ہزارہ۔۔۔سب سے بڑا گیم چینجر

masood iqbal mashhadi

آج کا یہ کالم محض ایک کالم نہیں۔ یہ ایک پٹیشن ہے ۔ ایک مقدمہ ہے۔ جو ہزارہ بھر کے طول و عرض میں بسنے والے ہرایک فرد کی طرف سے چاہے وہ جدون ہو۔ سواتی ،ا عوان یا گجر ہو، تنولی یا سید ، مغل یا قریشی ، اکازئی یا یوسفزئی، مشوانی یا دورانی ، راجپوت ہو یا ترک ،عباسی ہو یا کوہستانی سب کی طرف سے ہماری وفاقی حکومت کو بجھوارہا ہوں۔ اور پوچھ رہا ہوں۔ ہزارہ کے بہادر ترین اور غیور ہزارہ وال کے ساتھ یہ امتیازی سلوک کیوں کیا جا رہا ہے ؟ ۔۔۔ وزیر اعظم نواز شریف 23مارچ کی پریڈ میں سلامی کے چبوترے پر کھڑے جب سلامی لے رہے تھے۔ تو میرے ذہن میں کچھ سوالات تھے۔ اور یہ سوالات میں ہزارہ وال کے وساطت سے اپنے ان اداروں سے پوچھنا چاہتا ہوں۔ جو 23مارچ اور اس جیسے تمام قومی دنوں کے موقع پر انتظام و انصرام کرتے ہیں۔مہمانوں کو بلاتے ہیں اور یہ مہمان فخر محسوس کرتے ہیں اور ان کیلئے بھی قابل فخر موقع ہوتا ہے۔ ہم ہزارہ وال بھی اس دن کو بھر پور مناتے ہیں۔ اور ٹی وی پر یہ سب تاریخی لمحات دیکھتے ہیں ۔ یقیناًیہ مہمان جوان تقریبات میں شرکت کرتے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد بہت ناگزیر ہوتی ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس میں وفاقی حکومت کے قریبی تعلق رکھنے والے افراد کو بھی مدعو کیا جاتا ہے۔ مجھے اس پر بھی اعتراض نہیں کہ آپ ان سب کو یوم پاکستان کے موقع پر بلاتے ہیں۔ کیونکہ مجھے ان کی حبِ وطنی پر کوئی شک نہیں۔ لیکن میرا سوال یہ ہے کہ آپ نے کبھی کسی ہزارہ کے کسی سکول کے چند بچوں کو خصوصی طور پر ان قومی تقاریب میں مدعو کیا ؟۔۔۔ ہزارہ کے کسی فنکار ، لوک گلوکار، ادیب ، شاعر، قلمکار، کھلاڑی، کسی ڈاکٹر، وکیل، ٹریڈر کو بلایا ؟ ۔۔ کیا صحت ، تعلیم سوشل سیکٹر میں نمایاں خدمات سرانجام دینے والے کو مدعو کیا۔۔۔ نہیں آپ نے کبھی بھی کسی ہزارہ وال کو ایسی کسی بھی تقریب میں خصوصی طور پر نہیں بلایا۔ جب کہ آپ نے صرف اپنے حواریوں ، ان کے عزیزوں، رشتہ داروں اور ان کے ملازموں کو ہی بلایا۔۔۔ ہزارہ وال کو کیوں بلانا چاہئے؟ کبھی آپ نے سوچا۔۔؟ ۔ وزیر اعظم صاحب آپ آج سلامی کے چبوترے پر کھڑے ہو کر سلامی لے رہے ہیں ۔ کیا آپ جانتے ہیں یہ کس کے مرہونِ منت ہے ؟ ۔ میں آپ کو چند سال قبل کا ایک واقعہ یاد دلانا چاہتا ہوں۔ جب 18ویں ترمیم میں یہ قد غن تھی کہ کوئی بھی تیسری دفعہ وزیراعظم نہیں بن سکتا۔ تو آپ نے اے این پی، جس کی اس وقت صوبے میں حکومت تھی۔ ایک ڈیل کی اور ایک کروڑ ہزارہ وال کے جذبات کا خون کرکے ان کو سرحد کا نام تبدیل کرکے خیبر پختونخواہ رکھ دیا۔ تاکہ آپ اے این پی کی حمایت سے 18ویں ترمیم پاس کراسکیں او رآپ کیلئے تیسری، چوتھی بار وزیر اعظم بننے کا دروازہ کھل سکے ۔ آپ نے جب یہ سودا کیا تو ہزارہ وال نے اس کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کیا۔ ۔۔ اور پھر اس حکومت اور اس پارٹی جس کے ساتھ آپ نے سودا کیا۔ اس نے ایک درجن ہزارہ وال کو سرعام گولیاں مار کر سڑک پر ڈھیر کر دیا۔ اور سینکڑوں زخمی ہوگئے۔ اور جب ہزارہ وال ان شہیدوں کی لاشیں اٹھانے گئے تو ان پر پرچے کر دیئے گئے ۔وزیر اعظم صاحب ۔۔کیاآپ جانتے ہیں کہ اے این پی نے ہزارہ وال پر گولیاں کیوں چلائیں؟۔ آپ کو جاننا چاہئے ۔ کیونکہ آپ دو دفعہ ہزارہ سے منتخب ہر کو سابقہ ادوار میں ملک کے وزیر اعظم بنے تھے۔۔۔ اے این پی نے گولیاں اس لئے چلائیں تھیں کہ ہزارہ وال نے ان کے باپ ، ان کے رہنما، جنہیں سرحدی گاندھی کہا جاتا ہے۔ کو ماننے سے انکار کردیا تھا۔ ہزارہ وال نے کانگرس کے مقابلے میں مسلم لیگ اور باچہ خان ، عبدالغفار خان اور نہرو کے مقابلے میں قائد اعظم کی آواز پر لبیک کہا۔۔۔ جناب وزیر اعظم صاحب۔ 1947 میں نہ آپ کے پاس فوج تھی ۔ نہ پولیس ۔ نہ حکومت نہ طاقت ۔ نہ کمشنر آپ کا تھا۔ نہ ڈی سی ۔ نہ پولیس آفسر آپ کا تھا۔ نہ جیل نہ حوالات ۔ نہ پٹواری نہ تحصیلدار۔ نہ بیروکریٹ ، نہ نمبردار آپ کا تھا۔ 1947 میں موجودہ خیبرپختونخواہ میں نہ مسلم لیگ کی حکومت تھی۔ اس وقت کانگرس کی حکومت تھی۔ جن کی اولادیں آج اے این پی میں ہیں۔ اس وقت ڈنڈا، گولی ، بندوق ، حوالات ، کانسٹیبل، کمشنر، ڈپٹی کمشنر ، چونگی ، محصولات پر کانگرس کا اختیار تھا۔ کے پی کے میں اس کی حکومت تھی۔ اور جب آزادی ، بٹوارے ، تقسیم کا فیصلہ ہوا۔ تو صوبہ سرحد کے عوام کو اختیار دیا گیا کہ وہ ریفرنڈم کے ذریعے فیصلہ کریں۔ کہ پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں ۔ یا ہندوستان میں ۔ ۔۔ آپ ذرا تصور کریں ۔ حکومت کانگرس کی۔ اقتدار کانگرس کا۔ ڈنڈا ، بندوق، گولی، حوالات ، جیل سب کانگرس کی۔۔۔ ترغیبات ، لالچ سب کچھ تھا۔ لیکن یہ بہادر غیور ، پاکستان پرست ہزارہ وال تھا۔ جس نے تن تنہا، کم تعداد ہونے کے باوجود کانگرس کی طاقت اس کے ایجنڈے ، منشور، حکومت سے بغاوت کی ، آپ ذرا تصور کریں ۔ کہ ہزارہ وال پاکستان کے ساتھ کھڑا نہ ہوتا۔ کانگرس کی حکومت کو بھاگنے پر مجبور نہ کرتا۔ تو پاکستان کا موجودہ نقشہ کیا ہوتا۔۔۔۔؟ ۔ آزاد کشمیر آزاد نہ ہوتا۔ پورا کے پی کے ہندوستان کا حصہ ہوتا۔ تو پھر گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ نہ ہوتا۔ آپ کی چین کی سرحد کے ساتھ کوئی رابطہ نہ ہوتا اور پھر آج پاکستان چاروں طرف سے انڈیا جیسے دشمن کے نرغے میں ہوتا۔ پھر آپ یہ کہتے کہ سی پیک ایک گیم چینجر ہے۔۔۔؟ ہا ں سی پیک ایک گیم چینجر ہے۔ ہم ہزارہ وال اس کیلئے آج بھی پوری طرح اس پر تعاون کر رہے ہیں۔ اپنی سونا اگلتی زمینیں دے رہے ہیں ۔ اور کوئی احتجاج نہیں کر رہے ۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ یہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے ناگزیر ہے۔ ۔۔ لیکن آج یہ گیم چینجر اس لئے ہے کہ ہم ہزارہ وال نے اپنی قربانیوں سے اس کو گیم چینجر بنایا اور وہ تھا سب سے بڑا گیم چینجر ۔ جب ہزارہ وال نے پورے کے پی کے کو کانگرس کی حکومت سے چھین کر پاکستان کا حصہ بنایا۔۔۔ یہ تھا سب سے بڑا گیم چینجر ۔۔۔ہم ہزارہ وال نے پاکستان بننے کے بعد بھی جب بھی وقت آیا۔ پاکستان کو ضرورت پڑی۔ پاکستان کیلئے حاضر کر دیا۔ تربیلہ ڈیم ہزارہ وال کی زمین پر بنا۔ لاکھوں ہزارہ وال نے اپنی آبائی زمین اور اپنے آبائی قبرستان چھوڑے۔ معاوضے کی بھی فکر نہیں کی۔۔۔ آپ وزیر اعظم صاحب بتائیں۔ آپ نے اے این پی سے ڈیل کر کے اپنے وزیر اعظم بننے کیلئے تیسری بار حمایت ہزارہ وال کے ارمانوں کو کچل کر حاصل کی۔ اے این پی نے پاکستان کیلئے کیا قربانی دی۔۔۔؟ ۔ کالاباغ ڈیم بنانے کی جب بات آئی۔ تو اسی سابقہ کانگرسی رہنماؤں نے کالا باغ کو بم سے اڑانے کی دھمکی دی۔ یہ ایجنڈا ہندوستان کا نہیں کہ پاکستان میں کالا باغ ڈیم نہ بنے ۔۔۔؟ اور اے این پی کی مخالفت کی وجہ سے نہیں بنا۔۔۔ اور آپ نے ہزارہ وال کی قربانیوں اور شہیدوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ایسی ڈیلیں کیں۔ ہزارہ وال کامطالبہ صوبہ ہزارہ پر آپ کی پالیسی سے ہزارہ وال کا خون سڑکوں پر بہا۔ اور انصاف بھی نہ ملا۔ کیا کبھی کسی ہزاوہ وال نے پاکستان سے غداری کی۔۔۔؟ نہیں۔۔۔ ہزارہ وال ہمیشہ اور آج بھی پاکستان کیلئے کھڑا ہے۔ یہ اس وقت بھی کھڑا رہا ہے ۔ جب آپ کی نہیں۔ کانگرس کی حکومت تھی۔ اور آج جب یوم پاکستان کا موقع آتا ہے۔ تو ہزارہ وال کو ان تقاریب میں نہیں بلایا جاتا صرف حواری بلائے جاتے ہیں۔ مالشیے مدعو کیئے جاتے ہیں۔ ہمارے ہزارہ کے تین اہم اشخاص وفاقی حکومت کے اہم ستون ہیں۔ کیپٹن محمد صفدر، ڈپٹی سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی اور وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف یہ تینوں ہزارہ وال کے ووٹوں سے اس مقام پر پہنچے ہیں۔ لیکن یہ کیسے اپنے آپ کو ہزارہ وال کے نمائندے کہتے ہیں کہ یہ اسلام آباد جا کر ہزارہ وال کی قربانیوں کو بھول جاتے ہیں۔ ان کیلئے آواز بلند کرنے پر انہیں شرم محسوس ہوتی ہے۔۔۔ یہ ہزارہ وال کیلئے کتنی شرم کی بات ہے کہ ہمارے نمائندے اتنے نااہل ہیں۔یہ سوال جو اس کالم میں وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کیلئے ہزارہ وال کی طرف سے میں نے ا ٹھائے ہیں۔ کیا وزیر اعظم صاحب اس کا جواب دیں گے۔ کہ ۔ ہزارہ کے فنکاروں، ادیبوں، شاعروں، لوک گلوکاروں ، قلمکاروں، صحافیوں ، گتکہ بازوں۔ سماجی شخصیات ، تحریک آزادی پاکستان کے شہیدوں کی اولادوں، جلال باباکے پیروکاروں کارکنوں ، مجاہدوں ، کانگرسی حکومت سے مقابلہ کرنے والوں کے لواحقین سے اتنی دوری کیوں۔ سوتیلی ماں کا سلوک کیوں۔۔۔؟ ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں کہ آپ کس کو بلاتے ہیں۔ لیکن ہم بتانا چاہتے ہیں کہ ہم نے اس وقت بھی سب سے بڑے گیم چینجر کو پاکستان کیلئے سب سے بڑا گیم چینجر بنایا۔ جس کی وجہ سے آپ سی پیک کو گیم چینجر کہتے ہیں۔اس پر سیاست کرتے ہیں ۔ اپوزیشن پر تنقید کرتے ہیں۔ داد سمیٹتے ہیں۔ اس کو اپنا کریڈٹ بناتے ہیں۔ عالمی لیڈروں کے سامنے اس کو فخر سے بتاتے ہیں۔ لیکن یاد رکھیں۔۔۔ یہ گیم چینجر ہزارہ وال کی قربانیوں نے بنایا۔۔۔پاکستان میں جو بھی حکمران آئے۔ وہ اس بات کو کبھی نہ بھولے ۔ اور آپ بھی ۔۔۔آپ کے جواب کے منتظر۔ ہزارہ وال ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *