افغانستان میں پاک بھارت اینڈ گیم

Najam Sethiاس سال جنوری میں افضل گورو کو پھانسی دیے جانے کے بعد کشمیر میں شہریوں اور جہادی عناصر اور بھارتی سیکورٹی فورسز کے درمیان پر تشدد جھڑپوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ مارچ میں جنگجو وں نے پانچ پولیس والے ہلاک کر دیے۔ مئی میں چار فوجیوں کو گولی مار دی گئی۔جون میں آٹھ فوجیوں کو گھات لگاکر ہلاک کر دیا گیا۔ ان کاروائیوں کے جواب میں پیرا ملٹری فورسز کی شہ پر بپھرے ہوئے ہندو ہجوم نے نمازِ عیدادا کرنے والوں پر حملے کیے، بھارتی فورسز کی طرف سے قرآنِ پاک کی بے حرمتی کا واقعہ پیش آیا اور اس کے خلاف احتجاج کرنے والے شہریوں پر فائرنگ کی گئی۔ ان واقعات کے علاوہ مقبوضہ کشمیر میں شیعہ سنی فسادات بھی ہوئے اور یہ اس وادی میں ایک نئی بات تھی کیونکہ اس سے پہلے یہاں فرقہ وارانہ کشیدگی نہیں تھی۔ ان فسادات کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوئے۔
کشمیر میں پر تشدد کاروائیوں کے علاوہ کنٹرول لائن پر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میںآیا ہے۔ چھے جنوری کو بھارتی فورسز کی فائرنگ سے ایک پاکستانی فوجی ہلاک ہوا۔ آٹھ جنوری کو پاکستانی فورسز نے دو بھارتی فوجیوں کو ہلاک کر دیا۔ اس کے بعد ایک پاکستانی فوجی پندرہ فروری اور ایک جولائی کو بھارتی فورسز کی فائرنگ کا نشانہ بنا۔ پانچ اگست کو پانچ بھارتی فوجیوں کو ہلاک کر دیا گیا۔اُس وقت سے لے کر اب تک دونوں ممالک کی فورسز ایک دوسرے پر گولہ باری کررہی ہیں۔
دوسری طرف مغربی سرحد کے پار افغانستان میں تین اگست کو جلال آباد میں بھارتی سفارت خانے پر خود کش حملہ کیا گیا۔ اس حملے میں سفارت خانے کے قریب کھڑے کچھ افراد کی ہلاکتیں ہوئیں۔ اس سے پہلے 2008، 2009 اور 2010 میں کابل میں بھارتی اثاثوں پر حملے کیے گئے ہیں۔ بھارت ان حملوں پر پاکستانی ’’اثاثوں ‘‘،حقانی گروپ، کو موردِ الزام ٹھہراتا ہے۔ اس کے بعد بلوچ علیحدگی پسندوں، جن کے مبینہ طور پر افغانستان میں تربیتی کیمپ ہیں، نے بلوچستان میں موجود پنجابی آبادکاروں، پاکستان کی سیکورٹی فورسز اور گیس کی تنصیبات پر حملے شروع کر دیے ۔ سنی انتہا پسندوں نے بھی اہلِ تشیع اور سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنانا شروع کردیا۔ پاکستان ان حملوں پر بھارت کو موردِ الزام ٹھہراتا ہے۔
یہ سب کیا ہورہا ہے؟پاکستانی اور بھارتی سیکورٹی فورسز کے درمیان کشیدگی اس حدتک کیوں بڑھ چکی ہے کہ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل مسٹر بان کی مون کو ثالثی کی پیش کش کرنا پڑی؟اس ضمن میں بھارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ افضل گورو کی پھانسی سے فائدہ اٹھا کر پاکستانی دفاعی اداروں نے کشمیر میں پرتشدد کاروائیوں میں اضافہ کردیا ہے۔الزام ہے کہ پاکستانی فوج جنگجوعناصر کو لائن آف کنٹرول پار کرنے میں مدد دیتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں بھیجتی ہے تاکہ وہ بھارتی علاقے میں جا کر شورش پھیلائیں۔ انڈیا یہ تاثر دینے کی کوشش کررہا ہے کہ پاک فوج جارحانہ کاروائیاں کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نواز شریف کی دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان امن کی فضا قائم کرنے کی کوششوں کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہے۔
تاہم اس بھارتی تھیوری کوتسلیم کرنے میں کچھ حقائق آڑھے آتے ہیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ آرمی چیف جنرل اشفاق کیانی نے یہ واضح طور پر کہا کہ اب پاکستان کی سا لمیت کو بھارت کی بجائے اندرونی عناصر، یعنی طالبان، سے خطرہ ہے۔ اُنھوں نے بھارت کے ساتھ تجارتی روابط کی بھی حمایت کی اور مسٹر شریف کے وزیرِ اعظم بننے سے پہلے ہی پاکستان اوربھارت میں تجارت ہو رہی تھی۔ اب ،جیسا کہ بھارتی ذرائع الزام لگاتے ہیں، وہ اس امن کی فضا کو خراب کیوں کرنا چاہیں گے؟ اس کے علاوہ یہ بھارت ، نہ کہ پاکستان ، ہے جس نے افضل گورو کو پھانسی دی تھی اور اس کے نتیجے میں وادی میں پر تشدد کاروائیاں شروع ہوئی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت پاکستان کی ملٹری حکمتِ عملی مغربی ،نہ کی مشرقی، بارڈر کے حوالے سے ہے۔
اس صورتِ حال کی ایک اور حقیقت پسندانہ وضاحت ہے۔ اگلے سال کے اختتام تک افغانستان سے امریکی انخلا کے امکانات نے پاکستان اور بھارت ، دونوں کو مجبور کیا ہے کہ وہ افغانستان میں اپنا زیادہ سے زیادہ اثرورسوخ قائم کریں۔ امریکہ کی شہ پر بھارت افغان معیشت میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے اور افغان نیشنل آرمی کو تقویت دیتے ہوئے کرزئی حکومت کوسہارا دے رہا ہے۔ اس دوران پاکستان بھی اپنے افغان اثاثوں ، ملاعمراور حقانی گروپ، کو ہاتھ میں رکھے ہوئے ہے تاکہ کابل میں بھارت کے بڑھتے ہوئے اثر کو زائل کیا جا سکے۔ یقیناًبھارت کی پشت پناہی سے وجود میں آنے والی 350,000 جوانوں پر مشتمل ایک مضبوط افغان فوج، جو پاکستان مخالف جذبات رکھتی ہو، پاکستانی اسٹبلشمنٹ کے لیے ایک ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔ چناچہ افغانستان، کشمیر اور بلوچستان میں تشدد اورلائن آف کنٹرول پر کشیدگی کی وجہ سمجھنا کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔
تاہم صورتِ حال میں ایک اور غیر معمولی موڑ آیا ہے۔ جس دوران بھارت میں سیکورٹی اسٹبلشمنٹ،اپوزیشن جماعتیں، میڈیا، حتیٰ کہ کانگرس حکومت بھی پاکستان کے خلاف یک زبان ہوکر جارحانہ جذبات کا اظہارکررہے ہیں، پاکستان کا ردِ عمل یکسر مختلف ہے۔ پاک فوج کے ترجمان نے بھارتی جذبات کے مقابلے میں جارحانہ بیان نہیں دیا ہے، پاکستان میڈیا محتاط لہجہ اپنائے ہوئے ہے اور اپوزیشن بھی بھارت کو ’’منہ توڑ جواب ‘‘ دینے کے لیے حکومت پر دباؤ نہیں ڈال رہی ہے۔ سرحدپر ہونے والی فائرنگ کے باوجود وزیرِ اعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ مربوط ڈائیلاگ کے ذریعے امن کے عمل کو آگے بڑھایا جائے۔
بہتر ہوتا اگر بھارت پاکستانی وزیرِ اعظم کی نصیحت پر کان دھرتا۔ اگر بھارت افغانستان میں اپنے کارڈ ، جیسا کہ اوپر بیان کیا ہے، نہیں کھیل رہا اور اس کا خیال ہے کہ پاکستانی سیکورٹی اسٹبلشمنٹ امن کے عمل کو سبوتاژ کررہی ہے تو پھر اسے وزیرِ اعظم نواز شریف ، جو امن کے خواہاں ہیں، کے ہاتھ مضبوط کرنے چاہیں۔ محاذ آرائی دونوں ممالک کے لیے خطرناک نتائج لیے ہوئے ہے۔ اگر ، جیسا کہ خدشہ ہے، امریکہ کے جانے کے بعد پاکستان اور انڈیا نے اپنے اپنے ’’اثاثوں ‘‘ کی مدد سے افغان سرزمین پر پراکسی جنگ کرنے کی حماقت کی تو یہ جنگ ان کے انٹر نیشنل بارڈر پر بھی پہنچ جائے گی۔ اس صورتِ حال سے جہادی عناصر اور القاعدہ فائدہ اٹھاتے ہوئے پورے کشمیر میں پھیل جائیں گے۔ جس طرح کبھی پاکستان کی خواہش تھی کہ افغانستان میں ایسی حکومت بنے جو پاکستان کی حامی ہو ، اسی طرح آج ہندوستان کو بھی پاکستان میں ایک ایسی حکومت کی ضرور ت ہے جو اس کے ساتھ امن سے رہنا چاہتی ہو۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *