پاکستان کس سیارے پر آباد ہے؟

Ayaz Amirقاہرہ کی گلیوں میں قتلِ عام جاری ہے، سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں لیکن پاکستانی ٹی وی چینلوں کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ درست ہے کہ یہاں بارش اور سیلاب کی کوریج ہونی چاہیے لیکن یہاں یومِ آزادی کے موقع پر’’کیا کھویا اور کیا پایا‘‘ کی نہ ختم ہونے والی بحث جاری ہے جبکہ جن واقعات نے مشر قِ وسطیٰ کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور جو خطے کے لیے گہرے مضمرات لیے ہوئے ہیں، کو ہمارا میڈیا برائے نام کوریج دے رہا ہے۔ ہوناتو یہ چاہیے تھا کہ ان واقعات کو بنیاد بنا کر ہم بطورِ قوم اپنے مسائل زدہ سفر کا جائزہ لیتے لیکن ہم ابھی تک اپنی شناخت کو دریافت کرنے اور روایات پرستی یا جدت پرستی کو اپنانے یامسترد کرنے کی نہ ختم ہونے والی بحث میں الجھے ہوئے ہیں۔ تاہم عالمی واقعات کی روشنی میں اپنے حالات کا جائزہ لینے اور اپنی حیثیت کا تعین کرنے کے لیے جن تخیلات کی ضرورت ہوتی ہے، اس سے یہ ریاست تہی دامن ہے کیونکہ ابھی تویہ اپنے آغاز یا اپنی منزل کے بارے میں ابہام کا شکار ہے۔ اگر یہ ماضی یا مستقبل بعید کے التباسات سے آزادی پائے تو حال پر نظر کرے... اور یہ اس کے بس کی بات نہیں ہے۔
میڈیا چینلز کے پاس وسائل کی کمی نہیں ہے۔ اگر ہمارے صحافی اور کیمرہ مین بھی قاہرہ میں ہوتے تو اُنہیں بھی اہم تجربہ حاصل ہوتا اور ہم بھی اپنی سرحدوں سے باہر نکل کر بیرونی دنیا کو دیکھنے کے قابل ہوجاتے۔ چلیں قاہرہ کو بھول جائیں، کیا یہ بات تعجب خیز نہیں کہ ہمارے پڑوس افغانستان میں دس سال سے جنگ جاری ہے مگر وہاں ایک بھی پاکستانی رپورٹر کبھی نہیں پایا گیا ہے؟ہمارا دعویٰ ہے کہ ہمارا جغرافیائی محلِ وقوع نہایت اہمیت کا حامل ہے اور یہ کہ ہم مشرق و مغرب کے سنگم پر واقع ہیں لیکن ہماری تنگ نظری اور بے بصری اس دعوے کی صریحاً تریدکرتی دکھائی دیتی ہے۔ اپنے خطے کے دارلحکومتوں کاہمیں علم نہیں ہوتا لیکن ہم نیویارک اور لندن کے بارے میں واقفیت رکھتے ہیں۔ عرب دنیا میں ابھرنے والی بیداری کی لہر یا مصر میں ہونے والی فوجی کاروائی اور تشدد ہم ، جتنا ہم مناسب سمجھتے ہیں ، مستعار لیے گئے ذرائع سے جانتے ہیں۔ چناچہ اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں ہے کہ پاکستان کے بارے میں بہترین کتابیں غیر ملکی مصنفین نے لکھی ہیں۔ مغربی دنیا میں 9/11 کے بعد سے افغانستان پر اتنی کتب لکھی گئی ہیں کہ اس موضوع پر ایک الگ کتب خانہ بن چکا ہے ۔ ان میں کچھ کتابیں بہت شاندار ہیں جبکہ کچھ واجبی سی ہیں لیکن اگرہم نے اس موضوع پر کچھ لکھنا ہو، کچھ معلومات حاصل کرنا ہوتو کوئی سراغ ہی نہیں ملتا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگرچہ ہم اس جنگ کے شکار ہیں، ہم اس سے ذہنی طور پر لاتعلق ہیں۔ چناچہ ہمارے ہاں کے تعلیم یافتہ اور دانشور کہلانے والے افراد بھی دھشت گردی، تشدد اور انتہا پسندی پر ایسے بچگانہ ردِ عمل کا اظہار کریں گے جیسے ان معاملات کی حقیقت ان پر ابھی ابھی منکشف ہوئی ہو۔
اس کے بعد ہم نہایت فکرمندی سے سول ملٹری تعلقات پر بات کرتے ہوئے سمجھتے ہیں کہ کسی جادوئی چھڑی کے ذریعے سولین حکومت کو بالا دستی حاصل ہوجائے گی...’’اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا‘‘دفاعی اداروں سے غلطی ہوسکتی ہے اور ہم ان سے نتائج کے بارے میں پوچھ گچھ کر سکتے ہیں ... ہم جانتے ہیں کہ ہمارے زیادہ تر موجودہ مسائل کا تعلق دفاعی اور خفیہ اداروں کی طرف سے کیے گئے کچھ پرانے فیصلوں سے ہے، لیکن فوج اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود کچھ بھی کرنے سے پہلے ہوم ورک ضرور کرتی ہے... بس اس سے زیادہ کچھ نہیں جبکہ اپنے تجربے کی بنیاد پر کہہ سکتاہوں کہ سولین حکومت میں ہوم ورک کا شائبہ تک نہیں ہوتا ہے۔ چناچہ ہر سول حکومت ایک ہی لگے بندھے راستے پر چلتی ہے۔ اگر اگلے پچاس تک بھی ملک میں جمہوریت (جیسی آج ہے) رہے تو بھی فوج کو ہی بالادستی رہے گی۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ فوج کے پاس ہتھیار ہیں، بلکہ یہ کہ جب ذہن سے سوچنے کا معاملہ ہو تو سول حکومت اس کی حریف نہیں ہوتی ہے کیونکہ وہ ایسے کاموں (سوچنے ) کی زحمت ہی نہیں کرتی۔
آئی ایس آئی کے سابقہ ڈی جی جنرل شجاع پاشا نے دو مرتبہ پارلیمنٹ کو ان کیمرہ بریفنگ دی ۔ ان مواقع پر ان کی تیاری، ان کے الفاظ کا چناؤ اور سامنے بیٹھے ہوئے بے تاثر چہرے دیکھنے کے قابل تھے۔ہم نے کچھ رٹے رٹائے جملے ادا کرنے میں مہارت حاصل کر رکھی ہے...’’پارلیمانی خود مختاری، قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی ضرورت (یہ جملہ سن کر جی چاہتا ہے کہ ڈنڈا اٹھا لوں اور....)، تمام اسٹیک ہولڈرز کو ان بورڈ لیا جائے گا(کس مقصد کے لیے؟) ‘‘ اور پھر یہ تان ’’آل پارٹیز کانفرنس ‘‘ پر ٹوٹتی ہے۔ اگر یہی کچھ ہے جو سیاست دان کرسکتے ہیں تو پھر پارلیمانی خود مختاری آتے آتے ہی آئے گی۔ میںیہ سوچے بغیر نہیں رہ سکتا ہے کہ اگر عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کو ’’لانچ ‘‘ کرنے میں جنرل شجاع پاشا، جیسا کہ ان پر ناقدین اس بات کا الزام لگاتے ہیں یا کریڈٹ دیتے ہیں، ہی کا ہاتھ تھا تو اُن کی سیاسی بصیرت قابلِ تعریف ہے۔ اگر میں اس پوزیشن پر ہوتا تو میں ان کی خدمات سے یقیناًمستفید ہوتا۔
یقیناًفوجی جنرلوں کو سیاسی کھیل نہیں کھیلنے چاہیں لیکن سیاست دانوں میں بھی اتنی عقل ہونی چاہیے کہ وہ اپنا دامن بچا سکیں۔ ترکی میں مسٹر اردگان کی قیادت میں سیاست دانوں نے اپنی خودمختاری کا ثبوت دیا ہے۔کاش ہماری ’’نظریاتی ریاست ‘‘ کا سیاسی طبقہ بھی اتنا ہی بالغ نظر ہوتا ۔ تاہم اردگان کی مثال دیتے ہوئے ہم ترکی سے پاکستان، بلکہ تمام عالمِ اسلام کی بات کرتے ہیں تو مذہب کو صرف دو چیزوں تک محدود کیوں کردیتے ہیں... حجاب اور کچھ ممنوعہ مشروبات؟یہ چیزیں ہمارا خبط کیوں بن چکی ہیں، ہم بنتِ حوا کو دیکھ کر کیوں اتنے بدکتے ہیں؟ کیا یہ ہمارا فطری خوف ہے یا ہم اخلاقیات کے بہت اعلیٰ مقام پر فائزہیں؟ میرا خیال ہے کہ یہ ہمارے اندر کا خوف ہے۔ بھٹو نے مے نوشی پر ایک مرتبہ پابندی لگائی، ضیا الحق نے دو مرتبہ۔ جب ایم ایم اے کے مقدس رہنماؤں نے سرحد (موجودہ خیبر پختونخواہ) میں حکومت بنائی تو ایک مرتبہ پھر اس پر پابندی لگادی۔ ایسا کرتے ہوئے اُنھوں نے پابندی کو انقلابی اقدام قراردے ڈالا۔پھر اُنھوں نے عالمگیری اقدام اٹھاتے ہوئے موسیقی بجانے والے آلات توڑ دیے اور اس بات کو یقینی بنایا کہ بسوں میں خواتین کی نشستیں الگ ہوں۔ چناچہ ڈرنکس، بے پردگی اور موسیقی ہی ہمارے مکروھات ہیں۔ ادھر اردگان کی حکومت مصطفی کمال کے ترکی میں شراب نوشی پر پابندی تو نہیں لگا سکتی تھی لیکن اس نے بوتلوں پر ’’مضرِ صحت ‘‘ ہونے کے الفاظ تحریر کر دیے۔
کاش ان اقدامات سے قومیں اچھی ہو جاتیں، مگر ا فسوس ،انسانی تاریخ بتاتی ہے کہ ایسا نہیں ہوتاہے۔ انسانی تاریخ چاریا پانچ ہزارسال سے پہلے کے واقعات کا ریکارڈ بیان نہیں کرتی ہے جبکہ اس کائنات کی عمر تقریباً پندرہ بلین سال ہے اوراس سیارے پر انسانی نسل تقریباً ڈیرھ لاکھ سال سے موجود ہے۔ وقت کے ان طویل فاصلوں کے مقابلے میں تحریر شدہ تاریخ ایک معمولی نکتے سے زیادہ نہیں ہے۔ زماں و مکاں کی ان وسعتوں کا احسا س کرتے ہوئے ہمارے دل میں عاجزی اوربرداشت کا جذبہ پیدا ہونا چاہیے تھا۔ ہم اس دنیا میں دیر تک رہنے کے لیے نہیں آئے ہیں اور ہم اس عارضی گھر کو بھی برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ کائنات کے مقابلے میں بے وقعتی رکھنے کے باوجود ہمارے غرور و تکبر کاکوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔ یہ بات درست ہے کہ ہماری زندگی اس بات کی متقاضی ہے کہ انسانی معاشرے کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ رومن اور یونانی مفکروں نے سیاست ، جس کا مقصد ، جو ہم سمجھتے ہیں، لوٹ مار، جھوٹ او ر دروغ گوئی نہیں بلکہ انسانی معاشرے کی تنظیم سازی ہے، پر بہت زور دیا تھا۔ ان مفکرین کے مطابق انسانی معاشرے کی سب سے پہلی ضرورت تنظیم سازی ہے ، باقی چیزیں اس کے بعد آتی ہیں۔ تاہم یہ منزل کچھ بوتلوں پر ممنوعہ لیبل لگانے ، کچھ حجاب کی تلقین کرنے اور کچھ معاملات کو مکروھات قرار دینے یا انسانوں کو تذکیر وتانیث کی بنیاد پر تقسیم کرنے سے حاصل نہیں ہوتی ہے۔
مجھے کہنے کی اجازت دیجیے کہ آفاقی زندگی میں اعلیٰ ترین مقام عمدہ موسیقی تخلیق کرنے والوں، جیساکہ بیتھوون، موزارٹ، بیچ، ویگنر، امیر خسرو اور تان سین کو حاصل ہوگا۔ اس کے علاوہ شاعروں کے لیے بھی شاندار زندگی ہوگی کیونکہ انسانی تاریخ کی مشاطگی اُنھوں نے ہی تو کی ہے۔ کیا اُن گہرے سایہ دار درختوں کے نیچے کوئی کسی بوتل پر ممنوعہ نشان لگانے کی ہمت کرے گا؟بات یہ ہے کہ یورپ گمراہی اور جہالت کی تاریکی کے بعد کافی عرصہ پہلے علم کی نشاۃِ ثانیہ کو پا چکا ہے اور چونکہ وہ ایک قومیت کے دھارے میں خود کو سمو چکے ہیں، اس لیے وہ ترقی کی منازل طے کررہے ہیں۔ کبھی ہم بھی علوم سے آشنا تھے اور ہمارے ہاں بھی عظیم سائنسدان اور مفکرین پائے جاتے تھے لیکن وہ دن اب ماضی بعید کا حصہ ہیں۔ آج ہمارے ایک طرف قاہرہ ہے تو دوسری طرف شمالی وزیرستان اور ہمارے مسائل جس جسدِ خاکی میں ہم ہیں، کی برداشت سے باہر ہیں۔ ہماری نشاۃِ ثانیہ کب آئے گی؟

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں reproduction کی اجازت نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *