نازک ہے بہت کام

الطاف حسن قریشیaltaf hassan

ہمارا وطن یقیناً ایک نازک دوراہے پر کھڑا ہے جہاں سے ایک راستہ امن اور استحکام کی طرف جاتا ہے اور دوسرا راستہ بحرانوں کے سمندر کا رُخ کرتا ہے۔ وزیراعظم نوازشریف نے پہلی بار کہا ہے کہ نتائج کچھ بھی ہوں، میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی قیادت کروں گا۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے پارلیمانی قومی راہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب بڑے فیصلے کرنے اور اُن پر عمل درآمد کا وقت آن پہنچا ہے۔ اگر ہم نے دہشت گردی کو جڑ سے اُکھاڑ دینے میں پوری یک سوئی اور کامل یکجہتی کا ثبوت نہ دیا ، تو آئندہ نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ یہ امر یقیناً خوش آئند اور غایت درجہ حوصلہ افزا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ’’سانحۂ پشاور‘‘ کے بعد پھول سے بچوں کے سفاک اور درندہ صفت قاتلوں، اُن کے مددگاروں اور نظریاتی ساتھیوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور امن کے غارت گروں کو تختۂ دار پر لٹکانے کا عزم کر چکی ہیں اور حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کے لئے پوری طرح آمادہ ہیں۔
یہ امر بھی حددرجہ تقویت کا باعث ہے کہ سیاسی اور فوجی قیادت میں حیرت انگیز ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور اُن کے قدم ایک ہی سمت میں اُٹھ رہے ہیں۔ باہمی مشورے جاری ہیں اور عملی اور نتیجہ خیز تعاون کی راہیں تلاش کی جا رہی ہیں۔ اِسی طرح یہ منظر نامہ بھی بہت دلکشا ہے کہ افغانستان کی نئی قیادت دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لئے پوری طرح سنجیدہ ہے اور دستِ تعاون دراز کر رہی ہے۔ پچھلے دنوں افغان صدر پاکستان آئے تھے اور اب افغانستان کے کمانڈر انچیف کے ہمراہ ایساف کے امریکی کمانڈر بھی آئے ہیں اور یہ طے پایا ہے کہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لئے افغانستان کی سرزمین کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی نہ پاکستان کی سرزمین افغانستان کے خلاف استعمال کی جا سکے گی۔
’’سانحۂ پشاور‘‘ کی تمام عالمی طاقتوں نے شدید مذمت کی ہے اور پاکستان کو ہر نوع کی دست گیری کا یقین دلایا ہے۔ امریکہ اِس بارے میں بہت پُرجوش دکھائی دیتا ہے۔ اِسی طرح روس اور چین بے حد مضطرب ہونے کے علاوہ پاکستان کے ساتھ دفاعی اور اقتصادی تعاون بڑھانے میں غیر معمولی دلچسپی لے رہے ہیں جو ایشیا میں طاقت کا توازن قائم رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ بھی ہماری خوش بختی ہے کہ پاکستان کو اپنی اقتصادی خوش حالی کے لئے جس قدر چین کے تعاون کی ضرورت ہے ، اِسی قدر یا اِس سے بھی زیادہ چین کو پاکستان کا تعاون درکار ہے۔ اِسے ایک عظیم طاقت بننے کے لئے بحری راستوں کے علاوہ خشکی کے محفوظ راستے درکار ہیں جن کے ذریعے وہ ایران ، افریقی ممالک اور یورپ تک پہنچ سکے۔ اِس کے لئے کاشغر سے گوادر تک اقتصادی راہداری ایک انقلاب آفریں رول ادا کر سکتی ہے۔ اِس کے پہلو بہ پہلو روس کو پاکستان کے جغرافیائی محلِ وقوع اور اِس میں بسنے والی سخت جان قوم کی عظمت کا بھرپور احساس ہو گیا ہے اور وہ سمجھ چکا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مستحکم تعلقات قائم کر کے وہ اپنی کھوئی ہوئی عظمت حاصل کر سکتا ہے۔ یورپ اور برطانیہ میں بھی پاکستان کے لئے اچھے جذبات فروغ پا رہے ہیں۔ اِس عالمی اور علاقائی فضا میں ہم آج کے دوراہے پر ایک صحیح سمت کا تعین کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے چھپے دشمن کا قلع قمع بھی کر سکتے ہیں ، مگر بعض داخلی اور خارجی قوتیں ایسی بھی ہیں جو ہمیں چین سے بیٹھنے نہیں دیں گی اور ایسے حالات پیدا کرنے کی درپردہ سازشیں کرتی رہیں گی جن میں ہم جوشِ عمل میں یا توازن کھو بیٹھیں گے یا حدود سے تجاوز کرنے کے باعث ایک نئے بحران کا شکار ہو جائیں گے ، اِسی لئے ہم نے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اُکھاڑ دینے کو ایک ’’نازک کام‘‘ قرار دیا ہے۔
گزشتہ ایک ہفتے کی سرگرمیوں سے یہ تاثر ملا ہے کہ ’’سانحۂ پشاور‘‘ نے سیاسی اور عسکری قیادت میں ضرورت سے زیادہ ہیجان پیدا کر دیا ہے۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ آرمی پبلک اسکول پشاور میں درندوں نے پھول سے بچے جس بے دردی اور شقاوتِ قلبی سے ذبح کئے ہیں ، اُس نے عام آبادی میں شدید جذبات پیدا کیے ہیں اور عدم تحفظ کے احساس نے طلبہ اور طالبات میں ناقابلِ تصور خوف پھیلایا ہے۔ اِن خون آشام مناظر کو دیکھ کر اُن دہشت گردوں کو سرِعام پھانسی دینے کو جی چاہتا ہے، لیکن ریاست ایک شفیق ماں کی طرح ہوتی ہے۔ ہماری فوجی اور سیاسی قیادت نے مجرموں کو فوری طور پر پھانسی دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ہمارے بعض’’ دانش وروں‘‘ نے یہ تاثر دیا کہ فوج ’’انتقامی کارروائی‘‘ پر اُتر آئی ہے۔ یہ تاثر اِس لئے پیدا ہوا کہ پہلی پانچ پھانسیاں اُن مجرموں کو دینا طے پایا تھا جنہوں نے جنرل پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے کیے تھے۔ پھانسیوں کا فیصلہ کرتے وقت تمام پہلوؤں پر غوروخوض بہت ضروری ہے۔ پھر پھانسیوں کا چرچا بہت کیا گیا اور خون منجمد کر دینے والے مناظر بھی دکھائے گئے۔ سب سے زیادہ ناقابلِ فہم وہ مناظر تھے جن میں پھانسی دینے سے پہلے سڑکیں بند کر دی گئیں ، پولیس ،رینجرز اور فوج اِس جیل کے اندر اور باہر تعینات کر دی گئی جہاں پھانسی دی جانا تھی۔ یوں لگا کہ حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے ہیں اور وہ کوئی بھی کام قرینے اور دانش مندی سے کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھی ہے۔ اِس ضمن میں ہمارا مشورہ یہ ہے کہ کوئی کام عجلت میں نہ کیا جائے اور تدریج اور حکمت کا دامن کسی بھی وقت ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے۔ قرآن مجید نے قصاص کو زندگی قرار دیا ہے، اِس لئے درندوں کو دار پر لٹکاناضروری ہے۔ ہمیں یورپی یونین اور دوسرے ممالک سے آنے والے دباؤ کا مردانہ وار مقابلہ کرنا اور قانون کے مطابق عدالت کے فیصلوں پر عمل درآمد یقینی بنانا ہو گا۔
ہمارے خیال میں حکمرانوں اور سیاسی زعماء کو لچھے دار بیانات دینے سے زیادہ عملی اقدامات پر توجہ دینا ہوگی۔ اب یہ نعرہ لگانے کی کیا ضرورت ہے کہ ہم اپنے بچوں کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیں گے اور دہشت گردی کا ناسور ختم کر کے دم لیں گے۔ اِس لفاظی کی اب کوئی گنجائش نہیں۔ اصل ضرورت مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کے لئے سائنسی بنیادوں پر منصوبہ بندی کی ہے اور ہمارے حکمران اور ہمارے حکام اسلامی اور اخلاقی شعائر کا احترام کریں، سادہ زندگی بسر کریں اور عام شہری کے لئے انصاف اور زندگی کی بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ قومی راہنماؤں کو سب سے زیادہ زور اِسی پہلو پر دینا چاہیے، کیونکہ اشرافیہ کے اللوں تللوں نے موجودہ نظام کے خلاف عوام کے اندر شدید نفرت پیدا کی ہے اور وہ ہر نقشِ کہن مٹا دینے پر تُلے ہوئے ہیں۔ دوسری اہم بات یہ کہ اِس وقت پوری قوم دہشت گردی کے خلاف یکسو اور پُرعزم ہے، اِس لئے میڈیا میں غیر ضروری اور فروعی معاملات کو ہوا دینے سے گریز کرنا چاہیے۔ لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز پر بحث و مباحثہ اصل موضوع سے توجہ ہٹانے کا باعث بن سکتا ہے۔ اِس پوری جنگ کے دوران میڈیا کا کردار کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ اِس میں دہشت گردوں کے بیانات اور اُن کی سرگرمیوں کا مکمل بائیکاٹ مفید ثابت ہو گا۔ ہم تو دہشت گردی کے مناظر دکھانے کے بھی حق میں نہیں کہ اِن سے عوام کے اندر خوف پیدا ہوتا ہے اور دہشت گردوں کا چرچا ہوتا رہتا ہے۔
اِس نازک مرحلے پر ہمیں یہ احتیاط بھی برتنا ہو گی کہ دوستی کے روپ میں بعض ممالک ہماری حکومت اور ہماری فوج کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال نہ کرلیں اور کوئی نیا فساد پھیلانے میں کامیاب نہ ہو جائیں۔ ہماری فوج کو بڑی دانش مندی اور بالغ نظری سے ایک قومی فوج کا قابلِ فخر کردار ادا کرنا اور عالمی طاقتوں کے ساتھ ایک توازن قائم رکھنا ہو گا۔ فوجی قیادت کو عوام کے اندر پھیلے ہوئے اِس تاثر کو بھی زائل کرنا ہو گا کہ وہ حکومت کو سرنگوں رکھنے کے لئے گاہے گاہے سیاسی طوفان اُٹھاتی رہتی ہے۔ میں اِس تھیوری کو درست نہیں سمجھتا۔
اصل کام تو سیاست دانوں اور حکمرانوں کا ہے جن کو ٹھوس لائحہ عمل کو عملی جامہ پہنانا اور عوام کو متحرک رکھنا ہو گا۔ اُنہیں وقت ضائع کیے بغیر پولیس کو دہشت گردی سے نبردآزمائی کے لئے تیار کرنا، قومی سلامتی کا ایک بااختیار اور باوسائل سیکرٹریٹ قائم کرنا اور سول ملٹری تعلقات کو پائیدار بنیادوں پر مستحکم بنانا اور پارلیمنٹ کو حقیقی معنوں میں طاقت کا سرچشمہ بنا دینا ہو گا۔ جناب وزیراعظم نے قائدانہ کردار ادا کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے ، اِس کے لئے اُنہیں سوسائٹی کے مؤثر طبقات سے براہِ راست رابطے بڑھانا اور مشاورت کے دائرے کو وسعت دینا اور انسدادِ دہشت گردی عدالتوں اور نیکٹا کو فعال بنانا اور تشدد کے رجحان کو روکنا ہو گا۔ اِس کے علاوہ سیاسی جماعتوں کو باہمی رواداری ، خیر خواہی اور خوش خلقی کے آداب کو فروغ دینا ہو گاکہ ایک مہذب معاشرے میں درندے زندہ نہیں رہ سکتے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *