یس مین!

عطا الحق قاسمیA_U_Qasmi_converted

گزشتہ روز میں اپنے ایک دوست کےگھر گیا تو اس کی کوٹھی کا مین گیٹ اندر سے مقفل تھا اور گھنٹی باہر نہیںاندر برآمدے کی دیوار کے ساتھ تھی۔ یہ مین گیٹ اتنا چھوٹا تھا کہ اسے آسانی سے پھلانگ کر گھنٹی تک رسائی حاصل کی جاسکتی تھی۔ پہلے میں نے سوچا کہ اپنے وسیع تجربے کو بروئے کارلایا جائے اور پھر کامیابی پر یہ شعر پڑھا جائے:
گھر میں ترے کودا کوئی یوں دھم سے نہ ہوگا
جو ہم سے ہوا فعل وہ رُستم سے نہ ہوگا
مگر پھر سوچا کہ ہر کام کے لئے ایک عمر ہوتی ہے۔ اس عمر میں اس قسم کے کاموں کا نتیجہ صرف ’’چْک‘‘ کی صورت ہی میں نکلتا ہے لہٰذا سورج کی تیز کرنوں کا غصہ میں لوہے کے دروازے پر مکے کی صورت میں اتارتا رہا۔ حتیٰ کہ افلاک سے نالوں کا جواب آیا یعنی اندرسے دوست کے ایک عزیز دروازہ کھولنے کے لئےباہر تشریف لائے۔ میںان سے پہلی دفعہ متعارف ہو رہا تھا۔ سو دروازہ کھلنے پر میں نے اندر داخل ہو کرگفتگو کرنے کی غرض سے کہا ’’بڑی گرمی ہے‘‘
انہوں نےکہا ’’یس سر!‘‘
میں نے عرض کی ’’تھوڑی دیر پہلے موسم بہت خوشگوار تھا‘‘
بولے ’’یس سر‘‘
میں نےکہا ’’بارش ہوجائے توشایدموسم ایک بار پھرٹھیک ہوجائے‘‘
بولے ’’یس سر!‘‘
گرمی نےمجھے نروس کیاہوا تھا چنانچہ ڈرائنگ روم میں داخل ہونے کےبعدکہنے کی بجائے کہ گرمی زیادہ ہے ذرا پنکھا تیز کردیں، میں نے کہا’’ پنکھا زیادہ ہے۔ ذرا گرمی تیز کردیں‘‘ اس مرتبہ بھی ان کا جواب ’’یس سر!‘‘ ہی تھا۔ خیر ان محترم سےتعارف نہیں تھا چنانچہ میں نے تخمینہ لگایا کہ ’’یس سر!‘‘ دراصل ان کاتکیہ کلام ہے۔ ورنہ کچھ لوگ عادتاً نہیں مجبوراً یا ضرورتاً بات بات پر ’’یس سر!‘‘ کہتے ہیں او ر من کی مرادیں پاتے ہیں۔ ایک دفعہ ایک صاحب میرے دفتر میں تشریف لائے۔ انہوں نےایک کاغذ کا ٹکڑا میرے ہاتھ میں تھمایا۔ ان کی وضع قطع سے میں نے اندازہ لگایا کہ شاید انہوں نے کچھ اسی قسم کا رقعہ مجھے تھمایا ہے جس پر لکھا ہوتا ہے ’’برادرانِ اسلام میںگونگا بہرا مسکین و محتاج ہوں، میری مددفرما کر عند اللہ ماجور ہوں!‘‘ چنانچہ میں ان سے معذرت کرنے ہی کو تھا کہ کاغذ پر میری نظرپڑگئی۔ دیکھا تو غزل تھی۔ سو میں نے ایک نظر غزل پر ڈالی تو پتہ چلا کہ اس غزل کے ’’اوزان‘‘ خطا ہیں چنانچہ میں نے یہ غزل بصد معذرت واپس کی اور کہا ’’یہ صحیح نہیں ہے۔‘‘
بولے’’یس سر!صحیح ہے! ‘ ‘
میں نے کہا ’’صاحب صحیح نہیں ہے‘‘
کہنے لگے ’’یس سر! صحیح ہے‘‘
میں نے چڑ کرکہا ’’جناب والا! یہ بالکل صحیح نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے پہلے جیسی فرمانبرداری ہی سے جواب دیا ’’یس سر! آپ بجا فرماتے ہیںصحیح نہیں ہے‘‘تب مجھ پر کھلا کہ وہ بیچارے تو شروع ہی سے میری بات کی تصدیق کر رہے تھے سو اس دن سے ’’معاصر‘‘ میں ان کی غزلیں مسلسل شائع ہو رہی ہیں۔ ایسے شریف النفس لوگ جو آپ سے اختلاف ہی نہ کریں ان کی قدرافزائی کرنے کو کس کا جی نہیں چاہتا؟اور ہماری زندگی میں کون ساگوشہ ایسا ہے جہاں پہلے دن سےلے کرآج تک ایسے شریف النفس لوگوں کی قدر نہیں ہوئی؟ یہ ہر ایک کے سامنے ’’یس سر،یس سر!‘‘ کہتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ہزاروں لاکھوں سے ’’یس سر!،یس سر!‘‘ کہلواتے ہیں۔ یعنی:
یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات
مگر میرے ایک دوست ایسے بھی ہیں جنہیں اس طرح کے ’’سویٹ‘‘ لوگ بالکل پسند نہیں، چنانچہ میں نے انہیں کئی دفعہ ایسے بلند اخلاق لوگوں کو جھاڑتے دیکھا ہے تاہم ایسے لوگوں سے ان کا اختلاف ذرا فروعی نوعیت کا ہے، یعنی ان کا مطالبہ ہے کہ میرے جملے کے درمیان میں نہیں، جب میں جملہ مکمل کرلیا کروں اس وقت ’’یس سر!‘‘ کہا کرو لیکن قصور ان شریف النفس لوگوں کا بھی کوئی نہیں وہ جانتے ہیں کہ عہدہ اورزندگی آنی جانی چیزیں ہیں، ممکن ہے جملہ مکمل ہونے تک انہیں’’یس سر!‘‘ کہنے کاموقعہ محل ہی نہ رہےلہٰذا وہ درمیان ہی میں’’یس سر!‘‘ کہہ دیتے ہیں۔ تاہم اس ضمن میں بات میرے دوست کی بھی درست ہے، ان کا کہنا ہےکہ جملہ مکمل ہونے سے پہلے اس کی تصدیق کردینے سے بسا اوقات کچھ نامناسب سی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے ۔ مثلاً ایک دفعہ انہوں نےکہا ’’لعنت ہے مجھ پر....‘‘ مگرپاس بیٹھے ہوئے ایک شریف النفس نے ان کا جملہ مکمل ہونے سےپہلے کہا ’’یس سر!‘‘ جس پر وہ برافروختہ ہوگئے اور پھران کے منہ میںجو آیا انہوں نےکہا او ر اس پر متذکرہ شریف النفس کو ہر بار ’’یس سر!،یس سر!‘‘ کہناپڑا۔
تاہم پانچوںانگلیاں برابر نہیں ہوتیں۔ میں نے کچھ لوگ اس کے بالکل برعکس بھی دیکھے ہیں مثلاً ایک روز میں باغ جناح کی سیر کو گیا تو ایک ویران گوشے میں ایک تنہا شخص کو دیکھا جو اکیلا کھڑا ہاتھ فضا میں بلند کرکے کہہ رہا تھا ’’سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔ آپ بالکل غلط کہتے ہیں، میں آپ کی بات ماننے کو تیار نہیں۔‘‘ اس پر میں اس کے قریب گیا مگراس نے میری موجودگی کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنا اختلاف جاری رکھا۔ ’’یہ کیسے ہوسکتا ہے؟جناب آپ بھول جائیں، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں غلط کہہ رہے ہیں‘‘ اس پر میں نے اسے کندھے سے جھنجوڑا اور کہا ’’عزیزی کیابات ہے یہ تم کس سے جھگڑ رہے ہو؟‘‘
اس نے ایک نظرمیری طرف دیکھااور پھربولا ’’کچھ نہیں صاحب!آپ جائیں میں ’’یس مین ہوں‘‘ اور آج چھٹی پر ہوں۔‘‘ اسے دیکھ کر میرا دل شاد ہوا کیوں کہ یہ پہلا ’’یس مین‘‘ تھا جو چھٹی پر تھا ور نہ یہ اتنے ڈیوٹی بائونڈہوتے ہیں کہ چھٹی پر بھی نہیں جاتے اور اتنے تابع فرمان ہوتے ہیں کہ اگر شدید گرمی یا حبس میں غلطی سے منہ سے نکل جائے کہ ’’پنکھا زیادہ ہے ذرا گرمی تیز کردیں‘‘ تو جواب میں ’’یس سر!‘‘ کہتے ہیں اورگرمی تیز کرنے کی کوشش کرنے لگتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *