منگل لودھا صاحب، جنا ح ہاوس گرانے سے تقسیم ہند منسوخ نہیں ہو سکتی

خسرو طارقkhusro

اس ہفتے بھارت میں الٹرا نیشنلزم ایک اور حد پار کر لی گئی۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بی جے پی  سے تعلق رکھنے والے ایک ممبرپارلیمنٹ منگل پربھات لودھا نے مطالبہ کیا ہے کہ ممبئی میں موجود  جناح  ہاوس کو گرا کر یہاں مہاراشٹرا کلچر کے فروغ کے لیے ایک عمارت تعمیر کی جائے۔ محمد علی جناح کا رہائشی بنگلہ ممبئی کے علاقے مالابار ہل میں موجود ہے جہاں انہوں نے 1936 میں برطانیہ سے واپسی پر قیام کیا تھا۔

یہاں انہوں نے 1944 تک رہائش اختیار کیے رکھی اور بعد میں انہوں نے اپنا سب کچھ کراچی میں منتقل کر لیا۔ کچھ بھی کہنے سے پہلے میں ایک بات کی وضاحت کرنا چاہوں گا۔ جنگوازم بارڈر کے دونوں اطراف پائی جاتی ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کی دشمنی میں اپنا دفاعی بجٹ بڑھا رہے ہیں  اور تعلیم، صحت اور انفرا سٹرکچر کو نظر انداز کر رہے ہیں۔

پچھلی سات دہائیوں سے دونوں ممالک کے سیاسی رہنماوں نے اپنی کرپشن اور بری طرز حکومت کو جنگ کے خطرے کا بہانہ کر کے چھپائے رکھا ہے۔ دونوں ممالک کی کل آبادی 330 ملین ہے جن میں سے 150 ملین عوام کو پینے کا صاف پانی بھی میسر نہیں ہے  اور سب سے بڑی کامیابی ان کی نیوکلیر طاقت ہے۔ دنوں ممالک 100 سے زیادہ ایٹمی ہتھیاروں کا ذکر کرتے ہوئے پھولے نہیں سماتے  اور ہتھیاروں کی دوڑ بڑھتی ہی جا رہی ہے ۔ ہماری لیڈر شپ کی پہلی ترجیح ہتھیار بنانا ہے۔ اب ہم مسٹر لودھا کے مطالبے کی طرف چلتے ہیں۔ یہ شخص بھی برصغیر کی اندھی نفرتوں کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔

 یہ ایسی سوچ ہے جو تاریخ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور ماضی کی تمام یادوں کو مٹانے پر تلی ہے تا کہ یہ اپنے جھوٹے نیشنلزم پراپیگنڈے پر مبنی خواہشات کو حقیقت میں بدل سکیں۔ لودھا کا کہنا تھا: ساوتھ ممبئی میں موجود جناح کی رہائش گاہ سے ہی تقسیم ہند کی چال شروع ہوئی تھی۔ جناح ہاوس تقسیم ہند کی علامت ہے۔ اس لیے یہ عمارت ڈھا دی جائے۔ یہاں ایک مہاراشٹرا کلچر کے فروغ کی تعمیر شروع کی جائے۔ یہ کلچر سینٹر بھارت کی شاندار تاریخ کا نمونہ ہو گا۔ مسٹر لودھا، پاکستان کی تخلیق کا خواب علامہ اقبال کو سوجا تھا  اور جناح نے اس خواب کو حقیقت کا رنگ دینے کے لیے اپنی پوری سیاسی طاقت صرف کی تھی۔

 اگر 70 سال بعد بھی آپ کو یہ چال دکھائی دیتی ہے تو ہمیں معاف کیجیے کہ ہمیں آپ کے تعصب اور جاہلیت  کی بو آ رہی ہے۔ جہاں آرٹسٹس، شعرا، ادیب اور دوسرے پاکستانی اور بھارتی شہری اس نفرت کے دور کو ختم کرنا چاہتے ہیں وہاں آپ جیسے سیاستدان  نفرت اور تعصب کی آگ کو بھڑکانے میں مصروف ہیں۔ اگر بھارت میں آر ایس ایس  کی نیشنلزم کا برانڈ زیادہ معروف ہوتا جا رہا  ہے اور تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے ملک کے نفرت پھیلانے والے لوگ اس وقت اپنے عروج پر ہیں۔

اب ہم کچھ دیر کےلیے پاک بھارت تعلقات کے معاملے کے عام طرز جواب کو کچھ دیر کےلیے بدل لیتے ہیں۔ کٹاس راج کی دوبارہ تعمیر کے بعد ہمیں چاہیے کہ ملٹی کلچرل اور تنوع سے بھر پور ثقافت کو مٹانے کی بجائے اس محفوظ کریں۔ بارڈر پار بی جے پی جتنی مرضی نفرت پھیلائے، ہمیں ان کی بچگانہ حرکتوں سے زد میں نہیں آنا چاہیے ۔ ہمیں چاہیے کہ جنگوازم کو مسترد کر دیں اور تاریخ کو نئے سرے سے لکھنے کی کوشش کریں۔ آئیے ہم گاندھی کے حکم کے مطابق تبدیلی کی علامت بن جائیں۔

مسٹر لودھا، جس طرح بابری  مسجد گرانے سے مغل بادشاہوں  کی فتوحات کو کچھ نقصان نہیں ہوا اسی طرح جناح کی رہائش گاہ کو گرا دینے سے بھی پاکستان اس دنیا سے مٹ نہیں جائے گا۔ آپ اس کے لیے جتنی مرضی کوشش کر لیں۔ آپ اور ان دو ممالک کے لوگوں کو امن کی ضرورت ہے۔ آپ کو بھی چاہیے کہ امن کے سفارت کار بنیں اور دشمنی کے بیج مت بوئیں۔ 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *