Site icon DUNYA PAKISTAN

طالبان سے بچ کر اپنے خوابوں کا پیچھا کرنے والی سائیکلسٹ بہنیں: ’لوگوں نے ہمیں کاروں اور رکشوں سے ٹکر مارنے کی کوشش کی‘

Share

یہ اٹلی کی گرم لہر کے وسط میں جون کی ایک جھلسا دینے والی دوپہر ہے۔ ایک ماہ سے بارش نہیں ہوئی لیکن سرمئی بادل آہستہ آہستہ افق پر چھا رہے ہیں اور نمی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ کسی طوفان کے آثار ہیں اور ایک ایسی صورتحال پیدا ہو رہی ہے جو یہاں گرمیوں میں صرف ایک بار ہوتی ہے۔

ایسے میں دو بہنیں ڈولومائٹس کے دامن میں ایک چھوٹے سے پہاڑ کی چوٹی تک 10 کلومیٹر طویل چڑھائی شروع کرنے والی ہیں۔ ان کے تین ساتھی اور بہترین دوست بھی ان کے ساتھ ہیں۔

یہ ایک خوبصورت راستہ ہے۔ سڑک پر چند کاریں ہیں اور وینیٹو گاؤں کا ایک شاندار نظارہ ان کا منتظر ہے۔

وہ آگے بڑھتے جا رہی ہیں۔ راہ میں 17 موڑ ہیں۔ وہ سائیکلسٹ ہیں۔ وہ اپنے ملک کی بہترین سائیکلسٹس میں سے ہیں لیکن وہ خطرناک موڑ پر سائیکل چلانے کی عادی نہیں اور یقینی طور پر طوفانی بارش میں سائیکل چلانے کی بھی عادی نہیں۔

یہ ان کے شمالی افغانستان کے گرد آلود مناظر سے بہت دور ہے، جہاں سے وہ آتے ہیں، جہاں اکثر کچی سڑکیں ہیں جو پیدل چلنے کے لیے بھی موزوں نہیں۔

اوپر جا کر وہ اپنے نئے گھر کے نظارے کی تعریف کرنے کے لیے رک جاتی ہیں۔ بارش کی موٹی موٹی بوندیں ان کے ہیلمٹ سے ٹپکتی ہیں۔ یہ آگے بڑھنے کا وقت ہے۔

افغانستان میں طالبان کی واپسی سے پہلے بھی ان بہنوں کے لیے سائیکل چلانا آسان نہیں تھا۔

فریبا اور یلدوز ہاشمی افغانستان کے سب سے دور افتادہ، قدامت پسند صوبوں میں سے ایک میں پیدا ہوئیں، جہاں خواتین کو سائیکل چلاتے دیکھنا عملی طور پر کبھی نہیں سنا گیا تھا۔

سنہ 2017 میں شمالی افغانستان میں واقع ان کے مقامی صوبے فاریاب میں ایک مقامی سائیکل ریس کا انعقاد کیا گیا۔ اس وقت یہ دونوں بہنیں 14 اور 17 سال کی تھیں۔ انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اس مقابلے میں حصہ لینا چاہتی ہیں۔

لیکن ایک چھوٹا سا مسئلہ تھا۔ وہ سائیکل چلانا نہیں جانتی تھیں۔

انھوں نے ایک دوپہر پریکٹس کرنے کے لیے پڑوسی سے سائیکل ادھار لی۔ چند گھنٹوں کے بعد آخرکار انھوں نے اس پر قابو پا لیا اور سیکھ گئیں۔

انھوں نے گھر کو بتائے بغیر اس ریس میں چپکے سے حصہ لیا۔ انھوں نے اپنے آپ کو بڑے بیگی کپڑے، سر پر بڑے سے سکارف اور دھوپ کے چشمے سے ڈھانپ لیا تھا تاکہ لوگ انھیں پہچان نہ سکیں۔ انھوں نے اپنا نام بھی بدل لیا۔

وہ اس مقابلے میں پہلے اور دوسرے نمبر پر رہیں۔ فریبا اب 19 سال کی ہیں۔ انھوں نے بی بی سی سپورٹس کو بتایا کہ ’یہ حیرت انگیز تھا۔ میں نے خود کو ایک پرندے کی طرح محسوس کیا جو اڑ سکتا ہے۔‘

انھوں نے اپنے اس شوق کو جاری رکھا۔ اور جتنی چھوٹی ریسیں وہ کر سکتی تھیں ان میں شامل ہوئيں۔ انھیں یہ راز اپنے خاندان سے چھپانا مشکل ہو گیا کیونکہ وہ جیتتی رہیں۔ ان کے والدین کو جلد ہی مقامی میڈیا کی طرف سے لی گئی تصاویر سے پتا چل گیا۔

فریبا مسکراتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’پہلے تو وہ پریشان ہو گئے تھے۔ انھوں نے مجھ سے سائیکل چلانا بند کرنے کو کہا لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری۔ میں نے چپکے چپکے اسے جاری رکھا۔‘

ان کے والدین نے لاحق خطرات کے متعلق خبردار کیا لیکن آخر کار انھوں نے مدد کرنی شروع کر دی۔

ان بہنوں کو باقاعدگی سے ہراساں کیا گیا۔ 22 سالہ یلدوز بتاتی ہیں کہ ’لوگ بدسلوکی کرتے تھے۔ میں صرف ریس جیتنا چاہتی تھی۔‘

فریبا نے مزید کہا کہ ’بہت ساری دھمکیاں تھیں۔ لوگوں نے ہمیں اپنی کاروں یا رکشوں سے ٹکر مارنے کی کوشش کی۔ انھوں نے ہم پر پتھر پھینکے۔‘

،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ کے مطابق سنہ 2021 میں تقریبا 26 لاکھ افغان شہری پناہ گزین بن گئے

یہاں تک کہ سکول میں ان کی ہم جماعت ساتھی بھی انھیں سائيل چلانے پر تنگ کرتی تھیں۔ بہرحال جلد ہی ان کی نظر پڑ گئی، اور انھیں قومی ٹیم کے لیے بلایا گیا۔

یلدوز کہتی ہیں کہ ’میں اس دن کو کبھی نہیں بھول سکتی۔ میں نے خود کو دنیا کی بلندیوں پر محسوس کیا تھا۔‘

ان کے کیریئر وہاں سے مسلسل اوپر کی طرف جاتے رہے یہاں تک کہ اگست 2021 میں طالبان اقتدار میں واپسی آ گئے۔

اس تبدیلی نے سب کچھ بدل دیا اور فوری طور پر ان کی جان خطرے میں ڈال دی۔ طالبان خواتین کو کسی بھی کھیل کھیلنے پر پابندی لگاتے ہیں۔

اقتدار میں واپسی کے بعد سے، اس گروپ نے خواتین کے حقوق اور آزادیوں پر مسلسل کریک ڈاؤن کیا ہے۔ انھوں نے تمام لڑکیوں کے سکول جانے پر پابندی لگا دی ہے اور حال ہی میں خواتین کے یونیورسٹی میں جا کر تعلیم حاصل کرنے پر مکمل پابندی لگا دی ہے۔

انھوں نے خواتین کو ملازمت کے زیادہ تر شعبوں بشمول انسانی امدادی تنظیموں میں کام کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔

خواتین کو یہ آزادی نہیں کہ وہ جیسا چاہیں لباس پہنیں۔ طالبان کا ضابطہ اخلاق کہتا ہے کہ خواتین کو خود کو مکمل طور پر ڈھانپنا چاہیے لیکن بڑے شہروں میں زیادہ تر خواتین سر پر سکارف پہنتی ہیں۔

انھیں مرد محافظ کے بغیر طویل فاصلے تک سفر کرنے کی اجازت نہیں اور انھیں پارکوں اور جمز میں جانے سے روک دیا گیا ہے۔ اتنے سارے حقوق کے بغیر بہت سی خواتین کا سوچنا ہے کہ اب ان کے لیے کیا بچا ہے۔

فریبا اور یلدوز اور ان جیسی دیگر خواتین ایتھلیٹس ایک ایسے افغانستان کی نمائندگی کر رہی تھیں جو دو دہائیوں کے دوران امریکی زیر قیادت اتحاد کی جانب سے پرانی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد صنفی مساوات کی طرف کچھ پیش رفت کر رہا تھا۔ بہرحال ملک کے نئے روپ کو طالبان نے تسلیم نہیں کیا تھا۔

یہ بہنیں جانتی تھیں کہ اگر انھیں اپنے کریئر کو جاری رکھنا ہے تو انھیں ملک چھوڑنا پڑے گا۔ لہذا، انھوں نے ایلیسنڈرا کیپیلوٹو سے رابطہ کیا۔ وہ سنہ 1997 میں ورلڈ روڈ ٹائٹل جیتنے والی اطالوی خاتون ہیں اور اب دنیا بھر کی خواتین کی مدد کے لیے سائیکلنگ کا استعمال کرتی ہیں۔

،تصویر کا کیپشنایلیسنڈرا کیپیلوٹو نے سنہ 1997 میں عالمی مقابلہ جیتا

ان کی تنظیم ’روڈ ٹو ایکویلیٹی‘ نے مارچ سنہ 2021 میں خواتین کے عالمی دن کے لیے کابل میں منعقدہ ایک ریس کو سپانسر کیا تھا۔ اس وقت ہاشمی بہنیں کیپیلوٹو سے ملی تھیں۔

کیپیلوٹو کا کہنا ہے کہ ’انھوں نے مدد کے لیے کہا۔ ان کی جان خطرے میں تھی۔ اس لیے ان کی مدد کرنا فطری تھا۔ انھوں نے اطالوی وزیر خارجہ سے اقوام متحدہ تک ہر اس رابطے اور تنظیم کو کال کی جس کے بارے میں وہ سوچ سکتی تھی کہ انھیں باہر نکال سکیں۔‘

ان کے اثر و رسوخ سے فریبا اور یلدوز کے ساتھ ساتھ ان کے تین ساتھی نوریہ محمدی، زہرہ رضائی اور آریزو سروری نے اطالوی حکومت کے زیر اہتمام کابل سے ایک پرواز میں نشست حاصل کی۔

کابل ہوائی اڈے سے نکلنا ایک افراتفری والا اور پریشان کن تجربہ تھا۔ انھیں اپنے اہلخانہ کو الوداع کہنا پڑا۔ نجانے کب وہ پھر انھیں دوبارہ دیکھ سکیں گی۔

فریبا کہتی ہیں کہ ’میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں پناہ گزین ہو جاؤں گی اور مجھے اپنا ملک چھوڑنا پڑے گا۔‘

کیپیلوٹو انھیں شمالی اٹلی کے وینیٹو علاقے کے ایک چھوٹے سے پہاڑی قصبے میں لے آئیں جہاں اب وہ سب رہتی ہیں۔

یہ کوئی اتفاقی بات نہیں کہ یہ ایک ایسا مقام ہے جو سائیکل سواروں میں بے حد مقبول ہے اور جہاں سائیکل چلانے کے بے شمار دلکش راستے ہیں۔

انھوں نے افغانستان سے آنے والے اس گروپ کی ان کے نئے ملک میں آباد ہونے میں مدد کی۔ ان کے رہنے کے لیے ایک گھر کا انتظام کیا، جز وقتی ملازمتوں کے ساتھ سب سے اہم یہ انتظام کیا کہ انھیں ہفتہ وار اطالوی سیکھنے کے پرائوٹ ٹیوشن کی سہولت فراہم کرائی۔

الیسنڈرا نے انھیں بالکل نئی بائیک، پیشہ ور کوچ اور تربیتی شیڈول کے ساتھ ایک نئی زندگی فراہم کی۔

فریبا کہتی ہیں کہ ’الیسنڈرا ایک اطالوی سائیکلنگ ہیرو ہیں۔ انھوں نے ہماری بہت مدد کی۔ وہ ہمارے لیے ماں کی طرح ہیں۔‘

،تصویر کا کیپشنفریبا اور یلدوز اپنے کوچ اور ایلیسنڈرا کیپیلوٹو کے ساتھ

اس گروپ نے اپنے کوچ موریزیو کے ساتھ قریبی تعلق قائم کر لیا ہے۔ وہ انھیں پیار سے ’کیپٹانو‘ کہتے ہیں۔

یلدوز کہتی ہیں کہ ’افغانستان میں ہمارا کبھی کوئی کوچ نہیں تھا۔ جب میں یہاں آئی تو مجھے لگا کہ سیکھنے کو بہت کچھ ہے۔ یہ کسی جھٹکے سے کم نہ تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ میں سائیکلنگ کے بارے میں کچھ نہیں جانتی۔‘

الیسنڈرا بتاتی ہیں کہ ’ہاں، ان کے پاس سائیکلنگ کی بنیادی تکنیکی سطح تھی لیکن یہ سچ ہے کہ یورپ اور اٹلی میں سائیکلنگ کی سطح دنیا میں سب سے بہتر ہے۔‘

یہ حفاظت کا بھی مسئلہ تھا۔ وہ گاڑیوں کے ساتھ سڑکوں پر سائیکل چلانے کی عادی نہیں تھیں۔ انھیں سائیکلنگ کی مہارت کا کورس کرنا پڑا۔ عام طور پر بچے ایسا کورس کرتے ہیں۔

اکتوبر میں انھوں نے اٹلی پہنچنے کے بعد بیرون ملک اپنی پہلی بڑی ریس میں حصہ لیا۔ افغانستان کی سنہ 2022 خواتین کی روڈ چیمپیئن شپ کی میزبانی سوئٹزرلینڈ کے شہر ایگل میں کی گئی اور اس کی وجہ ملک کی صورتحال تھی۔

فریبا اپنی بہن کے خلاف ایک دلچسپ مقابلے کے بعد ریس جیت کر افغان خواتین کی نئی روڈ چیمپئن بن گئیں۔ فائنل لائن کو عبور کرنے کے بعد بہنوں نے ایک دوسرے کو آنسوؤں کے ساتھ گلے لگایا۔

فریبا کی جیت نے انھیں اسرائیل پریمیئر ٹیک رولینڈ ٹیم کے ساتھ ایک معاہدہ حاصل کرنے مدد کی اور وہ رواں سال کے آخر میں خواتین کے ورلڈ ٹور لیول یعنی روڈ سائیکلنگ میں سب سے اونچے درجے تک جانے کے لیے تیار ہیں۔

اس کے بعد انھوں نے میڈیا کو بتایا کہ ’میں نے اپنے خوابوں میں بھی اس کی توقع نہیں کی تھی۔ میں تمام افغان خواتین کے لیے ریس لگاؤں گی۔‘

ان کی بڑی بہن یلدوز جو دوسرے نمبر پر رہیں انھیں بھی اسرائیل پریمیئر ٹیک رولینڈ کی ترقیاتی ٹیم میں جگہ مل گئی ہے۔ ان کی دوست اور فلیٹ میٹ زہرہ رضائی نے کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔

افغان سائیکلنگ فیڈریشن کے صدر فضلی احمد فضلی نے کہا کہ ’میں ان کے لیے بہت خوش ہوں۔ یہ خواتین حیرت انگیز سوار ہیں اور مجھے یقین ہے کہ وہ جلد ہی افغانستان کے لیے بڑی ریس میں جیت حاصل کریں گی۔‘

،تصویر کا کیپشنفریبا اور یلدوز گذشتہ سال فاتح رہیں

اس سائیکل ریس میں پچاس سائیکلسٹس نے حصہ لیا، جن میں سے اکثر اگست 2021 میں افغانستان سے فرار ہو گئے تھے۔ وہ سنگاپور اور کینیڈا کے ساتھ یورپ کے مختلف ممالک سے آئے تھے جہاں انھیں نے پناہ گزین کے طور پر رہائش کے لیے درخواست دے رکھی ہے۔

ان بہنوں کے بڑے خواب ہیں۔ وہ اولمپکس میں افغانستان کی نمائندگی کرنے والی پہلی سائیکلسٹ (مرد یا عورت) بننا چاہتی ہیں۔

یہ آسان نہیں ہوگا، اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرنا بہت زیادہ سخت ہوتا ہے اور شاید افغانستان بالکل بھی کوالیفائی نہ کرے۔

دسمبر میں بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (IOC) نے طالبان حکومت کو خبردار کیا تھا کہ اگر خواتین اور نوجوان لڑکیوں کو کھیل تک محفوظ رسائی کی اجازت نہ دی گئی تو ملک پر پیرس 2024 کے اولمپکس میں شرکت پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔

اگر ایسا ہوتا ہے تو افغان پناہ گزینوں کے پاس اس کی بجائے آئی او سی ریفیوجی اولمپک ٹیم کے تحت مقابلہ کرنے کا اختیار ہو سکتا ہے، جیسا کہ افغان سائیکلسٹ معصومہ علی زادہ نے ٹوکیو 2020 میں کیا تھا۔

لیکن فریبا اور یلدوز نے اولمپک سکالرشپ حاصل کر رکھی ہیں اور انھیں اپنے کریئر کے لیے مالی اور تکنیکی مدد فراہم کی گئی ہے، وہ اپنے وطن کی نمائندگی کرنا چاہتی ہیں۔

،تصویر کا کیپشنیلدوز اور فریبا اولمپکس میں شرکت کا خواب دیکھ رہی ہیں

یلدوز کہتی ہیں کہ ’میں افغانستان کا پرچم بلند کرنا چاہتی ہوں۔ میں چاہتی ہوں کہ میرے والد اور والدہ مجھے دیکھیں اور فخر کریں۔ یہ اب تک کا سب سے بڑا خواب ہوگا۔‘

وہ گھر کو شدت سے یاد کرتی ہیں اور اپنے گھر والوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے فوری طور پر جذباتی ہو جاتی ہیں لیکن اکثر انھیں یاد دلایا جاتا ہے کہ وہ یہاں کیوں آئی ہیں۔

ان کے رشتہ داروں کی طرف سے سوشل میڈیا پر پیغامات آتے ہیں جو طالبان کے رکن ہیں۔ وہ ان سے کہتے ہیں وہ اپنے آپ کو ڈھکیں کیونکہ انھوں نے نے بین الاقوامی میڈیا میں ریس والی ان کی تصاویر دیکھی ہیں۔

یلدوز کا کہنا ہے کہ ’میری دوست سکول نہیں جا سکتے اور نہ ہی اپنا گھر چھوڑ سکتی ہیں۔ میں سوچتی ہوں، اگر میں وہاں رہتی تو میرا کیا ہوتا؟‘

گذشتہ سال ایک بڑے ثقافتی جھٹکے کا سال رہا لیکن اٹلی اور جس کمیونٹی کا وہ حصہ بن چکی ہیں، اس نے ان کا کھلے دل سے استقبال کیا۔

یلدوز مسکراتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’جب طالبان آئے تو میرا خواب دم توڑنے لگا لیکن اٹلی نے مجھے ایک اور امید دلائی۔‘

اس قدر کم عمر میں جب آپ کو اپنے وطن اور خاندان، اپنے کریئر اور خوابوں کے درمیان انتخاب کرنا ہوتا ہے تو یہ بڑا ظالمانہ ہوتا ہے۔ یہ بہنیں شکر گزار ہیں کہ وہ اس بڑی تبدیلی اور اس طرح کے نشیب و فراز میں ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔

جب تک طالبان حکومت میں ہیں ان بہنوں کے لیے پیشہ ور کھلاڑیوں کے طور پر گھر واپس جانا کوئی آپشن نہیں لیکن اس دوران یہ بہنیں سب پر ثابت کرنا چاہتی ہیں اور سب سے زیادہ خود کے لیے یہ ثابت کرنا چاہتی ہیں کہ سب کچھ پیچھے چھوڑنے کی قربانی کتنی قابل قدر تھی اور وہ ایسا کرنے کے لیے اپنی سائیکلنگ میں ہر ممکن جان ڈال رہی ہیں۔

Exit mobile version