برطانیہ کے شہر پیٹر برو میں اردو کانفرنس کا انعقاد

mehmood-asghar-chaudhry

مورخہ25مارچ 2017ءبرطانیہ کے شہر پیٹر بر و کے سکول جیک ہنٹ میں ایک عظیم الشان اردو کانفرنس کا اہتمام کیا گیا جس میں برطانوی تعلیمی اداروں میں شعبہ اردو سے منسلک اساتذہ ، ماہرین اردو اور امتحانات بورڈ میں ممتحن کے فرائض انجام دینے والے ذمہ داران نے شرکت کی ۔کانفرنس کا مقصد برطانیہ بھر کے تعلیمی اداروں کے شعبہ اردو سے منسلک اساتذہ کا باہمی ربط ، ایک دوسرے کے تجربات سے آگاہی اور شعبہ تدریس میں اساتذہ کی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے کے لئے ورکشاپس کا اہتمام تھا۔

کانفرنس کے آغاز میں مانچسٹر میں قونصل جنرل آف پاکستان ڈاکٹر ظہور احمد کا خصوصی پیغام سنایا گیا جس میں انہوں نے اردو کے اساتذہ کو اردو کی تدریس کے حوالے سے اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ۔ چیئر مین شعبہ اردو پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر محمد کامران نے اپنے ویڈیوپیغام میں برطانیہ میں اردو کے اساتذہ کو پاکستان میں’ نفاذ اردو ‘کی تازہ ترین صورت حال پر روشنی ڈالی ۔پاکستان سے ہی حافظ محمد صفوان نے اردو کارپس لینگویج لرننگ پرکانفرنس کے مندوبین سے خصوصی گفتگو کی ۔جبکہ کانفرنس میں خطاب کرنے والے مختلف ماہرین نے برطانوی سکولوں اور یونیورسٹیوں میں اردو کی تدریس کے لئے ماڈرن الیکٹرانک ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا ۔اس سلسلہ میں مانچسٹر میں لیونزوم ہائی سکول میں اردو کے معلم شیراز علی اور پارزوڈ ہائی سکول کے اردو معلم مسعود ہاشمی نے اپنے اپنے لیکچرز میں بتایا کہ اب انٹرنیٹ ، آئی فون ، آئی پیڈ اور اینڈراﺅڈ ٹیکنالوجی سے منسلک الیکٹرانک ڈیوائس میں یہ سہولت موجود ہے کہ طلبا ءاردوزبان کو بھی دوسری زبانوں کی طرح سیکھ سکتے ہیں۔انہوں نے کانفرنس کے مندوبین اساتذہ کو دکھایا کہ کس طرح مختلف ’ایپس ‘ڈاﺅن لوڈ کرکے سکول کے بچوں کو اردو لکھنا پڑھنا سکھائی جا سکتی ہے ۔

مانچسٹر یونیورسٹی شعبہ اردو سے منسلک شیراز علی نے کہا کہ برطانیہ میں رہنے والے ایشین بچوں کو اردو بولنے اور سمجھنے میں تو اتنی دقت نہیں ہوتی البتہ ان کا سب سے بڑا مسئلہ اردو پڑھنے اور لکھنے کا ہے ۔لیکن اب انٹرنیٹ پر بیسیوں ایسے ذرائع موجود ہیں جن کی مدد سے طلباءبڑی آسانی سے اردو لکھنا پڑھنا سیکھ سکتے ہیں اس لئے تمام اساتذہ کو چاہیے کہ وہ ان جدید طریقہ تدریس کو اپنائیں ۔اردو معلم مسعود ہاشمی کا کہنا تھا کہ یورپی یونین سے نکلنے کے بعدبرطانیہ میں دیگر یورپی زبانوں کے مقابلے میں اردو سیکھنے والے طلبا ءکی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔اس کے علاوہ سلیم قریشی ہیڈآف شعبہ اردو موزلے ہائی سکول ، مسز فرح ملک برمنگھم اسکول اور مصطفی اعظمی ممتحن اعلیٰ شعبہ اردو برطانیہ نے بھی اپنے اپنے لیکچرز میں اس بات پر زور دیا کہ برطانیہ میں اردو سیکھنے والے طلباءکی تدریس کے لئے اساتذہ کو چاہیے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بہتر طریقے سے بروئے کار لائیں ۔

conf

اس کانفرنس کے انعقاد میں پاکستان ویلفیئر ایسوسی ایشن کے چیئرمین و معروف کاروباری شخصیت عبدالعزیزچوہدری نے خصوصی تعاون کیا۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عبدالعزیز چوہدری نے اساتذہ کو کہا کہ آپ برطانیہ میں اردو کے فروغ کے لئے بہت اہم فریضہ سر انجام دے رہے ہیں کیونکہ برطانیہ میں پلنے والی ہماری نسلیں پاکستانی ثقافت اور اپنے دین سے اسی صورت میں منسلک رہ سکتے ہیں جب وہ اپنی زبان سے منسلک رہیں گی انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں موجود پاکستانی کاروباری شخصیات کو چاہیے کہ وہ بھی اردو زبان کے فروغ کے لئے اپنا کردار ادا کریں اورایسی ہر سر گرمی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور تعاون کریں جو برطانیہ میں اردو زبان کے فروغ کا باعث بنے ۔ انہوں نے کانفرنس میں شرکت کرنے والے اساتذہ میں اسناد تقسیم کیں ۔ لیکچرار شیراز علی اور لیکچرار مسعود ہاشمی کوبرطانیہ میں اردو کی ترویج و ترقی کے لئے خصوصی شیلڈ پیش کی گئیں ۔کانفرنس کے آخر میں برطانیہ میں قومی کونسل برائے فروغ اردو کے چیئرمین ارشاد احمد اورممتحن اعلیٰ شعبہ اردو برطانیہ مصطفی اعظمی کو میری کتاب ’فوارہ ‘ پیش کی گئی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *