نظامِ محصولات اور فلاحی ریاست

Dr.-Ikram
مالی وسائل محصولات سے حاصل ہوں یا کسی اور ذرائع سے‘ ریاست کے لئے ضروری ہیں کیونکہ حکومت کا نظم و نسق اس کے بغیر نہیں چل سکتا۔ دنیا کے کئی ممالک‘ جن میں کئی مسلمان ریاستیں بھی شامل ہیں، کچھ عرصہ پہلے تک تیل کی کمائی سے وصول کردہ رقوم سے تمام تر اخراجات پورے کرتیں اور انفرادی انکم ٹیکس لگانے کی نوبت ہی نہ آتی۔ اب دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں کساد بازاری اور فوجی اخراجات کے بڑھنے کے باعث وہ بھی مغربی نظام محصولات کے مطابق انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس وغیرہ لگانے کا نفاذ کر رہی ہیں یا کر چکی ہیں۔ معیشت، سیاست اور عوام ایک ریاستی ڈھانچے کے اندر اس قدر دقیق مسائل پیدا کر سکتے ہیں اور کر تے رہتے ہیں کہ قدیم اور جدید علوم انہی موضوعات سے بھرے رہتے ہیں۔
ہر دور میں نت نئے نظریے اور خیالات اور ان پر بحث مباحثہ جاری رہتا ہے۔ آج کے جدید سائنسی دور میں جب ٹیکنالوجی کے انقلاب اور روز بروز نئی سے نئی اختراعات کے بعد معاشی آسودگی کا ذکر کیا جاتا ہے تو یہ بات نہیں بتائی جاتی کہ صرف ایک دو فیصد لوگوں کے پاس دنیا کی تمام دولت کا 90 فیصد ہے اور باقی دس فیصد اٹھانوے فیصد لوگوں کے پاس۔ اس کا بھی ذکر بہت احتیاط سے کیا جاتا ہے کہ دنیا میں 14 ملین افراد کو خوراک کی سخت قلت کا سامنا ہے۔ جنگ زدہ علاقوں اور کئی دوسرے مقامات پر دو کروڑ لوگ جن میں بچے، عورتیں اور بوڑھے بھی شامل ہیں، بھوک اور قحط کا شکار ہیں۔ پچھلے سالوں کی طرح 2017ء میں بھی یونیسف کے مطابق 14 لاکھ بچوں کا محض بھوک کے باعث لقمہ اجل بن جانے کا اندیشہ ہے۔ اقوام متحدہ کے نئے سیکرٹری جنرل آنتو نیوگرتوش نے ایک حالیہ بیان میں بتایا کہ تمام تر وعدوں کے برعکس ان کے ادارے کو اس سال محض 9 کروڑ ڈالر کی آمدن ہوئی ہے۔ 2017ء کے آغاز سے ہی اقوام متحدہ بارہا اس بات کا اعادہ کر چکی ہے کہ دنیا کو بھوک افلاس، معاشی مشکلات اور جنگوں سے ہونے والی نقل مکانیوں کے باعث عدم استحکام کا خطرہ ہے۔
مالی وسائل کا رونا صرف اقوام متحدہ ہی نہیں بلکہ دنیا کے طاقتور ممالک بھی رو رہے ہیں۔ امریکہ اور یورپ کے ممالک پر قرضوں کا بوجھ دیکھ کر سب حیران ہو جاتے ہیں۔ افریقہ اور ایشیا کے ترقی پذیر ممالک کا کیا ذکر خود ہمارے ہمسایہ ممالک چین اور بھارت‘ جن کو ابھرتی ہوئی طاقتیں کہا جاتا ہے، کو بھی نئی منڈیوں کی تلاش ہے جہاں سے وہ رقم حاصل کرکے اپنے ہاں غربت اور معاشی صورتحال کو بہتر بنا سکیں۔ ایک طرف پاکستان اور افغانستان میں شدید غربت ہے اور دوسری طرف سرحد کی بندش سے کروڑوں روپے کی پھل اور سبزیاں تباہ ہو چکی ہیں۔ کیا سیاست اس قدر بے رحم شے ہے کہ وہ چند ہاتھوں میں ارتکاز دولت کرنے میں معاون ہو اور کروڑوں لوگوں کو دو وقت کے کھا نے سے محروم رکھے۔
اس تناظر میں ہم کو دنیا اور پاکستان کے مسائل کو دیکھنا چاہیے۔ ہم قومی آمدنی سے کس نوع کی ریاست کے خواہاں ہیں۔ ایک ایسی ریاست جہاں ایک تہائی کے قریب آبادی خط غربت سے بھی نیچے زندگی بسر کر رہی ہو اور آمدنی وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کو ظالمانہ نظامِ محصولات سے تقویت ملتی ہو یا ایک فلاحی ریاست جہاں قومی آمدنی کو بڑھایا جائے اور تمام تر اخراجات، ترقیاتی، غیر ترقیا تی، فلاحی باآسانی کرنے کے بعد محروم اور پسے ہوئے طبقات کو آگے لایا جائے۔ جیسا کالم میں عرض کیا تھا یہ کوئی مشکل کام نہیں اگر ہم اپنے نظام تعلیم کو نئے خطوط پہ استوار کریں اور معیشت میں تر قی کے لئے آسان نظام محصولات کا نفاذ کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات اور نظام عدل کو موثر بنائیں۔ یہ تمام کام کئے بغیر ایک فلاحی ریاست کا قیام نہیں ہو سکتا‘ چاہے پاکستان ہو یا کوئی اور ملک ہو۔
اس سال پاکستان کو ٹیکسوں کی مد میں 3.9 کھرب روپے کی آمدنی متوقع ہے اور غیر محصولاتی آمدنی کا ہدف 959 ارب روپے ہے۔ ایف بی آر کے ذمے 3.6 کھرب کا ہدف ہے جس کے لئے وہ تمام تر کاروباری ماحول کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ اگر حکومت پاکستان تمام اہداف پورے بھی کر لے تو صوبوں کو 2.1 روپے دینے کے بعد اس کے پاس 2.7 کھرب روپے ہوں گے۔ صرف قرضوں پر سود کی ادائیگی کا تخمینہ 1.3 کھرب روپے ہے۔ 245 ارب ملٹری اور سول پنشن میں خرچ ہوں گے۔ دفاعی اخراجات 860 ارب روپے، حکومتی مشینری کے لئے 353 ارب روپے اور قرضوں کی واپسی کے لیے 443 ارپ روپے درکار ہیں۔ جاری اخراجات کا تخمینہ 3.4 کھرب اور قرضوں کی ادائیگی کے بعد 3.8 کھرب ہے۔ اندازہ کر لیں کہ ترقیاتی اخراجات سے پہلے ہی وفاقی حکومت کا خسارہ 1.5 کھرب سے زیادہ ہے۔ کس قدر تکلیف دہ بات ہے کہ جاری اخراجات میں تعلیم کے لیے محض 184 ارب (جس میں 70 فیصد تنخواہیں وغیرہ) صحت کے لئے 12 ارب روپے، ہائوسنگ کے لیے 2.2 ارب روپے اور معاشی تحفظ کے لیے محض 1.9 ارب روپے ہیں۔ صوبوں کو تعلیم اور صحت کے محکمے اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد مل چکے ہیں‘ مگر ان کی کارکردگی وفاقی حکومت سے بہتر نہیں۔ کسی حکومت کو توفیق نہیں کہ وہ لوگوں کی بنیادی ضرورتوں کی طرف توجہ دے۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 25 A کے مطابق مفت اور لازمی تعلیم کے لئے قانون سازی کرے، وسائل بجٹ میں رکھے اور اس کو یقینی بنائے کہ ہر بچہ تعلیم حاصل کر رہا ہے۔
وفاقی حکومت نے 1675 ارب کی رقم ترقیاتی منصوبوں کے لئے برائے سال 2016-17ء رکھی اور اب تین ماہ میں ختم ہو جانے والے مالی سال میں سوائے مزید قرضوں کا بوجھ اور اور مکمل ترقیاتی منصوبوں کے لیے اس کا پاس کچھ بھی نہیں۔ معیشت کے بارے میں ہر کوئی جانتا ہے کہ محض قرضوں کے بوجھ کے کسی اور شعبہ میں اضافہ نہ ہوا۔ اعداد و شمار کے گورکھ دھندے کو اب لوگ سمجھ چکے ہیں۔ وہ اب وزیر خزانہ کی باتوں پر کان دھرنے کو تیار نہیں ہیں۔ مسئلہ کا حل ایک ہی ہے‘ قومی آمدنی میں اضافہ جس سے محصولات میں خود ہی اضافہ ہو گا۔ محصولات کے نظام کو سادہ اور آسان اور شرح ٹیکس محض دس فیصد رکھ کر لوگوں کو کاروبار میں اضافہ کرنے دیں تاکہ روزگار پیدا ہو‘ جو خود محصولات میں بہتری کا باعث بنے گا۔ زیادہ شرح سے ٹیکس لگانے اور امیروں کو ٹیکس میں نہ لانے سے خزانہ دبائو کا شکار ہے۔ اندرونی اور بیرونی قرضوں میں بے انتہا اضافہ ہو چکا ہے۔ پاکستان میں‘ جہاں اہل ثروت صدقات و خیرات سے قریبی مساکین اور یتیموں کا خیال رکھتے ہیں، صورتحال قابل رشک ہے۔ محصولات کا نظام ناقص ہونے کا باعث وہ ذاتی طور پر صدقات و خیرات پر مائل رہتے ہیں‘ جس سے غربت دور نہیں ہوتی۔ اس کے خاتمے کے لئے فلاحی ریاست کا قیام ضروری ہے۔ حکومت وقت محصولات اور غیر محصولات سے حاصل شدہ رقم کو فلاح عامہ اور رفائے عامہ کے لئے استعمال کرے۔ تمام لوگوں کو ان کی اہلیت کے مطابق کام اور کام کے مطابق روزگار مہیا کرنا، تعلیم، ٹرانسپورٹ اور ہائوسنگ کا انتظام، قانون کی بالادستی، دفاع اور انصاف کی فراہمی فلاحی ریاست کے فرائض ہیں جس کے لئے محصولات وصول کرتی ہے۔ اگر صدقات و خیرات ہی پر اکتفا ہو تو غریب تو ہمیشہ غریب ہی رہیں گے۔ ان کو تعلیم یافتہ اور ہنرمند بنا کر ریاست میں برابری کا مقام دیا جائے۔ یہ اصل سوال ہے جس کے لئے ہم کو معاشی اور معاشرتی انصاف پر مبنی نظام کا قیام کرنا ہو گا۔ وسائل کا مسئلہ بھی تب ہی حل ہو گا جب ہم غیر منصفانہ تعلیم وسائل ختم کریں گے اور محصولات ہر ایک سے اس کی اصل آمدنی پر وصول کریں اور اس کو تمام لوگوں کے مفاد کے لئے استعمال کریں نہ کہ محض چند لوگوں کے لئے۔
وسائل کا مسئلہ بھی تب ہی حل ہو گا جب ہم
غیرمنصفانہ تعلیم وسائل ختم کریں گے اور محصولات ہر ایک سے اس کی اصل آمدنی پر وصول کریں اور اس کو تمام لوگوں کے مفاد کے لئے استعمال کریں نہ کہ محض چند لوگوں کے لئے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *