جاوید آفریدی اور شاہ رخ خان کے بیچ میچ کی خبریں اور غلط فہمیاں

طٰہٰ انیسjaved afridi

کراچی۔ جب پشاور ظلمی کے مالک جاوید آفریدی نے اعلان کیا کہ ان کی پوری ٹیم لاہور میں فائنل کھیلنے کے لیے تیار ہے تو اس ا علان نے ملک بھر کے دل جیت لیے ۔ میچ سے قبل سمی نے اعلان کیا کہ جیت کی صورت میں پوری ٹیم سر منڈواے گی جس سے شائقین کی توجہ مزید ان کی طرف جانے لگی۔ پھر پاکستان آ کر اس ٹیم نے پی ایس ایل بھی جیت لیا  ۔میچ کے بعد سمی نے کہا کہ یہ صرف ایک میچ نہیں تھا بلکہ اس سے ملک بھر کے چہروں پر مسکراہٹ لوٹانا بھی ہمارا مقصد تھا۔

جب انہوں نے یہ کہا تو بہت سے ناظرین کی آنکھیں خوشی کے آنسو سے بھیگ گئیں  اور ان کے چہروں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ پشاور ظلمی کا فین ہونا بہت اچھی چیز تھی اور اس ٹیم کا مالک ہونا تو بہت ہی اعلٰی مرتبہ رکھنے کی بات تھی۔ یہ ٹیم پی ایس ایل کی چمپئن تھی اور دنیا بھر میں شہرت حاصل کر رہی تھی۔ 9 مارچ کو جاوید آفریدی نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ بھارت کے فلم سٹار شاہ رخ خان نے فون کر کے انہیں مبارکباد دیتے ہوئے پشاور ظلمی سے اپنی ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز سے تین میچ کھیلنے کی پیش کش کی۔

انہوں نے یہ دعوی بہت سے ٹی وی چینلز اور دوسرے میڈیا ذرائع کے سامنے بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ کابل کا دورہ پاکستان اور افغانستان کے بیچ تعلقات میں بہتری کا موجب بن سکتا ہے  اور اگر کے کے آر کے ساتھ سیریز کا امکان پیدا ہوتا ہے تو پاک بھارت تعلقات بھی بہتری کی طرف گامزن ہو سکتے ہیں۔ ملالہ یوسف زئی اور نرگس فخری نے بھی اپنی سپورٹ کا اعلان کیا۔ ایسا محسوس ہونے لگا جیسے جاوید آفریدی اس قوم کے ہر خواہش کو پورا کرنے والے ہیرو بن چکے ہیں۔

لیکن ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کے اندر سرعام جھوٹ بولنے کی قابلیت بھی پیدا ہو گئی ہے۔ ان کے بیان کو جب پاک بھارت میں ٹی وی چینلز پر ہیڈ لائن کی حیثیت اختیار کر گئی تو کلکتہ نائٹ رائیڈر کی آفیشل ٹویٹر اکاونٹ پر آفریدی کے بیان کی تردید شائع کر دی گئی۔ متعلقہ محکمہ نے لکھا کہ"  کولکتہ کی ٹیم کوئی بھی لیگ کھیلنے کی خواہش نہیں رکھتی اور گردش کرنے والی خبریں افواہ کے بغیر کچھ بھی نہیں ۔ ہماری طرف سے ایسی کوئی پیش کش نہیں کی گئی۔ "

کے کے آر کے سی ای او نے مزید بتایا کہ شاہ رخ خان سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ شوٹنگ میں اتنے مصروف ہیں کہ انہیں معلوم بھی نہیں ہے کہ پاکستان یا دبئی میں پاکستان سپر لیگ کا انعقاد بھی ہو رہا ہے یا نہیں۔ مبارکباد یا میچ کھیلنے کی پیشکش کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اگر میسور کی بات کو سچ مان لیا جاائے تو اس کا مطلب ہے کہ شاہ رخ خان نے نہ تو جاوید آفریدی کو کوئی فون کیا اور نہ ہی انہیں پشاور زلمی کی فتح کا علم تھا۔ انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ پاکستان  سپر لیگ اور پشاور زلمی ہیں کیا چیز۔ اس سے یہ بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہےکہ شاید شاہ رخ خان جاوید آفریدی کو جانتے تک نہ ہوں۔

جب یہ سب کچھ ہو چکا تو پہلے تو جاوید آفریدی نے میڈیا کی کالز لینا بند کیا اور پھر فون ہی سوئچ آف کر دیا۔ تھوڑی دیر بعد انہوں نے بھی ٹویٹر کا رخ کیا اور اپنے دعووں کی ہی تردید کر دی۔ انہوں نے ٹویٹر پر لکھا: ہم امن کے لیے کرکٹ کے مواقع کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن کولکتہ اور پشاور کے بیچ میچز کے انعقاد کے بارے میں چل رہی خبروں میں کوئی  صداقت نہیں  ہے۔

جاوید آفریدی نےاس ملک کی کرکٹ کے لیے بہت کچھ کیا اور خاص طور پر جب انہوں نے آرمی پبلک سکول کے  حملے کا شکار زخموی بچوں کو اپنے ساتھ دبئی لے جانے کا اعلان کیا تو اس سے انہوں نے بہت ساری عوام کے دل جیتے لیکن  حال ہی میں جو انہوں نے افواہیں پھیلا کر حالات پیدا کیے انہوں نے بہت مایوس کیا۔ اتنی بڑی کامیابیوں اور شہرت کے کچھ ہی دیر بعد انہوں نے ایک ایسے شخص کے بارے میں بلندو بانگ دعوے کر کے جو شاید انہیں جانتا بھی نہیں  انہوں نے ساری کامیابی کا رنگ گہنا دیا۔ عزت پا کر کھونے کی انہوں نے ایک بدترین مثال قائم کی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *