میڈیا اور میڈیا کلچر

zunaira mushtaq

کہا جاتا ہے کہ میڈیا کا شعبہ انتہائی غیر محفوظ ہے خاص طور پر خواتین کے لیے کہ خواتین کو تو صرف ایک شو پیس کے طور پر میڈیا میں لایا جاتا ہے اور ایک صحافی پیسوں کے دم پر بک جاتا ہے ایک دن ان تمام باتوں کا علم مجھے ہوا اور میں خود سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ کیا یہ ہے سچائی میڈیا کی پھر ایک دن صرف اس بنا پر میں نے خود میڈیا کا شعبہ اختیار کرنے کا سوچا کہ میں ایک با وقار طریقے سے نوکری کر کے دکھاوں گی-میں نے جو میڈیا چینل جوائن کیا وہاں صرف خواتین کی عزت کرنا اور سچ کا ساتھ دینے کو ضروری قرار دیا جاتا تھا اور میں نے صحافی سے اینکر تک کا سفر بہت آسانی سے طے کیا اس دوران حیرانگی بھی بہت ہوئی کہ جو کچھ میں نے سنا تھا حالات اس کے برعکس تھے وقت گزرتا گیا اور پھر میڈیا ایونٹ پر بلایا جانے لگا ایک دن یونہی میڈیا ایونٹ پر جانا ہوا وہاں پہنچ کر مجھے بہت دکھ ہوا اور اپنی آنکھوں اور کانوں پر یقین نہ-ہوا ایک خاتون صحافی سے کسی چینل کے پروڈیوسر بہت بے تکلفی سے بات کر رہے تھے ، بے تکلفی ایسی کہ جو شاید میں اپنے کالم میں بیان نہ کر پاوں اور وہ خاتون صحافی مجبوری کے تحت انہیں کچھ کہہ نہیں پا رہی تھی مجھے بے حد افسوس ہوا کہ اس شخص کو اپنی عمر کا لحاظ بھی نہیں کہ اگر اس خاتون صحافی کی جگہ اس کی اپنی بیٹی ہوتی تو وہ کیا وہ یہ سب باتیں اپنی بیٹی سے کرتا بے شک ہر گز نہیں اور جس خاتون سے وہ دل لگی کر رہا ہے وہ بھی کسی کی بیٹی پے اس وقت وہ سب باتیں یاد آئیں جن کے بارے میں کبھی سنا تھا اور شاید میں خود کو بہت خوش قسمت محسوس کر رہی تھی کہ خدا کا شکر ہے کہ مجھے اب تک ایسے کسی شخص کا سامنا نہیں ہوا اور دوسری طرف ایک چینل پر موجود خاتون اینکر "تنزیلہ مظہر"صاحبہ کا ایک انٹرویو دیکھنے کو ملا جس میں انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والی ان تمام حرکات کا ذکر کیا جس بارے میں میں بات کر چکی ہوں اور خوشی ہوئی کہ انہوں نے ان سب کے خلاف آواز اٹھائی اور اپنے حق کے لیے کھڑی ہوئیں چونکہ میں نے بھی انہیں ایک ٹویٹ کیا کہ تنزیلہ مظہر صاحبہ میڈیا کے تمام لوگوں کو اس وقت آپ کی آواز بننا چاہیے خاص طور پر خاتون اینکرز کو میرے نزدیک یہ بات درست ہے کہ آپ کو اپنے ساتھ ہونے والی برائی کے خلاف ضرور آواز اٹھانی چاہیے اگر ایسا ہی چلتا رہا تو معاشرہ مزید بگاڑ کی طرف راغب ہو سکتا ہے اور شاید پھر یہی میڈیا کلچر آنے والے وقتوں میں متعارف کروایا جائے آجکل میڈیا میں کام کرنے والی خاتون اینکر کے پہننے اوڑھنے پر بھی کافی چرچا ہو رہی ہے بہت سے چینل والے پابندیاں عائد کرتے ہیں کہ کیا پہنا جائے اور کیا نہیں میں کہوں گی کہ مغربی لباس زیب تن کرنے سے کوئی ماڈرن نہیں بن جاتا بہتر ہے کہ اپنی ثقافت کو فروغ دیا جائیکچھ دنوں پہلے ہائی کورٹ کی جانب سے یہ خبر سنی کہ خواتین اینکر سر پر دوپٹا اوڑھیں گی سن کر خوشی ہوئی کہ چلو شکر ہے کسی کو تو خیال آیا ورنہ تو آوے کا آوا ہی بگڑا نظر آتا تھا بس کب اس پر رد عمل سامنے آتا ہے انتظار ہے میں ان تمام پڑھنے والوں سے پوچھتی ہوں کہ کیا یہ میڈیا کلچر درست ہے یا اسے تبدیل ہونا چاہیے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *