خوف

M tahirرفتارِ حالات میں ترتیبِ واقعات کی اپنی ہی ایک معنی خیزی ہوتی ہے۔ یہ” حُسنِ اتفاق“ نہیں بلکہ” حُسنِ انتظام “تھا کہ برطانوی وزیرِا عظم جب پاکستانی وزیراعظم سے ملاقات میں مصروف تھے تو الطاف حسین اپنے کارکنان سے خطاب میں یہ ارشاد فرمارہے تھے کہ

”اسکاٹ لینڈ یارڈ اور لندن پولیس مجھے ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل میں ملوث کرنے کی سازش کر رہی ہے۔ یہ سازش بند کی جائے اِسی میں برطانیہ کی بھلائی ہے ۔“

الطاف حسین کا طویل خطاب ابھی جاری تھا کہ برطانوی وزیر اعظم نے پاکستانی وزیر اعظم کے ساتھ مشترکہ ابلاغی نشست کی ۔تب برطانوی وزیر اعظم نے یہ کہا کہ ”پاکستان کا دوست ہمارا دوست ہے اور پاکستان کا دشمن ہمارا دشمن ہے۔“ دو مختلف جہات میں جاری اِن سیاسی اور سرکاری مشقوں کا ایک ہم آہنگ تناظر بھی ہوسکتا ہے اور بالکل مختلف بھی ۔مگر یہ دونوں واقعات ایک مشترکہ موقع کی صورت میں ایک مربوط تاثر کی تخلیق کاباعث بنے ہیں ۔الطاف حسین نے اپنے خطاب کے لئے ایک ایسا وقت منتخب کیا جب دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کی ملاقات ہو رہی تھی۔اِس سے قبل الطاف حسین پاکستان کے لئے رات اور لندن میں بھرپور نیند کے بعد دن کاوقت اِن سرگرمیوں کے لئے منتخب کرتے رہے ہیں ۔الطاف حسین کا یہ خطاب کئی اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے ۔ عمران فاروق کو لندن میں 16ستمبر 2010 کو قتل کیا گیا تھا ۔ اِس قتل کے گرد اسرار کی تہیں تب اُبھرنا شروع ہوئیں جب 11مئی 2011 کو ماڈل کالونی کراچی سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون بینا خالد شمیم نے اپنے شوہر کے اغوا کا مقدمہ درج کرایا۔خاتون کے نزدیک یہ واقعہ 6جنوری 2011کو پیش آیاتھا ۔خالد شمیم کا نام کراچی میں جوں ہی سرگوشیوں میں آیا تو سوالات بھی گردش میں آئے ۔ اور پہلی مرتبہ اُن دو قاتلوں کا ذکر انتہائی راز داری سے ہونے لگا جو چار ممالک میں گھومتے گھامتے لندن پہنچے تھے اور عمران فاروق کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث تھے۔خالد شمیم سے اُن دونوں کے تعلق پر کبھی بھی سرکاری طور پر کوئی موقف اختیار نہیں کیا گیا۔ یہاں تک کہ اُن دو قاتلوں کے حوالے سے بھی کبھی سرکاری طور پر کوئی رائے سامنے نہیں آئی۔ مگر یہ معلومات ہمیشہ رحمان ملک کے بہت کام آتی رہیں ۔ جس کے ذریعے وہ اپنے مخصوص سیاسی اہداف حاصل کرتے رہے۔ تاہم پاکستانی ذرائع ابلاغ خوف کے غیر منطقی حصار میں نہ تو اس امر کی تحقیق کے لئے تیار تھے اور نہ ہی کسی اور کی تحقیق سے استفادے کے لئے آمادہ تھے۔یہ ایک غیر معمولی پیش رفت تھی جس میں ایک پاکستانی ادارے نے ایک ایسے قتل کا سراغ لگا لیا تھا جو لندن ایسے ترقی یافتہ ملک میں ہوا تھا اور جس کے تفتیشی ادارے عالمی شہرت کے حامل تھے۔مگر پاکستا نی ذرائع ابلاغ نے کبھی بھی ایسے الفاظ ادانہیں کئے جو اسکاٹ لینڈ یارڈ کے اعلامئے کا حصہ نہ بن گئے ہو ۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ نے یہ طریقہ کار کسی ذمہ داری کے اصول پر نہیں بلکہ خوف کے باعث ازخود ہی اختیار کر لیا تھا ۔خالد شمیم اور مبینہ دو قاتلوں پر کبھی بھی ،کہیں پر بھی ،کوئی بات نہیں کی گئی۔کیونکہ اُن کا ذکر ہی ایک مخصوص گروہ کی طرف خود بخود ہی رہنمائی کا باعث بنتا۔اس محدود سے پسِ منظر میں الطاف حسین کی تقریر کے اُس حصے کو سامنے رکھ کر دیکھئے جس میں وہ برطانوی پولیس اور اسکاٹ لینڈ یارڈ کی اُس سازش کا ذکر کرتے ہیں جس کے تحت اُنہیںعمران فاروق کے قتل میں ملوث کیا جارہا ہے۔ اِس طرح الطاف حسین نے پاکستان میں پہلی مرتبہ خود ہی عمران فاروق کے قتل میں اپنے خلاف شک کا اظہار کردیا ہے۔ حیرت انگیز طور پر تین سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود تاحال اسکاٹ لینڈ یارڈ نے ابھی تک کسی فرد کے خلاف کوئی فردِجرم عائد نہیں کی ۔کم ازکم ایسے آٹھ لوگوں سے اسکاٹ لینڈ یارڈ کی تحقیقات کے بعد اِس واقعے کی تفتیش کا ہر رُخ متعین ہو چکا ہے مگر اس کے باوجود برطانوی ادارے نے کسی بھی فرد کو اس سنگین جرم سے متعلق نہیں کیا ۔گزشتہ دنوں ایک باون سالہ شخص سے ایک طویل تفتیشی عمل کے بعد جب افتخار حسین کے طور پر اُن کا نام برطانیہ سے سامنے آیا اور اُنہیں الطاف حسین کا رشتہ دار بتایا گیا ،تب بھی اسکاٹ لیند یارڈ نے اپنے اعلامئے کی حد تک اُس کا نام لینے سے گریز کیا ۔ اور اُس کی ماہ ِستمبر تک ضمانت پر رہائی کے باوجود اِس معاملے سے اُن کے تعلق کی نوعیت پر کوئی روشنی نہیں ڈالی گئی تھی۔ مگر یوں لگتا ہے کہ الطاف حسین نے بے پناہ دباو¿ کو محسوس کرتے ہوئے اِس کا ذکر خود ہی کردیا ہے ۔ظاہر ہے کہ یہ ایک سنگین غلطی ہے جو اُن سے سرزد ہو گئی ہے ۔اب جن ذرائع ابلاغ کو اُنہوں نے اپنے خطابِ لاجواب میں ہدفِ ملامت بنایا اور جس پر اُن کے کارکنوں نے اُنہیں ٹکے ٹکے میں بکنے والے اور ایک سے دوسرے چینل میں چھلانگیں لگانے والی ناقابلِ اعتبار اور قابلِ نفرت مخلوق کے طور پر تبصروں سے نوازا ، وہی ذرائع ابلاغ اِس تحقیقاتی عمل کے دوران بار بار الطاف حسین کا نام لیں گے اور یہ اُن کے اپنے بیانئے کی روشنی میں ہی ہوگا۔

الطاف حسین کا لندن میں رات کے وقت یہ خطاب فارسی شاعر کو یاد کرنے کا ایک موقع بھی مہیا کرتا ہے :

دیدی کہ خونِ ناحقِ پروانہ شمع را

چندان امان نداد کہ شب را سحر کند

( دیکھا پروانے کے ناحق خون نے شمع کو اتنی مہلت بھی نہ دی کہ وہ رات کو صبح کر سکے۔)

ایم کیو ایم کے قائد کو پاکستان کی حد تک اپنے سیاسی تضادات کی اب تک کوئی قیمت ادا نہیں کرنا پڑتی تھی ۔ وہ اپنی ہر سیاسی غلطی کو بھی اپنے لئے مفید بنا لیتے تھے ۔ مگر اب معاملہ برطانیہ سے آپڑا ہے ۔ بدقسمتی سے وہ اس معاملے کا سامنا بھی پاکستانی حکومت سے نمٹنے والے انداز میں کر رہے ہیں۔ مثلاً انہوں نے برصغیر میں برطانیہ کے استعماری کردار کو موضوع بنایا ۔ اور ایک مخصوص پیرائے میں کہا کہ ”انسانی حقوق کے چیمپئن برطانیہ نے کئی لوگوں کو لٹکایا۔اور برطانوی مظالم کے باعث کئی آزادی کی تحریکوں نے جنم لیا۔“ پھر اُنہوں نے ایک اور بات کہی جس کا برطانیہ میں کوئی تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ ” برطانوی اسٹیبلشمنٹ بڑی صفائی سے میری جان لے سکتی ہے۔“ یہ کافی نہیں تھا کہ اُنہوں نے مزید کہا کہ ”برطانوی حکومت اس خوب صورتی سے میری جان لے سکتی ہے کہ کسی کوپتہ نہیں چلے گا۔ “ظاہر ہے کہ وہ پیش آئندہ دنوں پر ایک طرف تو اپنی جماعت کے کارکنوں کو اعتماد میں لینا چاہتے تھے تو دوسری طرف وہ برطانوی وزیراعظم کے دورے کو بھی اپنی سیاسی طاقت کو دکھانے کے لئے استعمال کررہے تھے۔ کیا یہ اس کا مناسب پیرایہ تھا ؟بعد ازاں ایم کیو ایم نے پہلی مرتبہ برطانوی قونصلیٹ کے باہر مظاہرہ بھی کیا اور الطاف حسین کے گھر کی تلاشی اور اُنہیں عمران فاروق کے قتل میں ملوث کرنے کے خلاف کراچی کی سیاسی طاقت کی حدت وہاں تک پہنچائی۔کیا یہ ساری سرگرمیاں عمران فاروق کے قتل کے حوالے سے جاری تفتیش پر اثر انداز ہو سکتی ہے؟یوں لگتا ہے کہ ایم کیو ایم نے لندن میں طویل عرصے تک رہ کربھی وہاں کے نظام سے متعلق کوئی آگہی پیدا نہیں کی یا پھر ایم کیو ایم نے کسی بھی مسئلے سے نمٹنے کے لئے صرف ایک طریقے کے علاوہ کسی دوسرے طریقے کی اہلیت ہی پیدا نہیں کی۔شاید اِسی لئے ایم کیو ایم کے قائد نے ڈیوڈ کیمرون کی پاکستان آمد کو ”تیرا آنا دل کے ارمانوں کا لٹ جانا“ کے بمصداق لیا ۔ جب کہ اپنی جماعت کی قیادت چھوڑنے اور پھر کارکنوں کے اصرار پر فیصلہ واپس لینے کا معاملہ اب ایک ایسی فلم کی طرح لگتا ہے جو بار بار دیکھے جانے کے باعث اپنی کشش ہی کھو چکی ہو ۔ اِس کے باوجود بعض بصری فیتے ایسے ہیں کہ جسے جتنی بھی بار دیکھا جائے ،نئے سے لگتے ہیں ۔اگر یقین نہ آئے تو عمران فاروق کے قتل پر الطاف حسین کے ردِعمل کی جھلک دوبارہ دیکھئے ۔اُس کے بعد ہی اسکاٹ لینڈ کی اُن ”زیادتیوں “ کا بخوبی ادراک کیا جاسکتا ہے اور اُن ”زیادتیوں “ کے باعث پیداہونے والے اُس دباو¿ کا بھی جس کے باعث ”قائدِتحریک“ مسلسل فاش غلطیاں کئے جارہے ہیں۔لیکن اِن خطاو¿ں کا گوشوارہ مرتب کرنا ہرگز مناسب نہیں ہوگا ۔فارسی مثل سمجھاتی ہے کہ

خطائے بزرگاں گرفتن خطا است

(بزرگوں کی خطاو¿ں پر گرفت بجائے خود ایک خطاہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *