اف ہمارے ہمسائے

razia syed

اف آج کے بلاگ سے تو شاید آپ بالکل بھی متفق نہ ہوں لیکن مجھ سے اتفاق نہ کرنے کی وجہ محض یہ ہو گی کہ آپ کو ہماری طرح کے ’’سڑے ہوئے اور رنگ باز ‘‘ قسم کے ہمسائے نہیں ملے ۔ ایسے ہمسائے جو کبھی اپنے کٹھملوں سے بھرے ہوئے پلنگ ہمارے گھر رکھوا دیتے ہیں تو کبھی قربانی کے دنوں میں ان کا بکرا ہماری ڈیوڑھی میں بے بے کرنے لگتا ہے ۔

یہ ہمارے محلے دار ایسے ہیں جو  ’’الرجی ‘‘ کی طرح ہماری زندگی کی سانسوں کو تہ و بالا کر دیتے ہیں تو کبھی ’’استمھا‘‘ کی طرح سانسیس ہی کھینچنے کے در پر ہوتے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ یہ اسمتھا بگڑ کر ’’ ٹی بی ‘‘ کی صورت اختیار کر لے گا ۔

آج کل ہم روز ہی اداس رہتے ہیں اپنی اس بے نام اداسی کی وجہ پر ہم نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ اس بے نام اداسی کی وجہ صرف اور صرف ہمارے ’’غیر تہذیب یافتہ ‘‘ محلے دار ہیں ۔

حامد صاھب ، گڈو انکل ،عثمان چاچااور ان تینوں کے پندرہ بچے- لگتا ہے کہ انھوں نے صرف انھیں پیدا کرنے کا ہی فریضہ سرانجام دیا ہے اوراب یہ ’’ جنجال پورہ ‘‘ محلے والوں کے لئے ہی چھوڑ رکھا ہے کہ ’’ جائو جی میرے فوجیو غدر مچا دو دوسروں کے گھروں میں ۔ ‘‘

حامد صاحب کے دو بچے امن اور مامن بہت ہی شریر ہیں جو ہماری ’’ پھینی سی ناک ‘‘ میں دم کئے رکھتے ہیں ، روز ہمارے اہل خانہ انھیں پتنگوں اور ڈورسے تماشے کرنے سے منع کرتے ہیں لیکن وہ بھی بندروں کی اولاد ہیں عین اس وقت دروازہ بجائیں گے جب بھی ہم اپنے قارئین کے لبوں پر مسکراہٹ لانے کے لئے جتن کر رہے ہوتے ہیں ۔

دروازہ نہ کھلنے پر یہ حدیقہ کیانی کے گانے ’’بوہے باریاں تے نالے کنداں ٹُپ کے ‘‘ کے مصداق کینگرو کی چال چل کے گڈی اور ڈور لے جاتے ہیں اور ہم رہ جاتے ہیں بےچارے ’’کاٹھیاں ‘‘ اکٹھی کرنے ۔

خیر کل تو حد ہی ہو گئی ہمارے ہاں مہمان آئے اور اب ان سے تو کیا ہم سے بھی مین دروازہ نہ کھلے وہ اسلئے کہ محترم مامن نے اپنے دست مبارک سے دو کنڈیوں کو اس طرح جوڑ دیا تھا جس طرح ’’ نواز شریف سے میٹرو بس اور پانامہ ‘‘جڑے ہیں ،  وہ تو بھلا ہو ہمارے مہمانوں کا جنہوں نے بالکنی سے قینچی منگوا کر ہمیں اس ’’ بخشی خانے ‘‘ سے نجات دلائی ۔

صرف ہم ہی نہیں بلکہ آنٹی سلمی ، نوید ، للی اور نجانے کون کون اس ’’کمانڈو فورس‘‘ سے عاجز ہے ، ان پندرہ بچوں کے گھر ’’ٹیپ ریکارڈر ‘‘ بھی فل آواز سے بجتا ہے ، روز آنٹی سلمی کہتی ہیں ،
’’لگدا ایہہ کہ تہاڈے تے ماں پیو وی میراثی سن ، عذاب جم گئے ساڈے  واسطے ‘‘؎

نوید گھبرا کر دروازہ کھولتا اور کہتا ہے ’’ لائو لائو ٹیپاں تہاڈے پیو دی جنج ایہہ ۔‘‘ دیکھا جائے تو کوئی بھی اتنا بدتہذیب نہیں کہ ایسے ہمسائیوں سے منہ بھی لگائے لیکن یہ پندرہ بچے اچھے خاصے شریف انسان کو بھی اتنا زچ کر دیتے ہیں کہ وہ الامان الحفیظ پکارنے لگتا ہے ، میں جب بھی اپنے ہمسایوں کو دیکھتی ہوں تو یہ سوچتی ہوں کہ ہمسایوں کے کتنے حقوق ہوتے ہیں اور حدیث میں بھی اس کی کتنی تاکید کی گئی ہے لیکن کیا یہ افراد ہمسائے کہلانے کے بھی حق دار ہیں ۔؟؟

ذرا ایک پل کو اپنی آنکھیں بند کیجئیے اور ایسے ہمسائیوں کا تصور کریں آپ کو اس پوری تحریر میں ایک ہزار مرتبہ بس اف ہی اف نظر آئے گا ۔ہمارا مقصد آپ کو اداس کرنا ہر گز نہیں تھا لیکن ہماری محبت میں آپ کی آنکھوں سے چھلکنے والے آنسو ہمیں یہیں اپنی کمپیوٹر سکرین سے محسوس ہو رہے ہیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *