ٹی وی چینلزکی رینکنگ اور ناظرین کے بدلتے رجحانات

ٹی وی چینلزکی رینکنگ اور ناظرین کےtv trends بدلتے رجحانات کو جانچنے کے لیے گیلپ کی ٹیم نے پورے پاکستان کے 18 بڑے شہروں
کے ناظرین کے رجحانات  کی کوریج کرتے ہوۓتقریبآ 4000 گھریلو ناظرین کا ڈیٹا اکٹھا کرکے  مندرجہ ذیل رپورٹ مرتب کی۔

اس رپورٹ نے دوسے تین سال کے ڈیٹا میں اس بات کی جانچ کی کہ ناظرین  روزانہ کی بنیاد پر کتنے گھنٹے چینل کو دیتے ہیں اور ناظرین کا حصہ صنفی لحاظ سے کتنا ہے۔اور ناظرین کے ایس ای سی اور صنفعی لحاظ سے رجحانات کیا ہیں۔

مخصوص چینلز میں ٹاپ ٹین نیوز، اٹرٹینمیٹ ، سپورٹس اور میوزک چینلز شامل ہیں۔

 

تین سال میں اوسط روزانہ کی بنیاد پررجحان

 

سال 2013-2014 کے دوران ٹی وی دیکھنے کا دورانیہ 2 گھبٹے 33 منٹ رہا۔  جبکہ سال 2015-2014 کے دوران ٹی وی دیکھنےوالوں کا رجحان  کا دورانیہ کم ہو کر 2 گھبٹے 25 منٹ رہا۔ اور اسی طرح سال 2016-2015 کے دوران ٹی وی دیکھنےوالوں کا دورانیہ مزیدکم ہوکر 2 گھبٹے 11 منٹ رہا۔ سال 2016-2015 کے دوران ٹی وی دیکھنے والے ناظرین میں چھ فیصد کمی واقع ہوئی ۔جبکہ سال 2015-2014 کے مقابلے میں 9 فی صد کمی واقع ہوئی۔

 

 

 

دیہی اور شہری علاقوں میں ٹی وی ناظرین کا دو سالوں کا رجحان

 

قومی سطح پر سال 2013- 2014 کے دوران ناظرین نے ٹی وی تقریبآ 2 گھنٹے 25 منٹ دیکھا جبکہ قومی سطح پر سال 2014-2015 کے دوران ناظرین نے ٹی وی تقریبا 2 گھنٹے 11 منٹ دیکھا۔ دیہی علاقوں میں سال 2013- 2014 کے دوران ناظرین نے ٹی وی تقریبآ 2 گھنٹے 26 منٹ دیکھا جبکہ  دیہی علاقوں میں سال 2014- 2015 کے دوران ناظرین نے ٹی وی تقریبا 2 گھنٹے 3 منٹ دیکھا۔ شہری علاقوں میں سال 2013- 2014 کے دوران ناظرین نے ٹی وی تقریبآ 2 گھنٹے 21 منٹ دیکھا جبکہ شہری علاقوں میں سال 2014- 2015 کے دوران ناظرین نے ٹی وی تقریبا 2 گھنٹے 23 منٹ دیکھا۔

 

اربن علاقوں میں ٹی وی ناظرین کے دیکھنے والوں کا دو سالہ 2015-2016 اور 2013- 2014 دورانیہ کا میزان

 

میٹرو سٹیز میں شامل شہر کراچی،لاہور اور اسلام آباد میں سال 2013- 2014  کا دورانیہ  2 گھنٹے 23 منٹ رہا جبکہ سال 2015-2016 میں ٹی وی ناظرین کا دورانیہ 2 گھنٹے 17 منٹ رہا۔

بڑے شہروں میں (حیدرآباد، ٖفیصل آباد، ملتان، پشاور اورکوئٹہ) میں سال 2013- 2014 کے دوران ٹی وی ناظرین کا دورانیہ 2 گھنٹے 4 منٹ رہا ۔جبکہ سال 2015-2016 کے دوران ٹی وی ناظرین کا دورانیہ 2 گھنٹے سے 75۔2 منٹ پر محیط رہا۔

چھوٹے شہر اور ٹاؤنز (گجرات، جیکب آباد، قصور،مردان، راجن پور، روڑی، پشین، ساہیوال، سرگودہا اور ٹھٹہ) میں سال 2013- 2014 کے دوران ٹی وی ناظرین کا دورانیہ 2 گھنٹے 14 منٹ رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 میں ٹی وی ناظرین کا دورانیہ 2 گھنٹے سے 11۔2 منٹ پر محیط رہا ۔رورل علاقوں میں شامل چاروں صوبوں کے تمام چھوٹے بڑے شہر پاۓ گۓ۔

 بڑے شہروں میں ٹی وی ناظرین کا دورانیہ ایک دن میں 2 گھنٹے سی لیکر .70)2) پونےتین گھنٹوں پرمحیط رہا اور یہ بڑے شہروں میں سب سے اونچا تناسب ہے ۔ تقریبا 3 گھنٹے روزانہ اور دہی علاقوں میں سب سے کم تریں تقریبآ 2 گھنٹے رہا۔ پچھلے سال کے مقابلہ میں دہی علاقوں میں ٹی وی ناظرین میں گیارہ فی صد کمی واقع ہوئی جبکہ بڑے شہروں میں اسی دورانیے میں ناظریں میں 13 فی صد کمی واقع ہوئی۔

اسی طرح سال 2015-2016 کے دوران لوکل انٹرٹینمنٹ چینلز کا حصہ تقریبآ 50 فی صد رہا۔ جبکہ سال 2013- 2014 کے دوران یہ حصہ 51 فی صد رہا۔ اسی طرح سال 2015-2016 کے دوران نیوز چینلز کا حصہ 20 فی صد رہا جبکہ سال 2013- 2014 کے دوران یہ حصہ 17 فی صد رہا۔ ۔ متفرق ناظرین میں شامل ریجنل ٹی وی کا حصہ 3۔ 43 فی صد ، مذہبی چینلز کا حصہ ایک فیصد، میوزک کا حصہ اعشاریہ اڑسٹھ فی صد ، فلمی چینلزکا حصہ اعشاریہ پانچ فی صد اور کوکنگ چینلز کا شیر اعشاریہ دو فی صد رہا۔ بچوں کے چینلز کا حصہ 3 فی صد رہا۔

 

صنفی اور آیس ای سی کے مطابق ٹی وی ناظریں کا دو سالہ متقابلی جائزہ کچھ اس طرح رہا۔

 

ایس ای سی (اے) کے مطابق سال 2013- 2014 کا دورانیہ 116 رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 107 رہا۔

ایس ای سی (بی) کے مطابق سال 2013-2014 کا دورانیہ 109 رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 107 رہا۔

ایس ای سی (سی) کے مطابق سال 2013- 2014 کا دورانیہ 103 رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 106 رہا۔

ایس ای سی (ڈی) کے مطابق سال 2013- 2014 کا دورانیہ 125 رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 115 رہا۔

ایس ای سی (ای) کے مطابق سال 2013- 2014 کا دورانیہ 120 رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 110 رہا۔

تاہم ناظرین کا تناسب سال 2015-2016 کے دوران ایس ای سی (ڈی) اور ایس ای سی (ای) کے درمیان بہت بلند رہا۔اور پچھلے سال بھی یہی اضافہ دیکھا گیا تھا۔ جب کہ باقی تمام ایس ای سی کے اندر پستی دیکھی گئی۔

ایس ای سی (اے) میں 8 فی صد تک کی کمی دیکھی گئی۔، ایس ای سی (بی) میں 2 فی صد تک کی کمی دیکھی گئی، ایس ای سی اے  (سی) میں 3 فی صد تک کی کمی دیکھی گئی، ایس ای سی (ڈی) میں 8 فی صد تک کی کمی دیکھی گئی اور ایس ای سی (ای) میں 8 فی صد تک کی کمی دیکھی گئی۔

 

نیوز اور کرنٹ آفئیرز کے ٹی وی پروگرآمز کی صورتحال

 

ایس ای سی (اے) کے مطابق سال 2013- 2014 کا دورانیہ 71 رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 83 رہا۔

 ایس ای سی (بی) کے مطابق سال 2013- 2014 کا دورانیہ 89 رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 99 رہا۔

ایس ای سی (سی) کے مطابق سال 2013-2014 کا دورانیہ 73 رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 75 رہا۔

ایس ای سی (ڈی) کے مطابق سال 2013- 2014 کا دورانیہ 74 رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 75 رہا۔

ایس ای سی (ای) کے مطابق سال 2013-2014 کا دورانیہ 92 رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 94 رہا۔

تاہم ناظرین کا تناسب سال 2015-2016 کے دوران ایس ای سی (بی) اور ایس ای سی (ای) کے درمیان بہت بلند رہا۔اور پچھلے سال بھی یہی اضافہ (ای اور بی) میں دیکھا گیا تھا۔

ایس ای سی (اے) میں 17 فی صد تک کا اضافہ دیکھا گیا۔، ایس ای سی (بی) میں 11 فی صد تک اضافہ دیکھا گیا، ایس ای سی (سی) میں 3 فی صد تک اضافہ دیکھا گیا، ایس ای سی (ڈی) میں ایک فی صد تک اضافہ دیکھا گیا اور ایس ای سی (ای) میں 2 فی صد اضافہ دیکھا گیا ۔

 

غیر ملکی انٹرٹینمنٹ چینلز

 

ایس ای سی (اے) کے مطابق جبکہ سال 2013- 2014 کا دورانیہ 83  رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 77 رہا۔

ایس ای سی (بی) کے مطابق سال 2013- 2014 کا دورانیہ 91 رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 90 رہا۔

ایس ای سی (سی) کے مطابق سال 2013- 2014 کا دورانیہ 56 رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 50 رہا۔

ایس ای سی (ڈی) کے مطابق سال 2013- 2014 کا دورانیہ 63 رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 61 رہا۔

ایس ای سی (ای) کے مطابق سال 2013- 2014 کا دورانیہ 90 رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 91 رہا۔

تاہم ناظرین کا تناسب ایس ای سی (بی) اور ایس ای سی (ای) کے درمیان بہت بلند رہا۔اور پچھلے سال بھی یہی اضافہ دیکھا گیا تھا۔

تاہم ناظرین کے تناسب میں کمی واقع ہوئی۔

ایس ای سی (اے) میں 7 فی صد تک کمی دیکھی گئی۔، ایس ای سی (بی) میں 1 فی صد تک کمی دیکھی گئی، ایس ای سی (سی) میں11 فی صد تک کمی دیکھی گئی ، ایس ای سی (ڈی) میں 3 فی صد تک کمی دیکھی گئی اور ایس ای سی (ای) میں 1 فی صد اضافہ دیکھا گیا ۔

 

بچوں کے چینلز

 

ایس ای سی (اے) کے مطابق سال 2013- 2014 کا دورانیہ 64 رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 55 رہا۔

ایس ای سی (بی) کے مطابق سال 2013- 2014 کا دورانیہ 77 رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 67 رہا۔

ایس ای سی (سی) کے مطابق سال 2013- 2014 کا دورانیہ 98 رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 59 رہا۔

ایس ای سی (ڈی) کے مطابق سال 2013- 2014 کا دورانیہ83 رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 67 رہا۔

ایس ای سی (ای) کے مطابق سال 2013- 2014 کا دورانیہ 50 رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 87 رہا۔

تاہم ناظرین کا تناسب ایس ای سی (ای) اور ایس ای سی (ڈی) اور (بی) کے درمیان بہت بلند رہا۔اور پچھلے سال بھی (سی، بی اور اے) میں تناسب رہا۔ ایس ای سی  (ڈی اور ای) میں اضافہ دیکھا گیا۔، باقی سب میں کمی دیکھی گئی

ایس ای سی (اے) میں 14 فی صد تک کمی دیکھی گئی۔، ایس ای سی (بی) میں 31 فی صد تک کمی دیکھی گئی ، ایس ای سی (سی) میں40 فی صد تک کمی دیکھی گئی، ایس ای سی (ڈی) میں 76 فی صد تک اضافہ دیکھا گیا اور ایس ای سی (ای) میں 74 فی صد اضافہ دیکھا گیا ۔

 

سپورٹس چینلز

 

 

ایس ای سی (اے) کے مطابق سال 2013- 2014 کا دورانیہ 83  رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 81 رہا۔

ایس ای سی (بی) کے مطابق سال 2013- 2014 کا دورانیہ 80 رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 83 رہا۔

ایس ای سی (سی) کے مطابق سال 2013- 2014 کا دورانیہ 103 رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 89 رہا۔

ایس ای سی (ڈی) کے مطابق سال 2013- 2014 کا دورانیہ 53 رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 71 رہا۔

ایس ای سی (ای) کے مطابق سال 2013- 2014 کا دورانیہ 50 رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 63 رہا۔

تاہم ناظرین کا تناسب ایس ای سی (بی) اور ایس ای سی (ڈی) اور (ای) کے درمیان بہت بلند ہے۔ ۔ ایس ای سی اے اور سی میں کمی دیکھی گئی۔

ایس ای سی اے میں 2 فی صد تک کمی دیکھی گئی۔، ایس ای سی بی میں 4 فی صد اضافہ دیکھا گیا ، ایس ای سی  سی میں4 فی صد اضافہ دیکھا گیا  ایس ای سی ڈی میں 43 فی صد اضافہ دیکھا گیا اور ایس ای سی ای میں 26 فی صد اضافہ دیکھا گیا ۔

 

علاقائی چینلز

ایس ای سی (اے) کے مطابق جبکہ سال 2013- 2014 کا دورانیہ 58 رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 71 رہا۔

ایس ای سی (بی) کے مطابق سال 2013- 2014 کا دورانیہ 71 رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 72 رہا۔

ایس ای سی (سی) کے مطابق سال 2013- 2014 کا دورانیہ 74 رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 74 رہا۔

ایس ای سی (ڈی) کے مطابق سال 2013- 2014 کا دورانیہ 53 رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 71 رہا۔

ایس ای سی (ای) کے مطابق سال 2013- 2014 کا دورانیہ 64 رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 65 رہا۔

تاہم ناظرین کا تناسب ایس ای سی (سی) میں بہت بلند ہے۔ اور۔پچھلے سال بھی یہی دیکھی گئی،

ایس ای سی (اے) میں 23 فی صد اضافہ دیکھا گیا ۔ ایس ای سی (بی) میں 1 فی صد اضافہ دیکھا گیا ، ایس ای سی (سی) میں کوئی اضافہ  نیں دیکھا گیا  ایس ای سی (ڈی) میں 10 فی صد اضافہ دیکھا گیا اور ایس ای سی (ای) میں 1 فی صد اضافہ دیکھا گیا ۔

 

مذہبی چینلز

 

ایس ای سی (اے) کے مطابق جبکہ سال 2013- 2014 کا دورانیہ 52  رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 55 رہا۔

ایس ای سی (بی) کے مطابق سال 2013- 2014 کا دورانیہ 77 رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 69 رہا۔

ایس ای سی (سی) کے مطابق سال 2013- 2014 کا دورانیہ 51 رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 46 رہا۔

ایس ای سی (ڈی) کے مطابق سال 2013- 2014 کا دورانیہ 43 رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 51 رہا۔

ایس ای سی (ای) کے مطابق سال 2013- 2014 کا دورانیہ 43 رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 53 رہا۔

تاہم ناظرین کا تناسب ایس ای سی (بی) میں بہت بلند رہا۔  اور۔پچھلے سال بھی یہی تناسب دیکھا گیا۔

ایس ای سی (اے) میں 6 فی صد تک اضافہ دیکھا گیا ۔، ایس ای سی (بی) میں 10 فی صد کمی دیکھی گئی ، ایس ای سی (سی) میں10 فی صد کمی دیکھی گئی ۔ایس ای سی (ڈی) میں 17 فی صد اضافہ دیکھا گیا اور ایس ای سی (ای) میں 23 فی صد اضافہ دیکھا گیا ۔

 

میوزک چینلز

ایس ای سی (اے) کے مطابق سال 2013- 2014 کا دورانیہ 47 رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 52 رہا۔

 ایس ای سی (بی) کے مطابق سال 2013- 2014 کا دورانیہ 64 رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 77 رہا۔

ایس ای سی (سی) کے مطابق سال 2013- 2014 کا دورانیہ 56 رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 75 رہا۔

ایس ای سی (ڈی) کے مطابق سال 2013- 2014 کا دورانیہ 60 رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 68 رہا۔

ایس ای سی (ای) کے مطابق سال 2013- 2014 کا دورانیہ 52 رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 47 رہا۔

 

تاہم ناظرین کا تناسب ایس ای سی (بی) میں بہت بلند رہا اور۔پچھلے سال بھی یہی تناسب دیکھا گیا۔  س مرتبہ تمام ایس ای سی میں اضافہ دیکھا گیا۔

ایس ای سی (اے) میں 11 فی صد اضافہ دیکھا گیا ۔ایس ای سی (بی) میں 21 فی صد اضافہ دیکھا گیا ، ایس ای سی (سی) میں 34 فی صد اضافہ دیکھا گیا ۔ایس ای سی (ڈی) میں 13 فی صد اضافہ دیکھا گیا اور ایس ای سی (ای) میں 10 فی صد اضافہ دیکھا گیا ۔

 

کوکنگ چینلز:

 

ایس ای سی (اے) کے مطابق سال 2013- 2014 کا دورانیہ 49 رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 46 رہا۔

ایس ای سی (بی) کے مطابق سال 2013- 2014 کا دورانیہ 45 رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 50 رہا۔

ایس ای سی (سی) کے مطابق سال 2013- 2014 کا دورانیہ 33 رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 49 رہا۔

ایس ای سی (ڈی) کے مطابق سال 2013- 2014 کا دورانیہ 51 رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 53 رہا۔

ایس ای سی (ای) کے مطابق سال 2013- 2014 کا دورانیہ 47 رہا۔ جبکہ سال 2015-2016 کے دوران 40 رہا۔

 

تاہم ناظرین کا تناسب ایس ای سی (ڈی) میں بہت بلند رہا۔ اور۔پچھلے سال بھی یہی دیکھا گیا،اس مرتبہ (بی، سی اور ڈی) میں اضافہ دیکھا گیا۔جبکہ (اے اور ای) میں کمی دیکھی گئی۔

ایس ای سی (اے) میں 6 فی صد اضافہ دیکھا گیا ۔ ایس ای سی (بی) میں 11 فی صد اضافہ دیکھا گیا ، ایس ای سی (سی) میں 48 فی صد اضافہ دیکھا گیا ۔ایس ای سی (ڈی) میں 4 فی صد اضافہ دیکھا گیا اور ایس ای سی (ای) میں 15 فی صد کمی دیکھی گئ ۔

 

 ٹی وی چینلزکے مختلف اقسام میں پرسنٹیج شیرز

 

تفریحی چینلز میں نمبرون پر پی ٹی وی ہوم  رہا اور اس کا سال 2015-16 کا حصہ 27 فی صد رہا جبکہ سال 2013-14 میں اس کا حصہ 22 فی صد رہا۔ دوسرے نمبر پر اے آر وائی ڈیجیٹل کاحصہ 2015-16 میں 20 فی صد رہا جبکہ 2013-14 میں اس کا حصہ 19فی صد رہا۔ تیسرے نمبر پر

جیو انٹرٹینمنٹ کا2015-16  کا حصہ   11 فی صد رہا جبکہ 2013-14 میں اس کا حصہ ۔9۔9 فی صد رہا۔

، ہم اور اے پلس کا سال2015-16   کا حصہ 10 فی صد رہا، گزشتہ برس میں ہم کا حصہ دس اعشاریہ ایک رہا جبکہ اۓ پلس کا حصہ اٹھ اعشاریہ سات رہا۔چھٹے نمبر پر اردو ون کا سال2015-16  کا حصہ 9 فی صد رہا۔ساتویں نمبرپر آے ٹی وی کا سال2015-16   کا حصہ 3 فی صد رہا جبکہ گذشتہ سال کا حصہ 5 فی صد رہا۔ آٹھویں نمبر پر ٹی وی ون کا سال2015-16  کا حصہ 2 فی صد رہا اور گزشتہ سال کا حصہ 8۔2 فی صد رہا۔ نویں نمبرپر ایکسپریس انٹرٹینمیٹ کا سال2015-16  کا حصہ 2 فی صد رہا جبکہ گزشتہ فیصد اس کا حصہ 3 فی صد رہا۔ جبکہ دسویں نمبر پر جیو کہانی کا سال2015-16  کا حصہ 2 فی صد رہا جبکہ گذشتہ سال اس کا حصہ 2 اعشاریہ 6 فی صد رہا۔

 

نیوز چینلزکی رینکنگ کا دو سالہ تجزیہ

 

 جیو ںیوزکا سال2015-16  کا حصہ 28 فی صدرہا جبکہ گذشتہ سال اس کا حصہ 24 فی صد رہا۔

پی ٹی وی کا سال2015-16  کا حصہ  17 فی صد رہا جبکہ گزشتہ برس 12 فی صد  رہا۔ سما ٹی وی کا سال2015-16  کا حصہ 14 فی صد رہا اورگزشتہ سال اس کا حصہ آٹھ اعشاریہ پندرہ فی صد رہا۔ چوتھے نمبر پر اے ار وائی  کا سال2015-16  کا حصہ  11 فی صد رہاجبکہ گزشتہ سال اس کا حصہ سولہ اعشاریہ چار رہا۔ پانچویں نمبر پر آج ٹی وی کا سال2015-16  کا حصہ  7 فیصد رہا جبکہ گذشتہ سال اس کا حصہ 6 فیصد رہا۔ چھٹے نمبر پر ایکپریس کا سال2015-16  کا حصہ 4 فی صد رہا جبکہ گزشتہ سال اس کا حصہ سات فیصد رہا۔اوراس کے بعد بل ترتیب میٹرو 3 فیصد اور 3 اعشاریہ پانچ فیصد۔ دنیا ٹی وی 2 فیصد اور 2 اعشاریہ 4 فیصد۔ دن ٹی وی 2 فیصد اور 2 اعشاریہ 1 فیصد۔ سب سے اخر میں ڈان ٹی وی کاحصہ ایک فیصد اور ایک اعشاریہ چھ فیصد رہا۔

 

سپورٹس چینلز کی دو سالہ رینکنگ

 

پی ٹی وی سپورٹس سال15 اور16 میں   42 فی صد جبکہ سال 15 اور14  میں 17 فی صد رہا۔

10 سپورٹس کا سال2015-16  کا حصہ 49 فی صد اور سال گزشتہ کا حصہ 73 فی صد۔

جیو سوپر 8 فی صد اور سال گزشتہ 4۔5 فی صد

 

علاقائی چینلز کی دو سالہ کارکردگی رینکگ

 

کے ٹی این سال2015-16  میں 35 فیصد اور گزشتہ سال 42 فیصد۔

سندھ ٹی وی سال2015-16  میں 13 فیصد اور گزشتہ سال 14 اعشاریہ 5 فیصد۔

آواذ سال2015-16  میں 11 فیصد اور 2۔ اعشاریہ 45 فی صد۔

کشش سال2015-16  میں 11 فیصد اور  گزشتہ سال16 اعشاریہ 6 فیصد ۔

مہران نیوز سال2015-16  میں 7 فیصد

کے ٹی این نیوز سال2015-16  میں 4 فیصد اور گزشتہ سال 39۔ 4۔ فیصد۔

اے وی ٹی وی خیبر سال2015-16  میں 4 فیصد اورگزشتہ سال 2۔57 فیصد۔

دھرتی ٹی وی سال2015-16  میں 3 فیصد اورگزشتہ سال 13۔3 فیصد۔

روہی ٹی وی سال2015-16  میں 3 فیصد اورگزشتہ سال 3۔47 فیصد۔

وسیب سال 2015-16  میں 3 فیصد اورگزشتہ سال 3۔47 فیصد

 

میوزک چینلز رینکیگ دو سالہ

 

آے آر وائی سال2015-16  کے دوران 50 فیصد اورگزشتہ سال 50 فیصد

جلوہ سال2015-16  کے دوران 31 فیصد اور گزشتہ سال 31 فیصد رہا۔

آٹھ ایکس ایم سال2015-16  کے دوران 19 فیصد رہا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *