گوادر چاہ بہار اور دبئی

نوید احمدnaveed ahmed

صرف 100 کلو میٹر کے فاصلے پر موجود چاہ بہار اور گوادر پورٹ دو حریف بندگاہوں کا درجہ رکھتی ہیں۔ کئی دہائیوں تک دونوں بندرگاہوں کے قریبی علاقے کے لوگ میرائن فشنگ اور شپنگ ٹریڈ پر انحصار کرتے آئے ہیں۔ پاکستان نے اس سے قبل کبھی بلوچستان کی اہمیت کو اپنے فائدے کے لیے استعمال نہیں کیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے کریملن کو گوادر پورٹ پر ایک سوویت نیول بیس تعمیر کرنے پر رضا مند کر لیا تھا۔ لیکن اپنی مقامی سیاسی مسائل کی وجہ سے وہ اس معاہدے پر دستخط کرنے میں ناکام رہے۔ اسی عرصہ میں امریکہ نے ایران کے شاہ کو چاہ بہار پر نیول بیس تعمیر کرنے  کا مشورہ دیا۔ لیکن دونوں ممالک کے سربراہ ملک میں ہونے والی بغاوت کی نظر ہو گئے۔ سستان بلوچستان صوبہ کا دارالحکومت  1979 کی بغاوت کے بعد بری طرح متاثر ہوا تھا جس کی وجہ یہاں کی سنی مسلمانوں کی اکثریت تھی۔

 نہ صرف گوادر بلکہ پوری مکران کوسٹ جو الکوھ کے علاقے سے کراچی کے لسبیلا ڈسٹرکٹ تک 1500 کلو میٹر کے فاصلے پر پھیلی ہوئی ہے اس کی ترقی امریکی صدر باراک اوبامہ کے مرہون منت ہیں۔ امریکہ نے اپنی فارین پالیسی کو ری بیلنس کرنے کے لیے پائیوٹ ٹو ایشیا پالیسی متعارف کروائی۔ اس پالیسی کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ٹرانس پسییفک پارٹنر شپ کی پالیسی بنائی گئی۔ براک اوبامہ کی روس کے متعلق پالیسی بھی ایک ماسٹرسٹروک تھا۔ لیکن اس کے باجود امریکی خارجہ پالیسی ہر موقع پر ناکام ہوتی رہی۔

 اگرچہ  پائیو وٹ میں بھارت کو سب سے اہم مقام دیا گیا لیکن اس سے چین کو خوفزدہ نہ کیا جا سکا۔ اس سے نہ صرف ساوتھ چائنا سی پر نیول بیسز کی تعمیر ممکن ہوئی بلکہ چین نے امریکہ کو ون بیلٹ ون روڈ حکمت عملی کے ذریعے پریشانی میں مبتلا کر دیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹی پی پی کو چین اور روس کے فائدہ کے لیے چھوڑ دیا۔ وائٹ ہاوس کی طرف سے  یہ ری سیٹ ایک ہالوسینیشن کے سوال کچھ نہ تھا۔ اوباما کی  ناکام پالیسیوں کی بدولت بحر الکائل اور بحر ہند پر مزید چیلجز بڑھ گئے ہیں۔

پاکستان اور چین کے بیچ معاملات کے لیے گوادر پورٹ بھر پور طریقے سے فٹ بیٹھتی ہے۔ 2003 سے بھارت نے ایران کے ساتھ چاہ بہارکی تعمیر کا معاہدہ کر کے چین کو بحر ہند پر کنٹرول میں رکھنے کی کوشش جاری رکھی ہے اور بھارت اس طریقے سے پاکستان کو بھی گھیرنے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ ایران کی ریاستی پالیسی کے مطابق چاہ بہار کا مقصد نہ تو گوادر کا مقابلہ کرنا ہے اور نہ ہی اسے بھارت کا سٹریٹیجک اثاثہ بنانا ہے۔

 حقائق اس سے بلکل مختلف ہیں۔ چین پاکستان اکنامک کوریڈور کے ذریعے گوادر کو سنگا پور جیسا بنانے کی توقعات کی جا رہی ہیں  جب کہ چاہ بہار ایران اور بھارت کی طرف سے گوادر پورٹ کی اہمیت کم کرنے کی کوشش ہے۔ کچھ تجزیہ نگاروں کا خیا ل ہے کہ گوادر اور چاہ بہار کی وجہ سے دبئی کی بندرگاہ کی اہمیت کم ہو سکتی ہے۔ یو اے ای جس نے ہمیشہ لالچ کی تعصب کی بنیاد پر اپنی بندرگاہ پر اجارہ داری بنائے رکھی ہے نے آبنائے ہرمز پر ہونے والی تبدیلیوں پر نظریں جما رکھی ہیں۔

 کیا ہمسایہ ممالک میں بننے والی بندرگاہیں یو اے ای کے لیے چیلنج ثابت ہو رہی ہیں؟  جہاں تک چاہ بہار کا تعلق ہے، بھارت کے اس بندر گاہ سے فوائد کا بھارت کی طرف سے پیش کردہ انویسٹمنٹ سے ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ دہلی نے پہلے 500 ملین ڈالر اس بندرگاہ کی تعمیر کے لیے لگائے ہیں اور اب مزید 22 ملین ڈالر دینے کااعلان کر رکھا ہے۔ چین کی گلف کو آپریشن کونسل کے ساتھ تجارت بھارت کی وسطی ایشیائی ریاستوں اور یوریشیا کے ساتھ موجودہ ٹریڈ والیم کےمقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ گوادر نہ صرف چین کی امپورٹ اور ایکسپورٹ کی تجارت کے لیے اہم ہے بلکہ افریقہ اور کچھ یورپی ممالک کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔

چین اس وقت گلوبل آوٹ پٹ کا 25 فیصد حصہ استعمال کر رہا ہے اور اس کے سب سے بڑے  ذرائع  جی سی سی ریاستیں ہیں جہاں سے چین ہائیڈرو کاربن حاصل کرتا ہے۔ 2020 تک جی سی سی کا سب سے بڑا ٹرید پارٹنر چین ہو گا۔ چین اس وقت تک جی سی سی ریاستوں سے 160 بلین ڈالر  کی امپورٹ اور 135 بلین ڈالر کی ایکسپورٹ کرنے کی طاقت حاصل کر لے گا۔ 2025 تک چین کا بنیادی تجارتی راستہ گوادر پورٹ کہلائے گا اور اسے سٹریٹ آف ملکا پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

 اس وقت سعودی عرب روس کے بعد چین کا سب سے بڑا آئل ٹریڈنگ پارٹنر ہے اور ملک کی کل آئل تجارت کا پندرہ فیصد حصہ چین کو فروخت کرتا ہے۔ اس سال جی سی سی اور چین کے بیچ ایف ٹی اے معاہدہ ہونے کے بعد چین یورپی یونین کو پیچھے چھوڑ دے گا۔ پاکستان پر انحصار کو دیکھتے ہوئے جی سی سی ممالک جن میں سعودی عرب اور قطر خاص طور پر قابل ذکر ہیں پاکستان کی گوادر بندر گاہ پر پائپ لائن کی تعمیر کی خواہش کرنے لگے ہیں۔ اس معاملے میں سب سے آگے آرمیکو کمپنی ہے جس نے پہلے سے ہی اس پراجیکٹ میں شمولیت اختیار کر رکھی ہے۔

گوادر چاہ بہار کے مقابلے میں ترقیاتی لحاظ سے دس سال آگے ہے اور اسے میری ٹائم انڈسٹری میں زیادہ اہمیت ملے گی۔ ایران کی طرف سے اپنی چاہ بہار کی غیر ریاستی عناصر اور مسلمان ممالک سے سکیورٹی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات اس بندرگاہ کو ہر وقت جنگ کے خطرے میں ڈالے رکھیں گے ا وراس پر پابندیاں بھی لگائی جا سکتی ہیں۔ چاہ بہار ایک فشنگ پورٹ سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے اور یہ گوادر کا کسی لحاظ سے مقابلہ نہیں کر سکتی جب کہ گوادر پورٹ فطری طور پر بڑے بڑے جہازوں کے لنگر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں چاہ بہار کو بہت زیادہ ترقیاتی منصوبوں اور مرمتی کاموں کی ضرورت ہو گی۔

گوادر اور چاہ بہار جیسے بندگاہیں جبل علی اور پورٹ راشد کا کبھی مقابلہ نہیں کر پائیں گی۔ جہاں مکران کوسٹ پر بندگاہوں کی تعمیر جاری ہے وہاں دبئی پورٹ کی 102 برتھ ہیں اور یہاں ایکٹو وی ایل سی سی پیٹرولیم سپلائی ٹرمینل بھی موجود ہیں۔ جہاں ایرانی بندرگاہ گوادر کا مقابلہ نہیں کر سکتی وہاں گوادر پورٹ دبئی پورٹ کے تجارتی مقاصد کو بڑھانے میں مدد گار ثابت ہو گی۔ آنے والے وقتوں میں آبنائے ہرمز پر رش بڑھ جائے گا اوراس کا واحد حل مکران کوسٹ پر پائپ لائن لگا کر چین، پاکستان اور جی سی سی کی تیل کی فروخت والے ممالک گوادر کو استعمال کر سکیں گے۔

دبئی اور گوادر سسٹر پورٹس بن سکتی ہیں کیونکہ چین اس وقت شہر کا سب سے بڑا نان آئل ٹریڈ پارٹنر بن چکا ہے۔ اس لیے یو اے ای کی 50 بلین کی تجارت صرف گوادر کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ تمام مقاصد کے لیے گلف سٹیٹ کو اس اہم بندرگاہ پر انویسٹ منٹ کرنی ہو گی اور پاکستان کے دوسرے ہمسایہ مالک کی طرح اس کا مقابلہ کرنے سے گریز کرنا ہو گا۔ دبئی ایک بہت اچھی پورٹ ہے جس پر جدید ترین سہولیات مہیا کی گئی ہیں اور یہ جی سی سی کے مرکز میں واقع ہے اور گوادر کو ابھی بہت سے ترقیاتی مراحل سے گزرنا ہے۔

  البتہ دبئی کو سب سے بڑا خطرہ عمان کی سوہار پورٹ سے ہے۔ سٹریٹ آف عربین گلف پر موجود بندرگاہوں کو مشکلات میں ڈالنے والی یہ نئی بندرگاہ بلکل راستے میں ہی پڑتی ہے۔ دبئی سے صرف 200 کلو میٹر کے فاصلے پر موجود سوہار پہلے ہی جبل علی اور دوسری گلف بندرگاہوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ عمانی ریل کی سہولت کی وجہ سے سوہار بندر گاہ پر کنٹینر کا سائز بڑھا کر 4 ملین ٹی ای یو  تک لے جانے کی پلاننگ کی جا رہی ہے۔

 جی سی سی ریلوے نیٹورک کے ذریعے سوہار پورٹ بہت جلد دبئی کی بندرگاہ جیسی ہو جائے گی۔ جب یہ مکمل طور پر آپریشنل ہو گی تو گوادر بندرگاہ دبئی اور سوہار بندگاہ تک تجارت کے لیے مددگار ثابت ہو گی۔ اپنے پانیوں کی حفاظت کے لیے پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ جی سی سی پورٹس کے ساتھ پارٹنر شپ کو انسٹیٹیوشنلائز کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بہت سے معاملات میں جی سی سی پر دوسرے معاہدات بھی کرنے ہوں گے۔

اسلام آباد اور بیجنگ کو گلف ممالک کے ساتھ بھی ایک فورم قائم کرنا ہو گا۔ پاکستان کی ضرورت ہے کہ وہ چائنا جی سی سی سٹریٹجک ڈائیلاگ میں شامل ہو  کیونکہ پاکستان کے گلف ممالک سے تعلقات مختلف نوعیت کے ہیں۔ بھارت کے برعکس اسلامی جمہوریہ کو عرب لیگ میں آبزرور کی بھی حیثیت حاصل نہیں ہے۔ یہی حال افریقی یونین کا بھی ہے کیونکہ گوادر براعظمی تجارت کا ذریعہ بن سکتا ہے جس میں پاکستان، چین اور وسطی ایشیا کا سب سے زیادہ کردار دیکھنے کو ملے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *