سیاست اور اخلاقیات

Ata ullah wadood

گزشتہ کچھ عرصے سے ملکی سیاست میں اخلاقیات کا معیار انتہائی زبوں حالی کا شکار ہے اور اس کا اندازہ تین چار واقعات سے بطریق احسن لگایا جا سکتا ہے پہلا واقعہ تو سندھ اسمبلی میں رونما ہوا جہاں خاتون رکن اسمبلی کے سوال پوچھنے پر نازیبا انداز میں انھیں چیمبر میں مدعو کیا گیا اور اس واقعے کا ڈراپ سین موصوف نے خاتون رکن اسمبلی کو بہن بنانے پر کیا گویا وہ بہن سے اکیلے میں ملنے کے لئے انھیں چیمبر میں بلا رہے تھے حکومتی اراکین جن میں سب سے سینئیر شہلا رضا ہیں ان سے توقع تھی کہ شائد وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں گی اوراپنے پارٹی ممبر کی جانب سے گندے اشارے کنایوں کے استعمال پر نوٹس لیں گی لیکن نہ تو ان کے کان پر کوئی جوں رینگی اور نہ ہی آصفہ اور بختاور بھٹو نے اس واقعہ کا کسی بھی قسم کا کوئی نوٹس لیا ، دوسرا واقعہ پنجاب اسمبلی میں پیش آیا جہاں حکومتی رکن اسمبلی کو انھی کی پارٹی کے ایک وزیر صاحب نے چیمبر میں مدعو کیا جب کہ وہ انتہائی اہم مسئلے کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کر رہی تھیں اس پر بھی مریم نواز سمیت کسی نے بھی نوٹس لینے سے گریز کرتے ہوئے کنی کترائی اور شائد ان کے تئیں ایکشن لینے سے پارٹی کی بدنامی ہو سکتی تھی ،تیسرا اور انتہائی بد نما واقعہ مراد سعید اور جاوید لطیف کے درمیان جھڑپ کا تھا جس میں مراد سعید کی فیملی کے متعلق انتہائی اخلاق سے گری ہوئی باتیں کی گئیں اس کا مقصد محض یہ تھا کہ عمران خان اور مراد سعید کو نیچا دکھایا جا سکے اور عوام کے سامنے گندا کیا جاسکے لیکن شومئی قسمت میڈیا کی نامور شخصیات اور صحافتی برادری نے اس بدنما واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے جاوید لطیف سے معافی کا مطالبہ کیا اور کئی اینکرز نے انھیں آئندہ کبھی بھی اپنے پروگرام میں مدعو نہ کرنے کا عزم مصمم ظاہر کیا جس کے بعد بالآخر صحافتی برادری کے پریشر پر جاوید لطیف نے نیم دلانہ معافی مانگ لی حالانکہ شروع میں وہ اپنا دفاع کرنے کی بھر پور انداز میں کوشش کرتے رہے تھے جب کچھ بن نہ پڑا تو انھوں نے ہتھیار ڈالنے میں ہی عافیت سمجھی ۔
سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر اگر اہل سیاست ذرا غور کریں کہ یہ کس قسم کے کلچر کو پروان چڑھا رہے ہیں ؟؟ یہی وہ لوگ تھے جنھوں نے نوے کی دہائی میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے متعلق انتہائی غلیظ زبان کا استعمال کیا اور طرح طرح کی باتیں بنا کر عوام میں ان کے کردار کو مشکوک کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی لیکن قدرت کا انتقا م دیکھیں کہ وہی لوگ جو محترمہ کی کردار کشی میں پیش پیش تھے اور انتہائی غلیظ اور لغو الزامات لگانے سے ان کی زبانیں نہ تھکتی تھیں انھوں نے ہی جلاوطنی کے زمانے میں محترمہ بے نظیر بھٹو کو اپنی بہن بنا لیا ، ا ب بھی وقت ہے سیاسی پارٹیز کے لیڈر حضرات اب بھی اگر سیاست میں اخلاقیات کو سامنے رکھتے ہوئے کچھ دائرے وضع کر لیں تو ہو سکتا ہے کہ مستقبل قریب میں درپیش کئی مسائل سے بچا جا سکے۔
2013میں الیکشن مہم کے دوران کئی حضرات عمران خان کی نشاندہی کرتے ہوئے اب بھی کہتے ہیں کہ وہ نواز شریف کو اوئے نواز شریف کر کے بلاتے رہے اور انھیں چور ڈاکو وغیرہ کہتے رہے یقیناًیہ طرز عمل کسی بھی طرح سے قومی سطح کے راہنما کے لئے مناسب نہیں ہے عمران خان اور پی ٹی آئی کو بھی اس حوالے سے گہرے غور و فکر کی ضرورت ہے اس حوالے سے پہلے صرف پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا پر پائے جا نے والے ورکرز بدنام تھے جو اپنے مؤقف کے خلاف ایک لفظ سننا بھی گوارہ نہیں کرتے تھے اب ہر پارٹی کے متبعین اس شغل میں مبتلا ہو چکے ہیں نواز شریف شہباز شریف کے متعلق لکھیں یا حکومتی کارکردگی کے متعلق پوچھیں تو ہمیں پی ٹی آئی والا بنا دیا جاتا ہے عمران خان کے طرز عمل کے متعلق استفسار کریں تو حکومتی ٹٹو بنا دیا جاتا ہے اور اگر زرداری دور حکومت کی کرپشن پر بات کریں تو پنجابی بنا دیا جاتا ہے !
تمام سیاسی پارٹیوں کے راہنماؤں سے گزارش ہے کہ اخلاقیات کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے کوئی واضح فریم ورک عمل میں لایا جائے اور دہشت گردی کے علاوہ سیاست میں اخلاقیات کے بیانئے کی اشد ترین ضرورت ہے اگر سب کچھ یوں ہی چلتا رہا تو وہ وقت دور نہیں جب آوارہ اور بد قماش پاک دامن خواتین جن میں مریم ،آصفہ ،بختاور شامل ہیں کے متعلق دشنام طرازی اور گند بکنا شروع کر دیں گے اس وقت کے آنے سے پہلے اگر اپنی اصلاح نہ کی تو پھر نوے کی دہائی والے الزامات سننے کے لئے تیار رہیں اب بھی وقت ہے جاوید لطیف ایسے گندے افراد کو سیاست سے نکال باہر کیجئے تاکہ واضح پیغام جائے کہ سیاسی اداروں میں گندی زبان اور سوچ رکھنے والوں کی کوئی جگہ نہیں ہے اس سے آپ کی سیاست کمزور ہونے کی بجائے انتہائی مضبوط اور توانا ہوگی آزمائش شرط ہے !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *