اسلام آباد تھرلر اختتام پذیر... زمردخان کا کمانڈو ایکشن

skinder
چھے گھنٹے تک اسلام آباد پولیس کو زچ کرنے والے حافظ آباد کے سکندر کی احمقانہ طریقے سے لگائی گئی مقدر کی بازی زمردخان کی جرات سے پلٹ گئی۔ سنائپرز کی تین گولیاں کھانے کے بعد پمز ہسپتال اسلام آباد میں زندگی موت کی کشمکش میں مبتلا سکندر کی بیوی کنول اور بچے محفوظ ہیں۔ اسلام آباد پولیس کا اعتراف ہے کہ اگر زمرد خان جرات نہ کرتے تو کاروائی میں مزید تاخیر ہو جاتی۔ صدر زرداری سمیت تمام اہم سیاسی شخصیات نے زمر دخان کی بہادری کو سراہا ہے۔
گزشتہ روز پوری پاکستان کے علاوہ دنیا بھر نے دیکھ لیا کہ حکومتی اداروں کے پاس ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے کوئی پالیسی نہیں ہوتی ہے۔ یہ ملک جو گزشتہ ایک عشرے سے عملاً حالتِ جنگ میں ہے ، کو ایک نیم پاگل شخص بھی مفلوج کر سکتا ہے۔ سینکڑوں پولیس اہل کاراور سیکورٹی ادارے تماشا دیکھتے رہے او ر پاکستان کے ’’ایک سے بڑھ کر ایک‘‘ میڈیا چینل تمام دستیاب وسائل کے ساتھ وہاں ڈیرے ڈال کر بیٹھ گئے اور اس ایک گمنام شخص کو ہیروبنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔
وفاقی وزیرِ داخلہ کی طرف سے قانون نافذکرنے والے اداروں کو ہدایت تھی کہ سکند رکو زندہ حالت میں گرفتار کیا جائے اور یہ کہ کاروائی کے دوران اس کی بیوی اوربچوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ اس ہدایت نے پولیس کے آپشنز کو محدود کردیا تھا۔ اُس شخص کے پاس دو جدید اٹومیٹک بندوقیں تھیں اور ان سے وہ وقفے وقفے سے فائرنگ بھی کررہا تھا۔ خدشہ تھا کہ اس کی گاڑی میں بارودی مواد بھی ہو سکتا ہے۔
سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق ملزم سکندر ایوانِ صدر کی طرف جارہا تھا۔ جب اُسے روکا گیا تو اس نے فائرنگ شروع کردی۔ اس پر پولیس نے اُس کا تعاقب کیا تو اس نے گاڑی جناح ایونیوپر دوڑا دی۔ پولیس اور رینجراہل کاروں نے اُسے گھیر لیا لیکن واضح ہدایات نہ ہونے کی وجہ سے کوئی بھی کاروائی کرنے سے گریز کرتے رہے۔ اس دوران ملزم مختلف مطالبات پیش کرتا رہا۔ کبھی وہ کہتا کہ وہ ملک میں شریعت کا نفاذ چاہتا ہے یا موجودہ حکومت کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ اس نے ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان سے مذاکرات بھی کیے۔ اس کی بیوی کنول،جو اعلیٰ تعلیم یافتہ عورت ہونے کے علاوہ جدید اسلحے کا استعمال بھی جانتی تھی، نے متعدد بار اس کے مطالبات تحریری شکل میں پولیس کے حوالے کیے تاہم وہ مطالبات قابلِ عمل نہ تھے۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ اسے نشانہ بنانے کے بہت سے مواقع موجود تھے لیکن پولیس نے کوئی کاروائی نہ کی۔
ایم کیوایم کے رہنما نبیل گبول نے بھی اس سے بات کی۔ تاہم اس ڈرامے کا ڈراپ سین اُس وقت دیکھنے میں آیا جب پی پی پی کے رہما زمردخان اس سے بات کرنے کے بہانے اس کے قریب گئے اور بڑی مہارت سے بچوں کو ایک طرف کرکے اُس پر چھلانگ لگادی اور اُسے دبوچنے کی کوشش کی۔ سکندر نے کبڈی کے ماہر کھلاڑی کی طرح غچہ دے کر خود کو ایک طر ف کرلیا اور زمردخان زمین پر گر پڑے۔ پھر اُنھوں نے اسے ٹانگ سے پکڑنے کی کوشش کی، تاہم وہ شخص پیچھے ہٹ گیا اوراس نے فائرکھول دیا۔ خوش قسمتی سے زمردخان کوکوئی گولی نہیں لگی تاہم اسلام آباد پولیس کے کچھ اہل کار زخمی ہوگئے۔ اس کے بعد سکندر نے ہوامیں رائفل بلند کرکے فائرنگ کی جیسا کہ وہ خوف پھلانا چاہتا ہو۔ اتنی دیر میں جبکہ زمردخان نے اپنے ہوش و حواس قابو میں رکھے اور بھاگ کر اس کے بچوں کو اس سے دور کر دیا تو سنائپرز کو اسے نشانہ بنانے کا موقع مل گیا۔ ماہر نشانے بازوں کی دوگولیاں اس کی ٹانگوں اور ایک پیٹ کے نچلے حصے میں لگی اور وہ نیچے گر گیا۔ چھے گھنٹے جان بوجھ کر التوا میں ڈالی گئی یہ کاروائی چند لمحوں میں مکمل ہوگئی۔ اس کی بیوی کنول کی ٹانگ میں گولی لگی تھی ۔ ان دونوں کو پمز ہسپتال میں منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں کی ٹیم نے فوراً اس کا اپریشن شروع کیا۔ پمز ہسپتال کی ڈاکٹر عائشہ کے مطابق سکندر کی حالت خطرے نازک ہے کیونکہ پیٹ میں لگنے والی گولی نے اس کے جگر کو نقصان پہنچایا ہے۔ کنول کی حالت البتہ خطرے سے باہر ہے۔ ان دونوں کے خلاف تھانہ کوہسار میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
زمر دخان نے ایک ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ پانچ گھنٹے سے یہ تمام ڈرامہ ٹی وی سکرین پر دیکھ رہے تھے اور ا س سے ملک کی بدنامی ہورہی تھی کہ ایک شخص نے دارلحکومت کی اہم ترین شاہراہ پر قبضہ کررکھا ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادار ے خاموشی سے اس کا منہ دیکھ رہے ہیں۔ وہ گھر سے اس ارادے سے آئے تھے کہ وہ سکند ر کو پکڑنے کی کوشش کریں گے چاہے اس کوشش میں ان کی جان کیوں نہ چلی جائے۔ صدر زردای سمیت ملک کی اہم شخصیات نے زمرد خان کی بہادری کو سراہا ہے۔
یہ واقعہ تو اختتام پذیر ہو گیا لیکن یہ اپنے پیچھے بہت سے سوال چھوڑ گیا ہے کہ سکندر نے ایسا کیوں کیا؟ ا س کا اصل مقصد کیا تھا؟ یہ کاروائی اس نے اکیلے کی یا اس کا ماسٹر مائنڈ کوئی اور تھا؟اس سے دھشت گردوں کو کیا پیغام گیا ہے اور عالمی برادری میں پاکستان کے امیج کو کتنا دھچکا لگا ہے؟ایک بات طے ہے کہ یہ سیکورٹی کی ناکامی ہے کہ ایک شخص جدید اسلحہ لے کر پانچ دن تک دارلحکومت میں گھومتا رہا اور پھر وہ انتہائی حساس علاقے تک جا پہنچا لیکن اُسے کسی نے چیک نہیں کیا۔ اسلام آباد پولیس کا موقف ہے کہ جب اُس کے ساتھ گاڑی میں ایک برقع پوش خاتون اور دو معصوم بچے تھے تو ناکوں پر موجود اہل کاروں نے چیک کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ عوامی حلقوں نے اس ضمن میں میڈیا کے کردارکو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ ان کی کوریج نے کاروائی میں رکاوٹ ڈالی اور لوگوں کو ہیجان میں مبتلا کر دیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *