کیا پاکستان آج بھی گوروں کی کالونی ہے؟

عزہ عمرانizzah imran

میں یہ سوچنے لگی جب  مجھے ہفتے میں چھٹی بار یونیورسٹی کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کے دفتر کے باہر انتظار کرنا پڑا۔ میں حیران ہو رہی تھی کہ ایسی کیا چیز ہے جو ان لوگوں کو اس بات پر آمادہ کرتی ہے کہ اپنی دھونس بٹھانے کےلیے عوام کو تنگ کریں۔ تب میں نے سوچا کہ کیا آج بھی پاکستان گوروں کے دور  کی ایک کالونی ہے؟  کیاہم نے مغرب کی شاہانہ پالیسیوں سے نجات حاصل نہیں کی؟  کیا ایک عام پاکستانی شہری گوروں کے بوجھ کو کم کرنے کا ذریعہ ہیں اور انہیں یہ معلوم ہے کہ وہ  ایک مختلف رنگ کے انسان ہیں؟ جی ہاں۔ ایسا ہی ہے۔ جب کسی علاقے کو کالونی میں تبدیل کیا جاتا ہے تو صرف عوام کو تکالیف کا سامنا نہیں کرنا پڑتا بلکہ وہاں کا ماحول، فطرت، زبان، کلچر اور سوچ بھی تبدیل ہو جاتی ہے۔

کچھ لوگ تو اس صورتحال سے نکل آتے ہیں لیکن ہم نہیں نکل پائے۔ ہر سال 14 اگست کو ہم جھنڈے لہرا کر بہت فخر سے گوروں سے آزادی کا جشن مناتے ہیں۔ ہم اعلان کرتے ہیں کہ ہم آزاد ہیں  اور اپنی قسمت کے مالک خود ہیں۔ سچ یہ ہے کہ گورے تو رخصت ہو گئے لیکن ان کے نظریات ابھی بھی یہاں موجود ہیں۔ تقسیم ہند صرف مسلمانوں کی نجات کے لیے نہیں ہوئی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہمارے آباو اجداد کو احساس ہو گیا تھا کہ مسلمانوں کی ثقافت خطرے میں ہے  اور وہ جو بھی اپنے ساتھ منسوب کرتے اسے مٹا دیا جاتا تھا۔

جب آپ کی شناخت چھین لی جائے تو آپ کیا کہلائیں گے؟ آپ کی حیثیت کسی دوسرے کی  کتاب کے ایک سبق کی ہو جائے گی اس کے علاوہ آپ کچھ نہیں ہوں گے۔ اپنی شناخت کو بچانے کے لیے ہمارے آبا  و اجداد نے سب کچھ خطرے میں ڈال دیا۔ شیرخوار بچوں کی زندگیاں، لڑکیوں کی عزتیں،  لوگوں کی مغل ایمپائر کے خاتمے کے بعد معاشرے میں شمولیت، خوبصورت صحن اور ماوں کے ہاتھوں کی بنی چپاتیاں، خوبصورت جوار اور باجرے کے کھیت، یہ سب چیزیں خطرے میں ڈال کر ہمیں آزادی ملی۔

لیکن ہم نے ایک قوم کی حیثیت سے خود کو جو نقصان پہنچایا ہے جو کسی اور نے ہمیں نہیں پہنچایا۔ ہر ادارہ بھرتی کے وقت انگریزی زبان پر عبور کو بنیادی شرط قرار دیتا ہے۔ انٹرویو انگریزی میں لیے جاتے ہیں اور لینے والے لوگ انگریزی لباس میں ملبوس ہوتے ہیں۔ ہم بیرونی ممالک کی زبان کے ایسے اہم سمجھتے ہیں جیسے ان کے بغیر ہم روزی بھی نہیں کما سکتے۔

ہم ہولی پر رنگ نکال لیتے ہیں، ویلنٹائن ڈے پر پھول خریدتے ہیں ، ہالووین پر کاسٹیوم خریدتے ہیں، اور نئے سال کے آغاز پر جشن مناتے ہیں  لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ ہر گورے رنگ کے آدمی کو قانونی حق حاصل ہے کہ وہ مسلمانوں پر عید کے دن جانوروں پر ظلم کا الزام لگائے۔ کیا وجہ ہے کہ سیاستدانوں کے بچے چار سکیورٹی کاروں کے ساتھ گھومتے ہیں جن پر سکیورٹی گارڈز بھی تعینات ہوتے ہیں  لیکن عام آدمی کو موٹر سائیکل پر صرف ہیلمٹ کی حفاظت پر بھروسہ کرتے ہوئے سفر کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

آخر سیاستدانوں نے کیا کیا ہے جو ان کی زندگیاں عام آدمی کے مقابلے میں اتنی زیادہ اہم ہو گئی ہیں؟ کیا اس کی صرف یہی وجہ ہے کہ وہ امیر خاندان میں پیدا ہوئے ہیں ؟  ایک مشہور شاعر سیمز ہینی ایک نظم میں لکھتے ہیں: آپ نے اپنا بوجھ خود بنایا ہے اور آپ کے حقوق خود تمہارے ہاتھوں سے نکل چکے ہیں۔ حقوق کے لیے انہوں نے 'علامت' کا لفظ استعمال کیا ہے اور اسے ایک بیماری قرار دیا ہے ۔

یہی حقیقت ہے  کیونکہ اس چیز نے کمیونٹی کے اندر تقسیم پیدا کی ہے۔ لیکن مغرب کے پیچھے چلتے ہوئے کس چیز نے اس بیماری کو جنم دیا ہے؟  یہ ایک حقیقت ہے کہ ہماری سوچ بھی اب ہماری نہیں رہی۔ ہماری سوچ بیرونی ممالک کی پالیسیوں کی عکاس ہے۔ سب سے بڑا مجرم میڈیا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ انگلش لٹریچر میں شیکسپئر کلاسکس شامل ہیں  لیکن محسن حامد اور محمد حنیف کی کوئی تحریر شامل نہیں ہے۔ ہم اب ایک نئی غیر قوم کا انتظار نہیں کر سکتے کہ وہ آکر ہمیں جگائے کیونکہ ہم جو بھی کرتے ہیں اس کے لیے ہم خود کو پہلے سے ہی لیبل دے چکے ہیں۔

جب میں ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کے دفتر کے باہر انتظار کر رہی تھی میں نے کھڑکی میں سے اندر جھانکا۔ میں نے عورت کی صورت میں ایک کالونائیزر کو دیکھا  اس نے سفید رنگ کی شلوار قمیض پہن رکھی تھی اورپھو لدار دوپٹہ اور ہیل والی جوتی پہن رکھی تھی۔ وہ بڑے آرام سے چائے پی رہی تھی لیکن مجھے ملنے کے لیے بلانے پر تیار نہیں تھی۔ تب میں نے اس میں اپنا عکس دیکھا  اور پھر اچانک میری ناراضگی ختم ہو گئی۔ اسی لمحے مجھے اندازہ ہو گیا کہ ہم سب گورے ہی ہیں  اور بہت جلد انسانیت کو بھولنے سے کچھ دوری پر ہیں۔ اور ہم اس چیز سے بھی آگاہ ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *