ہمارا رنگ

Muhammad Asif

کہتے ہیں جن چیزوں میں ہم اختیار نہ رکھتے ہوں وہاں بےاختیاری ہی اچھی ہوتی ہے. اور جہاں بےاختیاری ہو وہاں رونے دھونے سے بھی کچھ نہیں ملتا سوائے اس کے کہ روتے ہوئے ہم اور خوف صورت لگنے لگیں. تمہید کا مقصد صورت ہے اور اصل مقصد رنگ. ہم لاکھ کوشش کر لیں اگر ہم پیدائشی کالے ہیں تو کبھی بھی سفید تو کیا آف براون بھی نہیں ہوسکتے. کچھ یہی حال ہمارا بھی ہے.
پانچ عدد سفید رنگ کے بہن بھائیوں کےدرمیان ہم ماورائی مخلوق ہی دِکھتے تھے.اللہ کروٹ کروٹ  جنت دے ہماری ماں کو جن کے بقول جب ہم پیدا ہوئے تو بہت گورے تھے مگر وبائی امراض کو ہماری یہ انفرادیت ایک آنکھ نہ بھائی اور موصوف خسرہ ہمارے عہدِ طفولیت کے تقریباً سارےبچے لے اُڑا ہمیں تو نہ لے کر جاسکا مگر جاتے جاتے ہماری ساری "گوریت" چھین لےگیا اور ہم سفید سے بتدریج سیاہ ہوتےگئے.کالا رنگ حسیناوں کے نزدیک اسی وقت تک قابل غور ہے جب تک اسکا حجم "تِل" جتنا ہو.ادھر اس نے اپنی حد سے نکلنا چاہا اُدھر یہ "حسینوں" کی گڈبک سے ہمیشہ کے لیے خارج ہوگیا.شاید یہی وجہ ہے کہ ہم کبھی بھی پری چہروں کے لیے وجہِ ٹھنڈی سانس نہ ہوسکے ہاں یہ ضرور ہے کہ ہمیں دیکھ کر بعض حسینائیں سکون کا سانس ضرور لیتی تھیں کہ شکر ہے ہمارے والا "اس جیسا" کالا نہیں ہے۔
ہمیں بچپن سے اس رنگ نے بہت رنگ دکھائے ہیں.کئی بار تو ہمیں محلے کے  منچلوں سے سُننا پڑا کہ منہ دھونے کا تردد بھی کیاکرنا کون سا کچھ نیا نکل آنا ہے.اور ہم  ان لمحوں میں بہت دکھی ہوجاتے ویسے دھواں تو خیر سے جیسے ہمارا ہی چہرہ ڈھونڈ رہا ہوتا ہمارے نہا دھو کر گھر سے نکلنے اور سارا دن سڑکوں پر گاڑیوں کا "دھواں" چھاننے کے بعد واپسی پر نہانے کے بعد اگر دونوں حالتوں میں کوئی فرق کر سکتا تو وہ ہماری "خوش فہمی" ہی تھی جو ہمیں حوصلہ دیتی ورنہ ان دونوں حالتوں میں کوئی تیسرا فریق کبھی فرق نہ ڈھونڈ سکا.
ہمیں اچھی طرح یادہے جب ہم اپنی بڑی بہن کو سکول کالج سے لینے جاتے اور دیدہ دانستہ اگر ہماری بہن کی کسی دوست کی ہم پر نگاہِ غلط پڑہی جاتی تو پہلا سوال یہی ہوتا  یہ کون ہے؟ یہ میرا بھائی ہے...یہ تمہارا ہی بھائی ہے؟ یہ فقرہ آج بھی ہماری رنگت اڑا دیتا ہے.
بچپن میں ہم اپنی خالہ یا پھوپھو کے ہاں گاوں جایا کرتے اور اتفاق سے گرمیوں میں ہی جاتے اب آگے جو بات ہونے والی ہے آپ کچھ تو سمجھ ہی گئی ہونگے. خیر ایک ہفتہ یا مہینہ گزار کر جب واپس جاتے تو گھر والے ایسی حیرانگی سے دیکھتے جیسے ایک پردیسی کئی سال بعد گھر گیا اور بچوں نے ایک تصویر لا کر ماں کے سامنے رکھی کہ یہ کون ہے. ماں نے کہا یہ تم لوگوں کا باپ ہے. اور بچوں نے حیرانگی سے پوچھا کہ پھر وہ گنجا جو کچھ دنوں سے ہمارے ہاں آیا ہوا ہے وہ کون ہے. تو صاحب ہمارا بھی کچھ ایسا ہی حال ہوتا.ہمیں ماضی کے مخصوص جملے دہرا کر خود کو فیملی کا ممبر ثابت کروانا پڑتا.
آنکھ مچولی میں ہمیں ہمارے رنگ نے بہت فائدہ دیا. سارے بچے ڈھونڈ ڈھانڈ لیے جاتے مگر ہم سامنے کھڑے بھی نظر نہ آتے. بعض اوقات ڈھونڈنے کی زمہ داری ہماری لگائی جاتی مگر ہم کمال اداکاری سے جہاں بچے چھپے ہوتے انھی کے ساتھ جا کر بیٹھ جاتے اور کسی کو کچھ خبر نہ ہوتی کہ ان کے ساتھ ہم رنگ بازی کر چکے ہیں.
ایک واقعے نے تو ہمارےہوش ہی اڑادیے ہوا یوں کہ ہم کرکٹ کھیل رہے تھے اور سورج سیدھا ہمارے چہرے مبارک پر اپنی تجلی بکھیر رہا تھا اور نور کا ہالا جیسے ہمارے چہرے کے طواف میں مصروف تھا کہ ایک کمسن سا بچہ آیا اور ہمارے پاس آکر کھڑا ہوگیا.اور پنجابی میں کہنے لگا .
پائن اک گل پُچھاں؟
جی پُچھو؟؟
تُسی عیسائی تے نئیں ہندے؟؟
ہماری تو گھبراہٹ میں زبان سے کلمہ تک نہ نکلا کہ مسلمانی کا ثبوت ہی دے سکیں. گھر آکر پکاارادہ کر لیا کہ کزنوں بہنوں کی مدد حاصل کی جائےآخر انھوں نے بھی تو سعی لاحاصل کی تمنا کی اور کافی حد تک کامیابی حاصل کی. مگر ان کا کہنا تھا کہ کریمیں بائٰی ڈیفالٹ رنگ کو نہیں بدل سکتیں اس لیے آپ گورے نہیں ہوسکتے.
وہ دن اور آج کا دن ہم نے گورے ہونے کی کوشش ہی چھوڑ دی ہے. کہتے ہیں سیاہ حرکتوں سے سیاہ چہرہ اچھا ہے. مگر ہم تو حرکتوں کے بھی کبھی  سفید نہیں رہے.اب اور ہم کیا بولیں؟

مگر آزمائش شرط ہے کہ ۔۔۔کالے ہیں تو کیا ہوا دل والے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *