھا تھا۔ میں نے دیکھا کہ زندگی خاندان کی رسم و رواج سے کہیں زیادہ بڑھ کر وسیع اور گہری ہے۔ مجھے ایسے لوگوں میں انسانیت دکھائی دی جن سے مجھے دور رہنے کا مشورہ دیا جاتا تھا۔ 4 مارچ کے واقعہ نے سندھ کی سیاست میں ایک نئی روح پھونک دی۔ اس صوبے نے مجھ جیسے بہت سے ایسے لوگوں کو پناہ دی تھی جو ہندوستان سے ہجرت کر کے آئے تھے۔

سندھ کی زبان سیکھنے اور مختلف شہروں کی سیر کرنے کے بعد میں نے اپنی آپ کو سندھی تہذیب میں ڈھال لیا تھا۔ جام ساقی کے ساتھ ساتھ میں نے حیدر بخش جتوئی ، ابراہم جویو، سوبھو گیان چندنی، عثمان ڈپلائی اور دوسرے اہم لوگوں سے ملنے کا اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ مجھے جس چیز نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ سندھی عوام کی سادگی تھی۔ وہ کسی طرح کی بھی سیاسی چالیں نہیں چل رہے تھے۔ مجھے آج تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ پڑھے لکھے اور تعلیم یافتہ اردو سپیکر حضرات کو سندھی عوام سے کیا دشمنی تھی؟

4مارچ کی اہمیت

یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ چار مارچ کے واقعہ نے سندھ کے لوگوں کی مزاحمت کو کچلنے میں اہم کردار ادا کیا اور اس کے ذمہ دار اس ملک کے اہم سیاسی رہنما تھے۔ اس واقعہ کی بنیاد سندھی لٹریچر کے خاتمہ سے کی گئی اور سب سے پہلے سندھی شاعری پر ہاتھ ڈالا گیا۔ شیخ ایاز جیسے شعرا نے اپنی شاعری میں تکلیف کا بہترین طریقے سے اظہار کیا ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ 4 مارچ کا واقعہ سندھ کی شناخت اور فخر کا ذریعہ بن گیا ہے۔ سندھی شام نامی اس واقعہ میں سندھی عوام نے بڑی قربانیاں دے کر پاکستان میں ہونے والی نااںصافیوں کے خلاف آواز بلند کی جو ایک قوم کے نام سے عوام پر ظلم و زیادتی کی شکل میں کی جا رہی تھیں۔ 4 مارچ کے واقعہ کے بعد بہت سے لٹریری شمارے سندھ میں آنا شروع ہو گئے۔ سندھی پریس آج بھی اپنی آب و تاب کے ساتھ ملک میں موجود ہے اور ہر عام آدمی کی پہنچ میں ہے۔

بد قسمتی سے بہت سے مؤرخین اور سیاسی ماہرین جو پاکستان سے باہر آباد ہیں انہوں نے 4 مارچ کے اس واقعہ اور تحریک کو مناسب اہمیت نہیں دی۔ البتہ ان میں سے کچھ ایسے رہنما ہیں جو اس واقعہ کی اصل حقیقت سے واقف ہیں ان میں ڈاکٹر تنویر کا نام قابل ذکر ہے جنہوں نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام 'سندھ کی سیاسی حالت' ہے۔اس شام کو آج پچاس برس بیت چکے ہیں لیکن آج بھی اس دن کا خوف میں بھول نہیں پا رہا۔ وقت نے میرے اس غرور کو ختم نہیں کیا جو اس وقت مجھے اپنے صوبے اور ثقافت کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے اس بڑے واقعہ کا حصہ بنانے کا باعث بنا۔

میں لطیف سائیں کے ایک دعائیہ شعر کے ترجمے سے اپنی تحریر کا خاتمہ کروں گا۔ فرماتے ہیں:

اے خدا سندھ کو ہمیشہ بلند و بالا رکھنا۔

میرے دوست، اس دنیا بھر کو ہمیشہ خوشحال بنائے رکھنا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *