حمزہ عباسی عمران خان کا دفاع کب تک کریں گے؟

رضا حبیب راجا
raza habib

آج کل عمران خان جو تحریک انصاف کے لیڈر ہیں کو مہمان کھلاڑیوں کے لیے پھٹیچر لفظ استعمال کرنے پر بہت زیادہ تنقید کا سامنا ہے۔ میرے اپنے اندازے کے مطابق عمران خان نے اس طرح کے الفاظ کر کے اپنے آپ کو ایک ناسمجھ شخص ثابت کیا ہے۔ اگر پاکستان پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں منعقد کروانے کے قابل نہ  ہو تا تو مجھے پکا یقین تھا کہ عمران خان اسے حکومت کی ناکامی قرار دیتے ۔

 جب حکومت نے ہمت دکھاتے ہوئے اس میچ کے انعقاد کو ممکن بنا ہی لیا ہے تو بھی عمران خان ملک کی حکومت اور سکیورٹی ایجنسیوں کی محنت کو چھوٹا کر کے دکھانا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے دوسرے ممالک سے آنے والے کھلاڑیوں کو بھی بے عزت کرنے سے گریز نہیں کیا  جو بہت سی وارننگز اور خطرات کو دیکھتے ہوئے بھی پاکستان آنے پر تیار ہوئے۔ عمران خان کے بیانات اور ان کا رویہ ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے۔

سکیورٹی صورتحال کو دیکھتے ہوئے بات کی جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ حکومت نے بہت محنت کے ساتھ لاکھوں پاکستانیوں کے چہروں پر مسکراہٹ پھیلانے کی کوشش  کی ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ حقیقی کامیابی تبھی ہو گی جب دوسرے ممالک کی ٹیمیں پاکستان کا دورہ کرنے لیے بلا خوف و خطر تیار ہو جائیں  اور ملک کے تمام سٹیڈیمز میں میچز کا انعقاد ہو اور سٹیڈیمز تماشائیوں سے ایسے ہی بھرے پڑے ہوں۔

 لیکن سکیورٹی صورت حال کو راتوں رات  بہتر نہیں کیا جا سکتا لیکن اس میچ کے لیے ہمارے ملک نے بھر پور محنت کی اور خواب کو سچ کر دکھایا۔ خطرے کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہونے کے عمل کی تعریف کرنی چاہیے  نہ کہ اسے چھوٹا کر کے اس کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی جائے۔ انسان کو ایسےوقت میں اپنی سیاسی تنگ نظری ترک کر کے حکومت کی مدد کرنی چاہیے  لیکن پی ٹی آئی چیف کے لیے یہ آسان نہیں تھا اس لیے انہوں نے سٹیڈیم میں بھی گو نواز گو کے سیاسی نعرے لگوائے  جب نجم سیٹھی قذافی سٹیڈیم میں  شائقین سے خطاب کر رہے تھے۔

  میری رائے میں میڈیا کی عمران خان پر تنقید بجا ہے ۔ اگرچہ پی ٹی آئی سپورٹرز اس بار بھی اسے چھوٹی سی بات کہہ کر نظر انداز کر دیں گے اور اسے میڈیا کا تعصب قرار دیتے ہوئے اسے پانامہ جیسے معاملے سے توجہ ہٹانے کا ذریعہ قرار دیں گے۔ جب بھی عمران خان پر تنقید کی جاتی ہے تو اسے پی ٹی آئی سپورٹرز ایک چال قرار دیتے ہیں  اور کہتے ہیں کہ اس کا مقصد عمران خان کا امیج خراب کرنا ہے۔

جیسا کہ توقع کی جا سکتی ہے پی ٹی آئی کا ٹرال بریگیڈ آج بھی عمران خان کے دفاع میں مصروف ہے اور ان کی بے وقوفیوں اور حماقتوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش جاری ہے۔ جو بھی ہو، ٹرال تو ٹرال ہی ہوتے ہیں ان کو کچھ اچھا کرنے کی توفیق نہیں ہوتی۔ لیکن اس موقع پر میں حمزہ علی عباسی سے یہ توقع نہیں رکھتا تھا کہ وہ عمران خان کے اس ہتک آمیز رویہ کا دفاع کریں گے۔

مجھے معلوم ہے کہ حمزہ عباسی کو ویڈیوز بنا نے کا شوق ہے اور وہ ایک سے زیادہ بار عمران خان کے دفاع کے لیے کیمرہ کا سہارا لے چکے ہیں۔ کئی بار وہ اپنے دل کی بات کرتے ہیں اور کبھی کبھار ان کی بات ٹھیک بھی ہوتی ہے۔ البتہ جو انہوں نے تازہ ترین ویڈیو بنا کر عمران خان کا  دفاع کرنے کی کوشش کی ہے وہ بہت افسوسناک اور احمقانہ  ہے۔ حمزہ عباسی نے اس بار بھی وہی پرانہ بہانہ بنایا اور کہا کہ اس سے بڑھ کے دوسرے بڑے معاملات کی طرف توجہ دینی چاہیے ۔

اس کا جواب یہ بھی دیا جا سکتا ہے کہ پانامہ معاملہ بھی اتنا اہم نہیں ہے اور اس سے بڑھ کر بھی بہت سے معاملات ہیں جن پر بات کی جانی چاہیے۔ پاکستان اس قدر مشکلات میں گھرا ہوا ہے اور پی ٹی آئی کا واحد مقصد نواز شریف کو کرپٹ ثابت کرنا ہے اور اس کے بعد انہیں ہر معاملہ غیر اہم نظر آتا ہے۔ وہ انتے بوکھلا چکے ہیں کہ بم دھماکوں کو بھی نوازشریف کی کرپشن چھپانے کی ایک چال قرار دیتے ہیں۔ حمزہ عباسی کی اس ویڈیو کا سب سے اہم اور مزاحیہ مرحلہ یہ تھا کہ انہوں نے اپنے آپ کو غیر جانبدار قراردیا اور کہا کہ وہ پی ٹی آئی کا دفاع نہیں کر رہے ہیں۔ ان کا غصہ اور جذبہ ان کے بیانات کی صاف صاف نفی کر رہا تھا۔ ایک موقع پر تو مجھے لگا وہ رو پڑیں گے۔

حمزہ عباسی کا کہنا تھا کہ عمران خان کی یہ گفتگو ایک پرائیویٹ سیٹنگ میں ہوئی تھی   جو کہ سچ نہیں ہے۔ عمران خان نے یہ تبصرہ ایک وفد کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا تھا۔ اگرچہ انہوں نے یہ بیان میڈیا کے سامنے کیمرہ پر نہیں دیا لیکن پھر بھی اسے پرائیویٹ گپ شپ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس کے بعد حمزہ عباسی نے عمران خان کے شوکت خانم ہسپتال کا ذکر کیا  اور عمران خان پر تنقید کو روکنے کی کوشش کی  تا کہ عمران خان کی سیاسی غلطیوں کی پردہ پوشی کی جا سکے۔ انہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اس وقت عمران خان پر تنقید ان کے فلاحی کاموں پر نہیں بلکہ  ان کے سیاسی نقطہ نظر پر کی جا رہی ہے۔

 میں یہ مانتا ہوں کہ عمران خان کی فلاحی خدمات قابل تعریف ہیں اور وہ ملک کے سب سے بہترین کرکٹر بھی رہ چکے ہیں  اور میں ان کی کرکٹر کی حیثیت سے کامیابیوں کی بھی تعریف کرتا ہوں۔ لیکن ان کے سیاسی معاملات کو علیحدہ رکھ کر ڈیل کیا جا ئے تو بہتر ہے۔ ا ن کی فلاحی خدمات اور کرکٹ کا ان کی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کے دوسرے کاموں کو سامنے لا کر سیاسی نااہلی پر پردہ ڈالنے کی کوشش صحیح طرز عمل نہیں ہے۔ ایک عوامی شخصیت کی حیثیت سے حمزہ علی کا فرض بنتا ہے کہ وہ یہ سمجھیں کہ ہر بات جو وہ کہتے یا کرتے ہیں ان کے خلاف کھڑی کی جا سکتی ہے۔

ان کی کچھ ذمہ داریاں بھی ہیں جو انہیں  صرف سیاسی پارٹی کے پیار میں ایک بُرے امیج والے سیاسی رہنما کی خاطر نظر انداز نہیں کرنی چاہیے۔ پی ٹی آئی کے سربراہ کے لیے ابھی بھی وقت ہے کہ وہ اپنے سیاسی حربے بہتر نہج پر لانے کی کوشش کریں۔ آج تک وہ بہت ہی عجیب اور قابل مذمت سیاسی چالیں چلتے دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں طاقت کے لیے کسی بھی سطح تک گرنے میں کوئی عار  محسوس نہیں ہوتی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *