سہمی اور دبکی ہوئی قیادت

ایازا میرAyaz Amir

 جب دوسری جنگ ِ عظیم کا آغاز ہوا تو نویل چمبرلین(Neville Chamberlain)برطانیہ کے وزیراعظم تھے۔ چھ ماہ بعد جب ہٹلرنے فرانس پر حملہ کیا توبرطانوی سیاسی طبقے، خاص طور پر ہائوس آف کامن(دارالعوام) میں یہ بات واضح ہوچکی تھی کہ اس وقت قیادت کے لئے چمبرلین موزوں نہیں۔ اگرچہ ونسٹن چرچل بہت مقبول نہیں تھے اور درحقیقت انہیں شدیدناپسند کرنے والوں کی کمی نہ تھی لیکن ہر شخص متفق تھا خطرے کی اس گھڑی میں وہ برطانیہ کی قیادت کرنے کے لئے بہترین شخص ہیں۔
ہماری عالمی جنگ مذہبی انتہا پسندی کے خلاف ہے، اس کا آغاز پشاور خوں ریزی سے نہیں ہوا بلکہ اس نے ان لوگوں کو اس کا احساس دلایا ہے جو اس سے پہلے اس سے انکاری تھے۔ اب تک پھیلائی ہوئی کنفیوژن ہوا ہوچکی ہے اور آج سیاسی طبقے کے دل خوش کن التباس کو کوئی بھی تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں کہ مذہبی انتہا پسندی کے عفریت کو صرف بات چیت اورصلح کے معاہدوںسے ہی رام کیا جاسکتا ہے۔ آج طالبان کے اٹل ہمدرد، جن کی دنیا کے ہمارے حصے میںکوئی کمی نہیں، بھی مہر بہ لب ہیں۔ اس وقت قوم طالبان کے خلاف اس قدر یک سو ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن بھی آخر کار ان کے خلاف لب کشائی پر مجبور ہوگئے، عمران خان کی پی ٹی آئی نے بھی کھل کر ان کی مخالفت کی ، بہادر سول سوسائٹی نے اسلام آباد لال مسجد کے باہرجمع کرہو کر طالبان کے حامی مولانا عبدالعزیز کیخلاف مظاہرہ کیا، طالبان کے سب سے بڑے حامی وزیر ِ داخلہ چوہدری نثار کو اپنا لہجہ تبدیل کرنے پر مجبور ہونا پڑا.... اگر چہ اپنے تمام تر بیانات کے باوجود ابھی تک اُنھوں نے مولانا عبدالعزیز کومسجد سے نکالنے کی جسارت نہیں کی۔ اگر وہ ایساکرپائے تو ہم جانیں کہ آخر کار ان کا دل بھی بدل گیا ہے ۔ طالبان سب سے بڑے حامی کا کیا کام ہے کہ وہ دارالحکومت میں نماز جمعہ کی امامت کرائے اور نمازیں پڑھائے؟
یہ سب تبدیلیاں اپنی جگہ پر لیکن قیادت کا سوال اپنی جگہ پر موجود ۔کیا نواز شریف میں اتنا حوصلہ ہے کہ وہ آگے بڑھ کر اس جنگ میں قوم کی قیادت کرسکیں؟ کیا وہ یہ جنگ لڑنے اور قوم کے غصے کو تحریک میں بدلنے کے قابل ہیں؟ آئندہ کا تو پتہ نہیں لیکن فی الحال آنے والے اشارے زیادہ حوصلہ افزا نہیں ۔ جب پشاور میںہونے والی درندگی کے بعد وہ جی ایچ کیوگئے توان کے چہرے کے تاثرات دیکھنے والے تھے۔ آپ کو یہ جاننے کے لئے وہاں ہونے کی ضرورت نہیں کہ فوجی جنرل فیصلہ ساز تھے جبکہ اس قوم کی جنگ میں قیادت کرنے والوںکو علم ہی نہ تھا کہ کیا کہا جارہا ہے۔ وہ وہاں سکوت کامظہر بنے بیٹھے رہے۔
چنانچہ پشاور سانحے کے بعدہم دیکھ رہے ہیں کہ اصل حکم فوج کا ہی چل رہا ہے جبکہ حکومت اور سیاسی قیادت فوج کے ساتھ چلنے کی کوشش کررہی ہے۔ قوم کا موڈ دیکھتے ہوئے وہ ڈر رہی ہے کہ کہیں وہ پیچھے نہ رہ جائے۔ یہ بات بھی سب جانتے ہیں کہ فوج نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر طالبان کے خلاف آپریشن تیز کردیا جبکہ سیاسی قیادت نے کہا کہ وہ ایک ہفتے کے بعد دہشت گردی کے خلاف قومی پالیسی کااعلان کریں گے۔اس سے پہلے کیا وہ کہیں سوئے ہوئے تھے؟ کیا دہشت گردی ہمارے ملک میں آنے والی کوئی نئی آفت ہے؟ کیا اُنہیں خواب ِ غفلت سے جگانے کے لئے پشاور کا واقعہ ضروری تھا؟ کیا اس کے علاوہ طالبان کی طرف سے ’’سب ٹھیک ہے‘‘ کے اشارے مل رہے تھے؟میں نے بات پہلے بھی بتائی تھی، ایک مرتبہ پھر دہرانے کی اجازت چاہتا ہوں۔ میں اسٹاف کالج لاہور میں لیکچر دینے گیا تھا ۔ وہاں وزیر ِ اعظم کے معاون مسٹر فواد بھی تھے۔ ہمارا موضوع دہشت گردی تھا اور حکومت کو قائم ہوئے کچھ دیر ہوچکی تھی اور اس کی صفوںسے بلندآہنگ کے ساتھ ’’انسداد ِ دہشت گردی کی پالیسی‘‘ کا اعلان کیا جارہا تھا۔ فواد بھی پالیسی سازی کے عمل میں شریک تھے اور جب اُن سے اس بارے میں پوچھا گیا تو اُنھوں نے روز ویلٹ اور دیگر حکمرانوں کے حوالے دینا شروع کردئیے۔ میں اُس وقت حیرت سے سناٹے میں آگیا جب اُنھوں نے کہا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف ایک عظیم منصوبہ بناچکے ہیں، بس دشمن کو شناخت کرنا باقی رہ گیا ہے۔
یہ ہے وہ ذہانت جسے بروئے کار لاتے ہوئے نواز شریف حکومت نے گزشتہ سال ستمبر میں اے پی سی بلائی اور طالبان سے معذرت کرتے ہوئے بات چیت کرنے کا مصمم ارادہ کیا۔ اس کے بعد سب سکون سے خواب ِ راحت میں کھو گئے، یہاں تک کے پشاور سے معصوم لہو کے چھینٹوںنے اُنہیں جگادیا۔ اب یکا یک خواب سے بیدار ہونے کے بعد اپنی سوچوں کو جمع کرنے اور کوئی پالیسی بنانے کے لئے ایک ہفتہ تو یقینا درکا ر تھا۔ کیا اس میںکہیں ایسے فیصلے اس طرح لئے جاتے ہیں؟فوج نے فوراً ہی ایکشن شروع کردیا۔ اُنھوں نے سیاست دانوں کی دانائی کا انتظار کرنے کی غلطی نہ کی۔ فرض کریں کہ بھٹواقتدار میں ہوتے اور وہ پشاور میں نواز شریف کی جگہ میٹنگ کی صدارت کررہے ہوتے تو ہمیں اُس وقت ایکشن پلان مل جاتا۔ اُنہی قدموں پر وہ قوم سے جذباتی خطاب کرتے ہوئے جنگ شروع کرنے کا اعلان کرتے ۔ یقین کریں وہ اپنی ذمہ داری کمیٹیوں کے سرڈالتے دکھائی نہ دیتے۔وہ اس معاملے میں مشورہ نہ کرتے بلکہ سیاسی قیادت کو بتاتے کہ وہ یہ کچھ کرنے جارہے ہیں۔
یہاں متضاد رویوں کی کمی نہیں۔ جب من پسند منصوبے بنانے ہوں تو نواز شریف سے زیادہ کوئی بھی متحرک نہیں ہوتا۔ نہ کسی میگا پراجیکٹس کے بارے میں مشاورت کی جاتی ہے، نہ اعتماد میں لیا جاتا ہے ، نہ قومی اتفاق ِر ائے پیدا کرنے کی بکھیڑ میں پڑتے ہیں، بس ایکشن ہی ایکشن ، منصوبے ہی منصوبے دکھائی دیتے ہیں۔ کوئی موٹر وے ، سڑک، پل، انڈر پاس وغیر ہ کی تعمیر کا منصوبہ ہوتو سمجھ لیں کہ الہ دین کا چراغ ہاتھ میں ہے اور بنائے چلے جارہے ہیں ۔ پاکستانی عوام کو جس سنگین ترین مسئلے کا سامنا ہے وہ مذہبی انتہا پسندی ہے ، لیکن وزیر اعظم کے سامنے لاہور سے کراچی تک موٹروے کا مسلہ درپیش ہے۔ ایک ٹی وی پروگرام کے مطابق اس منصوبے پر کسی چینی اور قطر کی کمپنی کے ساتھ سابق سینیٹر سیف الرحمٰن نے یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ کسی زمانے میں وہ نواز شریف حکومت میں نیب کے چیئرمین تھے۔ اُس وقت اُن کا کام حکومت کے مخالفین کی سرکوبی تھا۔ ایک مرتبہ وہ ملک عبدالقیوم کی گفتگو ٹیپ کرتے پکڑے گئے ، حالانکہ ملک صاحب کا تاثر قریبی جج کا تھا۔ ملک صاحب کو کہا جارہا تھا کہ وہ بے نظیر بھٹو اور ان کے شوہر کے خلاف کیسز کی سماعت تیزی سے کریں۔ اس گفتگو کے افشا ہونے سے تمام کیسز میں جان ختم ہوگئی۔ ایک بیان کے مطابق، جنرل مشرف کے دور میں ایک موقع پر سیف الرحمن اور آصف زرداری جیل میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے تو سیف الرحمٰن نے ان کے پائوں پڑ کر معافی مانگی۔ اسکے بعد وہ قطر چلے گئے۔ اب وہ ایک مرتبہ پھر منظر عام پر ہیں اور پاکستان کی تعمیر و ترقی کے منصوبے بنارہے ہیں۔ بناتے رہیں، لیکن اس وقت ہم حالت ِ جنگ میں ہیں۔ ہمیں کس مرد ِ میدان کی ضرورت ہے۔ کیا ہمیں ایسے خوشامدی کی اس وقت ضرورت تھی؟اس سے بھی اہم سوال یہ کیا بڑے بڑے کاروباری افراد جنگ لڑسکتے ہیں؟اُنہیں پہلے ہی عمران خان کے پیہم حملوں نے کمزور کردیا تھا، اس لئے ان کی روایتی سستی سے پیدا ہونے والے خلا کو فوج نے پرُ کرلیا ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستانی قوم کسی سیاسی قائد کی راہ دیکھ رہی تھی۔ ایسے لمحات وہ ہوتے ہیں جب قائد بنتے اور سامنے آتے ہیں۔ اس وقت پاکستانیوں کا چرچل کون ہوگا؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *