آپ نے سیدہ غلام فاطمہ کو بدنام کرنے والی پوسٹ کواتنی اہمیت کیوں دی؟

نعمان انصاریnoman ansari

میرے لیے شاید یہ مناسب نہیں ہے کہ میں ایک دوسرے لکھاری کو 'کلک بیٹ' کے استعمال پر  تنقید کا نشانہ بناؤں۔ جب میں ایکپریس ٹریبیون پر بلاگ لکھتا ہوں تو میں بھی بہت پر کشش عنوانات کی تجاویز دیتا ہوں تاکہ  پڑھنے والوں کی دلچسپی کو اپنی طرف کھینچا جائے۔ہر پبلشر اپنی اچھی تحریروں کے علاوہ ریڈر کے اعداد و شمار پر بھی نظر رکھتا ہے  اور ہر لکھاری چاہتا ہے کہ اس کے کام کو زیادہ سے زیادہ پڑھا جائے۔ لیکن دلچسپ عنوان اور کلک بیٹ میں یہ فرق اتنا ہی ہے جتنا چائے کے کپ میں چینی ڈالنے یا  ایک شوگر ملک کے تمام مواد ڈالنے میں ہے۔

 کچھ عرصہ قبل ڈیلی پاکستان میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ جو ایک پاکستانی ہیومن رائٹ ایکٹوسٹ خاتون سیدہ غلام فاطمہ جو  ایک مشہور این جی او ( بانڈڈ لیبر لبریشن فرنٹ پاکستان ) بی ایل ایل ایف کی بانی ہیں سے متعلق تھی اور رپورٹ میں ان پر  2.3ملین امریکی ڈالر کی کرپشن کا الزام تھا جو انہوں نے ایک مشہور فوٹو بلاگنگ پیج ہیومن آف نیو یارک   کے ذریعے اکٹھے کیے تھے۔ اس رپورٹ کا عنوان تھا: "پاکستان کی ہیریت ٹب مین سے ملیے جنہوں نے ہیومن آف نیو یارک سے 2.3ملین روپے کمائے؟  ہم بتاتے ہیں انہوں نے ان پیسوں کا کیا کیا"

یہ رپورٹ کچھ ادھورے سچ اور جھوٹ پر مشتمل تھی   اور اس کا مقصد صرف ریڈر کی توجہ حاصل کرنا تھا۔ ثبوت نہ ہونے کو جرم کا ثبوت بنا کر پیش کرتے ہوئے اس آرٹیکل کی بنیاد ہی بہت کھوکھلی رکھی گئی ۔ آرٹیکل میں لکھا گیا کہ چونکہ فاطمہ نے ڈیلی پاکستان کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا  جب کہ حقیقت یہ ہے کہ  ایک  ایسے میڈیا پبلیکیشن کو کوئی اپنی ذاتی معلومات کیوں فراہم کرے گا جب  لوگوں کے کردار پر کیچڑ اچھالنے میں کوئی ثانی نہ رکھتا ہو۔ آرٹیکل میں یہ بھی لکھا تھا کہ فاطمہ نے اپنے فنڈز خفیہ اکاونٹ میں چھپا رکھے ہیں  جو انہوں نے غلاموں کی آزادی اور مجبور مزدوروں کی مدد کےلیے حاصل کیے تھے۔

یہ الزامات بھیانک تھے کیونکہ ثبوت کسی بھی الزام کا پیش نہیں کیا گیا تھا۔ آپ خود ہی دیکھ لیں: فاطمہ ایک ایسی خاتون ہیں جو بے آواز لوگوں کے حقوق کے لیے لڑتی ہیں، طاقت ور تاجروں کے خلاف کھڑی ہوتی ہیں ، دھمکیوں کا سامنا کرتی ہیں ، انہیں  مار پٹائی اور قاتلانہ حملے کا بھی نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں کرنٹ کے جھٹکے بھی لگائے گئے۔ اگر وہ اس ٹیبلائیڈ سے تعاون نہیں کرنا چاہتی تو ان کو اس کا حق ہے۔ کچھ سابقہ ڈان اور ایکسپریس ٹریبیون  کی رپورٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس خاتون پر کتنے بھیانک الزامات لگائے گئے ہیں۔ ڈان کے مطابق ان کی رقم  کی تفصیلات موجود ہیں۔

 اس کے علاوہ ایچ او این آئی کی ایک رہنما برینڈن سٹینٹن نے خود ان کے کردار کی گواہی دی  اور کہا کہ میں فاطمہ کے ساتھ  ہوں اور مجھے ان کی دیانت داری پر پورا یقین ہے۔ دی ایکسپریس ٹریبیون کی ایک رپورٹ نے ڈیلی میل کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے  بتایا کہ جمع کیے گئے فنڈز کہیں نہیں گئے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ پیسے انہوں نے ذاتی اکاونٹ میں کیوں رکھے تو ان کا جواب تھا کہ یہ میں نے ڈونرز کی مرضی سے اس اکاونٹ میں رکھے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ این جی او کے کام کی رفتار کم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہ عمل بہت ہی تھکا  دینے والا اور مشکل ہے۔

اس بیان سے کافی چیزیں سمجھ آ جاتی ہیں۔ اس کا جواب دیتے ہوئے ڈیلی پاکستان کے آرٹیکل  میں منگو باز نامی رپورٹر نے لکھا کہ زمینداروں کے چنگل سے غلاموں کو چھڑانے میں ایک دن بھی نہیں لگتا۔ آرٹیکل میں لکھا ہے: جس شخص کو  مجبور مزدوروں کو آزاد کروانے کا طریقہ معلوم ہو اسے اندازہ ہوتا ہے کہ اس مقصد کے لیے کتنے اخراجات کی ضرورت ہوتی ہے۔ صرف جون 2016 میں بی ایل ایل ایف نے 470 مزدوروں کو آزادی دلوائی اور یہ سب کیسز ہائی کورٹ میں درج ہیں  لیکن اس نظام کو بدلنے میں کئی ghulam fatimaسال لگ سکتے ہیں۔

 

 

  فاطمہ نے ڈیلی پاکستان کی طرف سے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات پر شکایت کرتے ہوئے کہا: یہ فنڈز برینڈن سٹنٹن نے جمع کیے تھے۔ ہم نے انہیں کبھی اس کے لیے مدعو نہیں کیا۔ وہ خود پاکستان آئے ، ہم سے ملے، اپنا کام کیا اور پھر بتایا کہ وہ ایک مہم  چلائیں گے جس کا نام ہو گا : ہیلپ فاطمہ ٹو انڈ بانڈڈ لیبر (بانڈڈ لیبر ختم کرنے میں فاطمہ کی مدد کریں)۔ انہوں نے کہا کہ ان الزامات کے پیچھے ان  طاقتور لوگوں کا ہاتھ ہے جو بانڈڈ لیبر کو ختم نہیں کرنا چاہتے۔ کچھ ویب سائیٹس صرف ریڈر شپ بڑھانے کےلیے سچائی کو مسخ کر دیتی ہیں  اور اصل حقیقت ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی۔

کوئی بھی تجربہ کار لکھاری یا صحافی یہ بتا سکتا ہے کہ  سچائی تک پہنچنے کےلیے آپ کو کن سوالات کا انتخاب کرنا چاہیے  جن پر ایک سٹوری بنائی جا سکتی ہے۔ اگر آپ کو کھودنا آتا ہو تو آپ کہیں بھی کھدائی کر سکتے ہیں۔ اگر رپورٹر فاطمہ کے اعتماد کو جیتنے میں ناکام رہا  تو یہ رپورٹر کی اپنی خامی ہے۔ اگرڈیلی پاکستان تحقیقات ہی کرنا چاہتا تھا تو برینڈن سٹینٹن کے بیان کو کیوں اہمیت نہیں دی گئی؟ انہوں نے ڈان اور ایکسپریس ٹریبیون کی طرح فاطمہ سے یہ کیوں نہیں پوچھا کہ ان کو کیسی مشکلات پیش آئیں؟   انہوں نے بینک سٹیٹمنٹ کی عدم موجودگی کی بنا پر فاطمہ کے کردار کو کیوں اچھالا؟  کسی ثبوت کے بغیر ایک بڑی این جی او  پر کیچڑ کیوں اچھالا گیا؟  اگر فاطمہ کوئی بات چھپا رہی تھیں تو انہوں نے دی ایکسپریس ٹریبیون کو اپنی بینک کی تفصیلات کیوں بتائیں؟

ایکسپریس ٹریبیون اور ڈان سے بات کرتے ہوئے رپورٹ رائٹر کا کہنا تھا کہ وہ بے گناہ ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق حمزہ راو نے کہا: میں نے صرف سوالات اٹھائے ہیں اس کے لیے علاوہ میرا کوئی مقصد نہیں تھا۔ ان کے الفاظ سے ایسا لگتا ہے کہ وہ حقیقت کو بدلنے کے معنی سے واقف نہیں ہیں لیکن ایسا نہیں ہے۔ ان کا پورا ٓرٹیکل ہی اس کی ایک واضح مثال ہے۔ ان کے مضمون کے آخری پیراگراف سے بھی یہی جھلک نظر آتی ہے کہ دیلی پاکستان نے اس موضوع پر تحقیق اس نتیجہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے شروع کی ہے کہ فاطمہ کی یہ این جی او کرپشن میں ملوث ہے۔ پیرا گراف میں لکھا ہے:

پاکستان میں این جی اوز اندھا دھند فنڈز اکھٹا کرتی ہیں اور ان کے منصوبے صرف دستاویزات اور فوٹوگراف پر مشتمل ہوتے ہیں۔ نہ تو حکومت اور نہ ہی پریس ان این جی اوز کی کارکردگی پر نظر رکھتی ہے۔ غیر ملکی ڈونرز کو جھوٹی اور بے بنیاد تفصیلات اور تصاویر دکھائی جاتی ہیں تاکہ ان کے منہ بند رکھے جا سکیں۔ جب کوئی ڈونر اصرار کرے تو اسے سکیورٹی صورتحال کا خوف دلا کر دور رکھا جاتا ہے۔ جو لوگ ان غیر ملکی ڈونرز کو دھوکہ دیتے ہیں ان کو بھی آزادی سے گھومنے پھرنے دیا جاتا ہے اور ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جاتی۔

یہ بہت شرمندگی والی بات ہے کہ اپنی اچھی نیت ، بڑی مہم اور بہت زیادہ فنڈز کے حصول کے باوجود ایچ او این وائی پاکستان میں غلامی کی صورتحال کو بدلنے میں ناکام رہی ہے۔ اگر بد انتظامی اور کرپشن جاری رہی تو ڈھائی بلین ڈالر سے بھی پاکستان میں غلامی کی صورتحال کو بدلا نہیں جا سکتا۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ اگر ڈیلی پاکستان اس این جی او سے تعصب کا شکار نہ ہوتا تو ایک اچھی رپورٹ لکھی جا سکتی تھی۔یہ بات جاننا بہت دلچسپی کا حامل ہو سکتا تھا کہ آخر اتنے فنڈز جمع کرنے کے باوجود فاطمہ ترقی کیوں نہ کر پائیں۔ البتہ یہ بھی سچ ہے کہ متوازن رپورٹ سوشل میڈیا پر آگ کی طرح نہیں پھیلائی جا سکتی تھی۔

ہم اس کا الزام ڈیلی پاکستان پر ڈال سکتے ہیں  لیکن اس سٹوری کے اصل ولن ہم ریڈر لوگ ہیں۔ ڈیلی پاکستان کی اصل رپورٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی  لیکن ڈان اور ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹس جو حقائق پر مبنی تھی نے اتنی زیادہ توجہ نہیں سمیٹی۔ہم ڈونلڈ ٹرمپ کو اس لیے مذاق کا نشانہ بناتے ہیں کہ وہ فاکس نیوز اور بریٹ بارٹ کی صحافت کو سمجھ نہیں پا رہے  لیکن ہم سے بڑا بیوقوف کون ہے  کہ ہم نے ایسی رپورٹ کو شئیر کیا جسے رپورٹ کرنا چاہیے تھا ۔ ہمیں اس پر شرم آنی چاہیے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *