بے زبان

عنبر جبیں

ambar Hussain

ڈاکٹر خان علاقے کے ہر دل عزیز ڈاکٹر ہیں ادھا مرض تو ان کی شفیق اور مہر با ن آواز سے ہی رور ہو جا تا ہے لہذاان کے کلینک پر مریضوں کا رش ہو نا کوئی اچھمبے کی بات نہیں،ایک تجربہ کار اور قابل ڈاکٹر کی تمام خوبیوں کے ساتھ مناسب پیسوں میں علاج کا مرکز ان کا کلینک ہے
میں کافی دیر سے اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی کے میرا نمبرابھی 2 مریضوں کے فاصلے پر تھاکلینک زیادہ بڑا نہیں ہے لہٰذاسب مریض مرد و زن آمنے سامنے تھے اور ایک دو سرے کی طبعیت کا با خوبی اندازہ بھی لگا سکتے تھے کہ کس کو کیا ہوہے قصہ مختصر کسی کو زکام کی شکا یت تھی توکسی کو جلاب کی مگر ہاں بیماری کے باوجود سب میں زندگی کی امنگ تھی سوا ایک کے۔ ہاں سرخ جورے اورمہروں چادر میں ملبوث ایک قریب 17 سال کی گوری چٹی لمبے بال بڑی بڑی آنکھیں اور ان آنکھوں میں صرف اداسی کوئی زندگی کی رمک ہی نہیں جیسے، باری کی لائن میں آگے بڑھتے ہوئے وہ میر ے برابر میں تھی اس کا بدن انگارے کی طرح دہک رہا تھا کرب و تکلیف اس کے چہرے سے عیاں تھی مگر وہ سب کو سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی اس کے پہناوے اور چہرے کے خدوخال سے یہ اندازہ لگا نا مشکل نہ تھا کے وہ کراچی کی نہیں ہے بلکہ کسی انٹیریر علاقے سے ہے چہرے پر مایوسی کے ساتھ خوف اور پریشانی کے اثار نمایاں تھے سکڑی سمٹی بیٹھی لڑکی کو دیکھ کر کئی قیاس آرائیاں لوگوں کے چہروں پر نمایاں تھیں مگر خدا جانے اس کے کہاں اور کیسا درد ہورہا تھا جسکی وہ تاب نہیں لا پا رہی تھی ایک دو متعبر خواتین نے پوچھنا بھی چاہا تو بت بنی بیٹھی رہی وہ میرے آگے تھی اس کا نمبر آیا تو مردانہ سائڈ سے ایک لمبا چوڑا دیو ھیئکل آدمی نمایاں ہوا اور اس کے قریب آکر کھڑ ہوگیا اب وہ لڑکی بول رہی تھی مگر ڈاکٹر سے نہیں بلکہ اس آدمی سے کیونکہ وہاں جس زبان میں وہ بول رہی تھی اس کی زبان سمجھنے والا سوا اس کے کو ئی اور نہ تھا وہ رو رو کے اس کو اپنی زبان میں خدا جانے کیا کیا بتا رہی تھی مگر وہ آدمی صرف ایک ہی با ت بول رہا تھا کے ڈاکٹر صاحب اس کو ٹھیک کرو دوا دو سوئی لگاو مگر ٹھیک کرو پورے 40 ہزار میں خرید کے لایا ہوں ڈاکٹر نے سمجھانے کی غرض سے کچھ کہنا چاہا تو ڈاکٹر کو یہ کہہ کر چپ کر ادیا کہ ا پنا کام کرو بس اس کو ٹھیک کرو 40 ہزار کی لایا ہوں۔دماغ ماؤف سا ہوگیا وہ لڑکی، ایک دم سے سب سمجھ آگیا کے کیا ماجرہ ہے اور ا س لڑکی کا کیا دکھ ہے ۔مگر اللہ جانے اس کو ایسی کیا تکلیف لاحق تھی جو وہ بار بار اس اوباش کا بازو پکر کر آنکھوں میں آنسو لیے اسے اپنی زبان میں بتا رہی تھی اور وہ اس کا ہاتھ جھڑک کر کبھی دھمکی کے انداز میں تو کبھی تھورا دھیما ہو کے ایک ہی رٹ لگا ئے ہوئے تھا اور وہ لڑکی زبان ہونے کے باوجود بے زبان تھی۔
عورت کا ایسا استحصال یہ کیا ہے ہم 21ویں صدی کے لوگ سائنس اور تکنالوجی کی باتیں کر نے والے ،ستاروں پر کمند اور فضاوں کو فتح کرنے والے خود کو آزاد ملک کے آزاد باسی کہنے والے یہ کیا ہے جہاں آج بھی عورت بک رہی ہے اور خریدنے والا پہلے اس کو بیمار کرتا ہے اور پھر معالج کے پاس بھی اس ہی لیے لاتا ہے کے اس نے اس کو خریدا ہے کیا ہے یہ سب ؟آخر کس نے اس کو بیچا ہوگا ؟کیوں بیچا ،کتنے انگنت سوالات ہیں اور جواب کچھ بھی نہیں کیا مجبوری ہے انسان کی کے وہ اپنی تکلیف خودنہیں بتا پا رہا ہے بلکہ کسی کی منت سماجت کر رہا ہے کے وہ بتا دے _
یہ درست ہے کے آج بھی ہمارا معاشرہ مغرب کے معاشرے لاکھ گنا اچھا ہے آج بھی جو عزت جو مقام ہمارے معاشرے میں عورت کو حاصل ہے وہ کسی اور معاشرے میں حاصل نہیں اس معاشرے میں عورت ماں ہے تو اس کے قدموں میں جنت ہے، بیٹی ہے تو پاپ کی عزت ہے، بہن ہے تو بھائی کا مان ہے،بیوی ہے تو شوہر کا لباس ہے مگر اس ہی معاشرے کی ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ اس ہی معاشرے میں یہ سب بھی ہوتا ہے اس ہی معاشرے کا ایک مکروہ چہرہ یہ بھی ہے جہاں عورت کو صرف چند روپوں کے لیے کسی بھی گدھ کے حوالے کر دیا جاتا ہے جو اس وقت تک اس کی بوٹیاں نوچتا رہتا ہے جب تک اس میں زرا سی بھی جان باقی ہو آخر کب تک ایسے ہی چلتا رہے گا آخر کب تک حوا کی بیٹی کہیں نہ کہیں آدم کے بیٹوں کے ظلم اورہوس کا نشانہ بنتی رہے گی؟ آخر کب سب اسلام اور اس کے متعین کردہ راستے پر چلیں گے؟ کب شعور کے دروازے کھلیں گے اور بے زبان کو زبان ملے گی؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *