’’مسلمان ‘‘ بہت بنا لئے ،اب انسان بنائیں !

عطاء الحق قاسمیA_U_Qasmi_converted

میں رو دھو کر بیٹھ گیا ہوں اور اب ہم سب کو شہر آرزو کا ماتم اس سوچ کے ساتھ کرنا چاہئے کہ ہمیں اس عفریت کا راستہ روکنے کے لئے کرنا کیا ہے ؟ میں یہ بات کھلے لفظوں میں کہنا چاہتا ہوں کہ اب لوگوں کو ’’مسلمان‘‘ بنانا چھوڑیں،اور انہیں انسان بنانے کی کوشش کریں، میں جانتا ہوں اس کے جواب میں یہ کہا جائے گا کہ ایک اچھا مسلمان اچھا انسان بھی ہوتا ہے، مگر میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہم اتنے اچھے مسلمان بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں جو اچھے انسان بھی ہوں ؟ ہم نے تو ایک بڑی تعداد کو صرف ’’عبادت گزار‘‘ بنایا ہے ایسے عبادت گزار جو عبادت بھی کرتے ہیں اور لوٹ مار بھی کرتے ہیں اور پھر انہی میں سے ایسے لوگ اور ایسے گروپ بھی سامنے آتے ہیں جو ’’اسلام‘‘ نافذ کرنے کے لئے ابھی تک لاکھوں خاندانوں کو تباہ وبرباد کر چکے ہیں اور اس دفعہ تو انہوں نے پھول جیسے بچوں کو بھی اپنی ’’دینداری ‘‘ کی بھینٹ چڑھا دیا ۔ ان دہشت گرد ’’دینداروں‘‘ کے ساتھ دلی ہمدردی رکھنے والے وہ لاکھوں ’’سہل پسند‘‘ بھی ہمارے درمیان موجود ہیں جو ہتھیار تو نہیں اٹھاتے لیکن ان کے دل ہتھیار اٹھانے والوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔
میں ان لوگوں سے متفق ہوں جو پنجاب اور خیبر وپختونخواہ کے کچھ علاقوں میں ان مسجدوں اور مدرسوں کی بات کرتے ہیں جہاں دہشت گردی کی پنیری کاشت کی جاتی ہے۔ چنانچہ ضرب عضب ایسا آپریشن دہشت گردوں کے ’’اساتذہ‘‘ کے خلاف ہی ہونا چاہئے لیکن ان ملکی اور غیر ملکی یونیورسٹیوں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کے ’’اساتذہ‘‘ کا بھی سراغ لگانے کی ضرورت ہے جو دہشت گردی کے بڑے بڑے منصوبوں میں ملوث رہے ہیں ۔دہشت گردی کا ابتدائی مرحلہ انتہا پسندی ہوتی ہے اور یہ اعلیٰ تعلیم یافتہ جاہل اپنے ابتدائی ماحول سے انتہا پسندی اور پھر دہشت گردی کی طرف جاتے ہیں ہمارے ہاں جو اسلام سکھایا جا رہا ہے اس میں آداب انسانیت کم اور آداب طہارت اور آداب غسل جنابت زیادہ ہیں یہ بھی ٹھیک ہے لیکن یہ مکمل اسلام نہیں ہے ۔ مکمل اسلام کے لئے میں ان لوگوں سے اپیل نہیں کروں گا جو ہمارے خوبصورت دین کے چہرے پر جہالت کا تیزاب پھینک رہے ہیں، ان سے اپیل نہیں کروں گا کہ وہ مسلمانوں کو صحیح مسلمان بنائیں بلکہ یہ اپیل میں حکومت سے کر رہا ہوں کہ وہ ان تمام سوراخوں کو بند کرے جہاں سے یہ سانپ نکل کر مسلم امہ کو ڈس رہے ہیں اور ان عناصر کو بھی ملیا میٹ کرے جو ان سانپوں کو دودھ پلاتے ہیں۔ جمہوری حکومتیں ایک حد تک بے بس ہوتی ہیں کہ وہ ووٹ کی محتاج ہوتی ہیں، چنانچہ ان سے اتنے بولڈ اقدامات کی توقع رکھنا ناانصافی ہے تاہم یہ کام حکمت عملی سے بتدریج کیا جا سکتا ہے اور میرے نزدیک اس کے لئے پشاور کا سانحہ جو نائن الیون سے کہیں بڑا سانحہ ہے حکومت کے کام کو آسان کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ یہ وہ وقت ہے جب پوری قوم کے دل ان گندے لوگوں کے خلاف نفرت سے بھرے ہوئے ہیں چنانچہ حکومت اگر اس وقت کوئی قدم اٹھاتی ہے تو جہاں پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہو گی وہاں ان سانپوں اور سنپولیوں کو بھی جرات نہیں ہو گی کہ وہ ان کی حمایت میں سامنے آئیں ۔اور ہاں اب ہماری ایجنسیوں کو بھی چاہئے کہ وہ صرف ملک دشمنوں پر نظر رکھیں اور کسی بھی ’’حکمت عملی ‘‘ کے تحت کسی بھی گروہ کے ہاتھوں میں ہتھیار نہ تھمائیں انہی ہتھیاروں نے بالاخر ہمارے معصوم بچوں کے سینے چھلنی کئے ہیں۔ اس وقت قوم کتنی سوگوار ہے اور کس قدر رنج وغم میں ڈوبی ہوئی ہے ، اس کا اندازہ اس امر سے لگائیں کہ ہمارے تاجر جو کبھی اپنا کاروبار بند کرنا پسند نہیں کرتے، رضاکارانہ طور پر آج وہ سوگ کی حالت میں کاروبار بند کئے ہوئے ہیں یہ موقع ہے کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف فوری طور پر قوم سے خطاب کریں اور یہ خطاب ایسا ہو جو قوم کے خون کو ان طبقوں کے خلاف گرما دے جو ہمارے ملک کی جڑیں اسلام کے نام پر کھوکھلی کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔ اس کے ساتھ وہ سیاست دانوں، صحیح اینکر،عالموں، نیز فوج اور ایجنسیوں کے مشورے سے ایک ایسی حکمت عملی تیار کریں جس کے نتیجے میں سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے یہ وقت کی صرف اہم ضرورت ہی نہیں بلکہ بہترین موقع بھی ہے ، قوم اس وقت ان سانپوں اور سنپولیوں کے خلاف غصے سے بھری پڑی ہے جو ہماری رگوں میں زہر پھیلا کر ہمیں موت کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں ۔گرم لوہے پر اگر اس وقت چوٹ نہ لگائی گئی تو پھر کبھی نہیں لگائی جا سکے گی! قوم کے غیظ وغضب اور رنج وغم کا یہ عالم ہے کہ اسٹیج کے اداکار جو لوگوں کو ہنستے ہنساتے ہیں آج تھیٹر بند کرکے معصوم بچوں کی یاد میں شمعیں جلا رہے ہیں ۔میں نے اداکارہ کنول کو ٹی وی پر زاروقطار روتے دیکھا، مسقط سے نوجوان شاعر قمر ریاض نے مجھے پرسا دینے کے لئے فون کیا تو وہ اس دوران بلک بلک کر رونے لگا۔ فیس بک پر سول سوسائٹی کے آنسو بکھرے پڑے ہیں، سرور سکھیرا ایسا خوبصورت رائٹر اور بظاہر لاابالی سے شخص کا قلم آنسو بہا رہا ہے۔ ملتان میں مقیم نہایت تخلیقی شاعرہ رفعت ناہید لکھتی ہیں ’’میں کل سے بار بار روتی ہوں، رونا کافی نہیں دل جگر کٹ کر باہر نکل آئے ہیں۔ میں ان ساری مائوں کے ساتھ بین کر رہی ہوں جو سکتے کے عالم میں ہیں مگر ان کے بین سنے جا سکتے ہیں ۔میں ان پھولوں کا لہو چوم رہی ہوں جنہیں بے دردی سے مسل دیا گیا ‘‘ لاہور سے حسن عباسی نے مجھے یہ نوحہ ایس ایم ایس کیا۔
ماں کا تو بیٹا جاتا ہے
اور کسی کا کیا جاتا ہے
یارب ننھے سے بچوں کو
کیا ایسے مارا جاتا ہے
سوگ میں سکتے کا عالم ہو
کس سے پھر رویا جاتا ہے
جس کا گھر لٹ جائے اس سے
گھر کیسے آیا جا سکتا ہے
ایک نامعلوم دوست کا ایس ایم ایس :
کچی کلیاں کیا جانے کب کھلنا کب مرجھا جانا ہے!
راولپنڈی سے ایک قاری خالدہ صاحبہ کی فارورڈ کیا ہوا ایس ایم ایس ،اس میں شہید ہونے والے بچوں کے جذبات ہیں :
کچھ یادیں ہیں ان لمحوں کی
جن لمحوں میں ہم ساتھ رہے
خوشیوں سے بھرے جذبات رہے
اک عمر گزاری ہے ہم نے
ہم روتے ہوئے بھی ہنستے تھے
کچھ کہتے تھے کچھ سنتے تھے
جب اک دوجے سے ملتے تھے
ہم سب کے چہرے کھلتے تھے
پرلطف وہ منظر ہوتا تھا
سب مل کر باتیں کرتے تھے
ہم سوچو کتنا ہنستے تھے
وہ گونج ہمارے ہنسنے کی
اب ایک پرانی یاد بنی،
یہ باتیں ہیں ان لمحوں کی
جن لمحوں میں ہم جیتے تھے
اب کبھی نہ ہم مسکائیں گے
اب واپس گھر نہ آئیں گے!
کیا دہشت گرد قوم کے ان جذبات سے آگاہ ہیں، ہرگز نہیں ، کیونکہ قوم سے ان کا واسطہ ہی کوئی نہیں ان کا رشتہ صرف قتل وغارت گری سے ہے، مگر اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اپنے خلاف پائی جانے والی نفرت سے آگاہ ہو جائیں کہ قوم پر ایک اصل اسلام اور جعلی اسلام کا فرق پوری طرح واضح ہو چکا ہے !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *