جب سارا جاتا دیکھئے تو آدھا دیجئے بانٹ  

javairia nadeem

ایسی ہی کچھ دل کی آواز ہے کراچی میں بسنے والوں کی . بحیثیت شہری کراچی میں اس کی روشنیوں کے ساتھ ساتھ اس کے کالے اندھیروں سے بھی کافی حد تک واقفیت رکھتی ہوں. مجھ سمیت میرے زیادہ تر قارئین یا ان کے کسی عزیز دوست احباب اور رشتے دار کے ساتھ گولی کے دم پر موبائل فون یا کسی اور قیمتی اشیا کے چھن جانے کا خوف ناک واقعہ ضرور پیش آیا ہوگا. اور جناب یہاں عالم تو یہ ہے کے مزاحمت کے اشارے پر یہ بے خوف لوگ ٹرگر دبانے میں ذرا ہچکچاہٹ بھی محسوس نہیں کرتے. اور اسی کے کرتے بہت سی قیمتی جانوں کو زندگی سے ہاتھ دھونا پڑاہے.
ایسے ہی کچھ مناظر میری رہائش کے احاطے میں بھی پیش آئے. جس میں لڑکی نے ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان خوفناک چوروں کو موبائل فون دینے سے انکار تو کردیا.لیکن بدلے میں اپنی ٹانگوں سے ہاتھ دھونا پڑگئے .اور وہ دو عددچور اپنی پستول کا بڑے آزادانہ طریقے سے استعمال کرتے ہوئے لڑکی کے موبائل سمیت فرار ہوگئے . اور اس واقع کے چند دن بعد ہی ایسی ہی چبھتی دھوپ کی شعاؤں میں جب دو انجان لڑکوں نے میرا راستہ روکا اور میرے انکو نظر انداز کر کے آگے چل دینے پر انہوں نے اپنی کمر پر لگی پستول دکھائی جس پر میں نے چپ چاپ اچھے بچے کی طرح موبائل ان کے حوالے کردینے میں ہی بھلائی جانی .
کراچی میں اپنی قیمتی اشیا ء کو کھلے عام لیکر گھومنا آ بیل مجھے مار کے برابر ہی ہے . اور اگر آپ کراچی کے ہی شہری ہیں اور موبائل باہر لے جانا آپ کے لیے بے حد ضروری ہے تو ایک ٹچ سکرین فون کے ساتھ چھوٹا موبائل رکھنے میں ہی آپ کی بہتری ہے .
شہر میں امن و امان کی صورت حال میں کچھ بہتری آئی ہی تھی ،جب رینجرز نے مختلف علاقوں میں آپریشنز کی صورت میں کام کرنا شروع کیا تھا . مگر اب پھر سے سٹریٹ کرائمز میں اضافہ ہوتا نظر آرہا ہے . معلومات کے مطابق اس سال یعنی ۲۰۱۷ میں تقریباً ۱۱۹۸ سٹریٹ کرائم کے حادثات پیش آچکے ہیں . جن میں سے عام شہریوں سے ۴۰ کے قریب گاڑیاں ، ۱۱۰ موٹر سائیکل اور ۳۰۵ موبائل فون چھینے جا چکے ہیں .
سوچنے کی بات تو یہ کہ ایک عام شہری اپنی جان اور قیمتی اشیا ء کے بچاؤ کے لیے کرے تو کرے کیا ؟ شہر میں قانون کی بالادستی سے تو سب ہی واقف ہیں. جس کی بدولت ایسے کئی واقعات سامنے آئے ہیں، جہاں عوام نے چور ڈکیتوں کو پولیس کے حوالے کرنے کے بجائے خود ہی سزا سنانے میں عافیت جانی ہے . جیسے چند دن پہلے ہی رہائشیوں نے چور کو پکڑ کر اسکی خوب دھلائی کرنے کے بعد گٹر میں مرنے کے لیے پھینک دیا.
سندھ انسپیکٹر جنرل (آئی جی) اے ڈی خواجہ نے کراچی کے ایک شہری کو چور کو مارنے پر انعام سے نوازا گیا اور ساتھ میں کچھ تصاویر بھی بنوائیں گئی . تو عمل کے نتیجے میں سوال یہ ابھرتا ہے کہ کیا آج کے دور میں اپنے بچاؤ کے لیے ہاتھوں میں پستول لے لی جائے ؟ کیا ایسا کرنے سے ایک عام شہری اپنا تحفظ اپنے آپ کرسکتا ہے؟ پر جہاں تک میری سوچ کی بات کی جائے تو ایسا کرنا بے حد نا مناسب ہے، کیوں کہ اس عمل سے اور بہت خطرات لاحق ہوسکتے ہیں . اگر ایک اچھا قانون بنانے اور اس پر عمل کرنے والے اس شہر میں آجائیں تو یہ شہر صرف تب ہی روشنیوں کا شہر کہلاسکتا ہے.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *