بدقسمت شہزادی سیتا وائٹ اور عمران خان کی کہانی۔۔۔۔۔۔۔ آخری قسط

 sita whiteبشکریہ وینیٹی فیئر میگزین نیویارک

سیتا کے دوست، سمر احمدی کے مطابق، سیتا کیلئے کیرولیناکی جانب سے منعقد کردہ رات کی سروس، ایک جذباتی واقعہ تھا۔ ’’اس کیلئے میں ایک طویل سفر طے کرکے بحرین سے پہنچا، یہ میرے لئے بہت اہم سروس تھی۔‘‘ احمدی نے کہا۔ دوسروں کی طرح، کیرولینا کو بھی سیتا آخری رسومات خاصی ’’مایوس کن‘‘لگی تھیں(اسی لئے اس نے خود اپنے یہاں اس کیلئے رات کی سروس کا اہتمام کیا تھا)۔
کیرولینا کہتی ہے’’میں اس (رات کی سروس)کے دروازے سے اندر داخل ہوئی اورپھر میں نے جو دیکھا، وہ صرف یہ تھا کہ سیتا ہنس رہی تھی، ہنس رہی تھی ۔۔۔اور ہنس رہی تھی۔‘‘کم از کم چند ماہ سے جاری وہ ناقابلِ فہم حالات جو اس کی دوست کی موت کوگھیرے ہوئے تھے، انہوں نے اسے بھی جلاوطن کردیا تھا۔
چھوٹے سے گروہ نے موم بتیاں تھامیں اور ایک دائرے میں بیٹھ گئے اور اپنی دوست کے متعلق کہانیاں سنانے لگے۔
غالباً سب سے زیادہ کاٹ دار حکایت ٹیرن نے سنائی۔ اس نے کہاکہ ایک بار اس کی ماں پہاڑ پر چل رہی تھی کہ وہاں اس نے ایک بے گھر آدمی دیکھا۔ اس نے اس شخص سے کہا، ’’میں تمہاری مدد کروں گی اور تمہیں ملازمت دلاؤں گی۔ ٹیرن نے کہا، ’’ماں نے اس شخص کو دوبارہ اس کے پیروں پر کھڑا کر دیا۔‘‘
تاہم یہ امر نہایت افسوسناک ہے کہ وہ اپنے آپ کو ازسرنو پیروں پر کھڑا کرنے کیلئے کچھ خاص نہ کر سکی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *