ایک کشمیری ماں کی پکار

ممتاز حیدر

mumtaz haider

بھارت سرکار نے قیام پاکستان کے بعد کشمیر پر قبضہ کیا لیکن کشمیریوں نے بھارت کے ناجائز تسلط کو تسلیم نہیں کیا ،سات دہائیوں سے کشمیر ی آزادی کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں اور ان قربانیوں میں کشمیری خواتین اپنے بیٹوں،بھائیوں کو پیش کر رہی ہیں۔حق خودارادیت کی تحریک میں خواتین نے مردوں سے زیادہ مشکلات کا سامنا کیا۔ بھارتی فوج کے مظالم کے نتیجے میں کشمیر کا کوئی ایسا گھر موجود نہیں ہے جو متاثر نہ ہوا ہو۔خواتین کو بھارتی فوج مسلسل ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنا رہی ہے۔ قابض بھارتی فوج وادی میں جنگی ہتھیار کے طور پر خواتین کی بے حرمتی کر رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں خواتین بدقسمتی سے ’’گھر نما جیل میں زندگی گزار رہی ہیں اور کئی باربھارتی درندوں کی جانب سے جنسی استحصال کا بھی شکار ہوئیں، جس کی مثال کنن پوشہ پورہ، جگر پورہ، چھانہ پورہ اور دیگر متعدد مقامات پر انتقامی کارروائی کے طور ان خواتین کو نشانہ بنایا گیا تاکہ جوانوں کے عزائم و حوصلوں کو توڑا جاسکے۔ تنازعہ کشمیر نے بیواؤں اور نیم بیواؤں کی ایک کثیر تعداد کھڑی کر دی، جو بے بسی، مفلسی اور تنہائی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ جموں کشمیر میں رواں تحریک کے دوران ایک لاکھ سے زائد مائیں اپنے بچوں سے محروم کر دی گئیں اور لاکھوں بہنیں اپنے بھائیوں کی جدائی میں نڈھال ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں لاپتہ کئے گئے افراد کا دکھ کشمیر کی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں سے زیادہ کون سمجھ سکتا ہے اورہزاروں خواتین آج بھی اپنے ان عزیزوں کے انتظار میں راستوں کو تک رہی ہیں جن کو برسوں پہلے یا تو لاپتہ کیا گیا یا پھر گمنام قبرستانوں میں دفن کیا گیا۔ان سب مظالم،مصائب کے باوجود کشمیری خواتین بہادر ہیں جو تحریک آزادی کے لئے اپنے لخت جگر قربان کروا کر شہید کے جنازے میں رونے کی بجائے کہتی ہیں کہ میرا ایک بیٹا اور بھی ہے میں اسے بھی تکمیل پاکستان کے لئے قربان کروں گی۔ تحریک آزادی کشمیر میں خواتین کا کردار انتہائی اہم ہے انہوں نے جس بہادری اور جرات سے بھارتی فوج کے مظالم کا مقابلہ کیا ہے اس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ ایسی ہی جرات مند خواتین میں سے ایک نام سیدہ آسیہ اندرابی کا ہے جو دختران ملت مقبوضہ کشمیر کی چیئرمین ہیں۔سیدہ آسیہ اندرابی نے مقبوضہ کشمیر میں ہمیشہ پاکستان کا پرچم لہرایا اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے ۔بھارت سرکار نے ان پر غداری کے مقدمات بنائے گرفتار کیا گیا،نظر بند کیا گیا ،لیکن ان کے جذبات ،ہمت ،حوصلے میں کوئی کمی نہیں آئی وہ ہمیشہ میدان میں ڈٹی رہیں اور نہ صرف خود بلکہ خواتین کو بھی تحریک آزادی کے لئے متحرک کیا۔ان کے شوہر ڈاکٹر قاسم فکتوو مقبوضہ جموں کشمیر اور جنوبی ایشیا میں سب سے لمبی قید کاٹنے والے سیاسی قیدی ہیں۔ آسیہ اندرابی کے ساتھ ان کی شادی 1990ء میں ہوئی۔ 1992ء میں انہیں تحریک آزدی کی پاداش میں گرفتار کیا گیا۔ ان کی اہلیہ اور چھ ماہ کے بیٹے کو بھی گرفتار کیا گیا تھا تاہم آسیہ اندرابی اوران کے بیٹے کو1995ء میں رہا کر دیا گیا لیکن ڈاکٹر قاسم فکتو پچھلے 24 سال سے جیل میں ہیں۔ جیل میں انہوں نے اسلامک اسٹڈیز میں پی ایچ ڈی کرلی اور 125قیدیوں کو گریجویشن کرائی۔groupعدالت نے انہیں عمر قید کی سزا دی تھی جو 14سال بنتی ہے لیکن دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار ملک بھارت نے انہیں 24 سال سے جیل میں بند کر رکھا ہے۔ وہ کشمیر کی آزادی اور پاکستان کی تکمیل کے لئے جیل میں ہیں۔اہل قلم،شاعروں ،ادیبوں کی نمائندہ تنظیم ورلڈ کالمسٹ کلب کے تحت الحمراء ادبی بیٹھک میں پروگرام ہوا جس میں سیدہ آسیہ اندرابی نے ٹیلیفونک خطاب کیا۔تقریب میں ورلڈ کالمسٹ کلب کے چیئرمین ایثار رانا،مرکزی صدر محمد ناصر اقبال خان،مرکزی سیکرٹری جنرل ذبیح اللہ بلگن،یحییٰ مجاہد،رابعہ رحمن،قاضی سعداختر،جاوید اقبال،ڈاکٹرعمرانہ مشتاق،سردارمراد علی خان،ناصرچوہان ایڈووکیٹ،میاں اشرف عاصمی ایڈووکیٹ،نسیم الحق زاہدی،محمد شاہد محمود،رقیہ غزل،حبیب اللہ قمر،ارشاد احمد ارشد،محمد راشد تبسم و دیگر نے شرکت کی۔سیدہ آسیہ اندرابی کی گفتگو کے دوران الحمراء ادبی بیٹھک میں موجود ہر شخص کی آنکھوں میں نمی تھی کیونکہ ہر پاکستانی یہ مانتا اور جانتا ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے اور بھارت کشمیریوں پر ظلم روا رکھے ہوئے ہے۔سیدہ آسیہ اندرابی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی منتخب قیادت کی نسبت فوجی حکمرانوں نے کشمیرکازکیلئے زیادہ کام کیا۔پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش ہمارے زخموں پرنمک پاشی کے مترادف ہے،اس اقدام سے دکھ پہنچا ۔ سیاسی جماعتوں کے اختلافات کشمیرکا ز کیلئے نقصان دہ ہیں ، بھارت نے ہماری زمینوں پر قبضہ کیا ہے لیکن ہمارے قلوب پاکستان کے اسیر ہیں۔ بھارت گذشتہ سات دہائیوں سے کشمیریوں پر ظلم کر رہا ہے ، اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل نہ ہوا تو کشمیر کا ہرجوان بندوق اٹھا لے گا۔ ہم نے اڑھائی لاکھ شہداء کی قربانیاں پیش کی ہیں ہمیں اتنا دکھ نہیں ہوا جتنا پاکستان کی طرف سے حافظ محمد سعید کو نظر بند کرنے پر ہوا۔حافظ محمد سعید تحریک کشمیر کو عوامی سطح پر منظم کر رہے تھے ۔انکی نظربندی کی وجہ سے تحریک کشمیر کو نقصان پہنچا ہے۔کشمیر میں اب ہمیں طعنے دیئے جاتے ہیں کہ تم حافظ محمد سعید اور پاکستان کی بات کرتے ہو پاکستان نے تو حافظ محمدسعید کو نظر بند کردیا ہے۔ہم انکی رہائی کا بھر پور مطالبہ کرتے ہیں۔ حافظ محمد سعید نے فروری میں عشرہ یکجہتی کشمیراور 2017کو کشمیر کے نام کرنے کا اعلان کیا تھا، وزیراعظم نواز شریف نے جب اقوام متحدہ میں کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا تو اس وقت کشمیریوں کے دل جھو م اٹھے تھے ہم پاکستان کے نظام میں مداخلت نہیں کرتے لیکن ہمیں بتایا جائے کہ ہمارے بھائی ہمارے لیے آواز بلند کرنے والے حافظ محمدسعید کو نظر بند کیوں کیا گیا ؟ پاکستان کو توڑنے کے خواب دیکھنے والے خود ٹوٹ جائیں گے۔ انڈیا اکھنڈ بھارت کے خواب دیکھ رہا ہے لیکن اسے معلوم ہونا چاہیے کہ آج کے پاکستان اور 1971ء والے پاکستان میں بہت فرق ہے۔ اس ملک کا ہر بچہ سچا سپاہی ہے اورضرورت پڑنے پر اپنے ملک بھرپورکا دفاع کر ے گا۔سیّدہ آسیہ اندرابی نے مزیدکہا کہ جموں کشمیر کی ایک چھوٹی سی ریاست ہے جہاں بھارت کے 10لاکھ فوجی دندناتے پھررہے ہیں یہ ایک قید خانہ ہے جس میں کشمیری زندگی کی سانسیں مکمل کررہے ہیں۔ آج سری نگرمیں لال چوک میں ایک سیمینار منعقد ہوا تھا لیکن بھارتی فوجیوں نے تحریک آزادی کشمیر کے قائدین کو گھروں میں نظربند کر کے کرفیو لگا دیا ہے ۔ بانی پاکستان قائد اعظمؒ نے کشمیر کوپاکستان کی شہ رگ قراردیاتھا ہے ۔جس پر بھارت کا فوجی قبضہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔کشمیری دو قومی نظریہ کو لے کر آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان دشمنی پر الیکشن لڑا اور اس نے بنگلہ دیش میں پاکستان کو دولخت کرنے کا بھی اعتراف کیا۔بھارتی فوجی کشمیر یوں پر بدترین ظلم کررہے ہیں۔بھارتی فوج کے مقابلے میں ہمارے کمسن بچے پتھر اٹھا کر مقابلہ کر رہے ہیں۔برہان وانی شہید کی شہادت کے بعد تحریک تیزتر ہوئی ہے۔کشمیریوں کی امیدوں کا محور و مرکز پاکستان ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں فوجی کالونیاں بنارہا ہے۔ ایک سازش کے تحت ہندو پنڈتوں کو یہاں بسایا جارہا ہے ۔ہندوستان کا ناپاک مقصد یہ ہے کہ یہاں مسلمانوں کی تعداد کو کم کیا جائے اور دنیا کو بتایا جائے کہ یہاں ہندوؤں کی تعداد زیادہ ہے اسلئے یہ ہندوستان کا حصہ ہے ۔صحافتی سطح پر بھی ہمارے خلاف جنگ کا محاذگرم کیاگیا ہے چاہے سوشل میڈیا ہو الیکٹرونک میڈیا ہو یا پرنٹ میڈیا ہو ہر جگہ پر ہمارے خلاف شرانگیز زبان استعمال کررہے ہیں۔ آج یہاں پر کشمیری شہید ہورہے ہیں اور پاکستان کے پرچم میں دفن ہورہے ہیں۔ کشمیر کا مسئلہ پاکستان کی بقاء اورسا لمیت کا معاملہ ہے پاکستان کو کشمیر کی آزادی کیلئے دوررس اورکلیدی کردار ادا کرنا چاہیے۔ ،کشمیر کی آزادی کے بغیر پاکستان نامکمل ہے ،قائد اعظمؒ کے افکار کی روشنی میں کشمیر کی آزادی پاکستان کی بنیادی ذمہ داری ہے ہم پاکستانیوں سے کہتے ہیں کہ وہ ایک ہو جائیں اور اختلافات چھوڑ دیں اپنے اپنے سیاسی ایجنڈے ضرور رکھیں لیکن کشمیر سمیت قومی ایشوزپر اتحاد و اتفاق بھی رکھیں۔ نظریہ پاکستان ہی بقائے پاکستان ہے اور اسی نظریہ پر کشمیری پاکستان کے ساتھ ہیں۔ورلڈ کالمسٹ کلب کے مرکزی چیئرمین ایثاررانا نے سیّدہ آسیہ اندرابی اوران کے اسیرشوہرسمیت اسیرکشمیری قیادت کی استقامت کوزبردست الفاظ میں سراہااورکہا کہ قلم قبیلے کے لوگ اپنے مظلوم کشمیری بھائی بہنوں سے اظہاریکجہتی کیلئے کلمہ حق بلندکرتے رہیں گے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *