دنیاکے دس بڑے بنک اور بینکاری کی ابتداء

Amir bin ali

معتبرامریکی ادارے فوربز نے 2017کے بہترین امریکی بینکوں کی فہرست شائع کی ہے اورجے پی مورگن چیزکو پہلے نمبرکا بنک قراردیا ہے۔دنیاکے مگر دس بڑے بنکوں کی فہرست میں2017کاسال کئی اہم تبدیلیاں لے کر آیا ہے ۔سب سے اہم تبدیلی تو یہ ہے کہ عالمی سطح پراب پہلے چاربڑے بنک چین سے تعلق رکھتے ہیں۔ابھی کچھ ہی سال پہلے دنیاکے ٹاپ ٹین کی اس فہرست میں چین کا ایک بھی بنک شامل نہیں تھا۔عالمی مالیاتی ادارے(S&P)ایس اینڈپی گلوبل مارکیٹ انٹیلی جنس نے دنیا کے دس بڑے بنکوں کی یہ فہرست جاری کی ہے،اس عالمی سطح پراولین دس بڑے بنکوں کی درجہ بندی پرامریکہ میں خاص طورپربہت بحث ہورہی ہے، کیونکہ دس میں سے صرف اسکے دوہی بنک اس لسٹ میں شامل کئے گئے ہیں۔ایک جے پی مورگن چیزاوردوسرابنک آف امریکہ۔زیادہ پرانی بات نہیں کہ اس درجہ بندی میں امریکی بینک مستقل طور پرنہ صرف اول پوزیشن پرہوتے تھے بلکہ دس میں سے آدھے توضرورامریکہ سے تعلق رکھنے والے مالیاتی ادارے تھے۔
فوربز اور سی این بی سی کے فراہم کردہ اعدادوشمارکے مطابق عالمی سطح پر دس اولین بنکوں کے اثاثہ جات اوسطاً دوسے تین کھرب ڈالر کے درمیان بیان کئے گئے ہیں۔فقط عالمی سطح پر اول درجے پر آنے والے بنک یعنی انڈسٹریل اینڈکمرشل بنک آف چائنہ کے مجموعی اثاثہ جات کی کل مالیت کا تخمینہ تین کھرب سے زیادہ یعنی ساڑھے تین کھرب ڈالر بیان کیاگیاہے۔اس فہرست میں جاپان کے بھی دوبنک شامل ہیں۔جوبالترتیب مٹسو بشی بنک اور جاپان کا ڈاک خانہ ہیں۔اس کے علاوہ برطانیہ کا بھی ایک بنکHSBCاس لسٹ میں شامل ہے۔جودس معتبرترین مالیاتی ادارے قراردیئے گئے ہیں۔
اس بابت برطانوی جریدے اکانومسٹ کی شائع کردہ فہرست تھوڑی سی مختلف ہے،اس فہرست میں عالمی رینکنگ میں بنکوں میں تیسرے نمبرپرامریکی ادارے جے پی مورگن چیزکوقراردیاگیاہے۔اور جاپانی بنکوں کوآخری نمبروں پررکھا گیاہے۔مگریہ بنیادی حقیقت صاف دکھائی دے رہی ہے کہ بینکنگ کے شعبے میں اب چین عالمی سطح پر لیڈربن چکا ہے اور یہ حقیقت اب تسلیم شدہ ہے کہ اس عالم رنگ وبو میں ٹاپ کے پانچ بنکوں میں سے اثاثہ جات اورحجم کے اعتبار چاربنک چین کے ہیں۔ہاں!البتہ ترتیب میں تھوڑابہت فرق ہوسکتا ہے،چندمعتبرادارے تیسرے نمبرپر جاپانی بنک مٹسوبشی کوقراردے رہے ہیں۔پاکستان میں مٹسوبشی کمپنی اپنی گاڑیوں اور الیکٹرونکس کی وجہ سے جانی جاتی ہے۔یوں تومعاشیات باالعموم اور بینکاری کاشعبہ باالخصوص خشک خیال کئے جاتے مضامین ہیں مگر بینکاری کی ابتدا کی کہانی بہت دلچسپ ہے اور آپ کو یہ یقیناََبہت پسند آئے گی ۔جدید بینکاری کا آغاز اٹلی میں ہوا تھا ۔تاریخی اعتبار سے سلطنت روم کہنا زیا دہ مناسب ہوگا ۔روم شہر میں بھی معیشت اور بازار کا اصول جنس کے بدلے جنس تھا ۔مال کے بدلے مال کے اصول پر چلنے والے معاشرے اور اس کے بعد بھی دنیا بھر یہودی قوم معیشت اور بازار کے معاملا ت میں باقی اقوام عالم سے ہمیشہ آگے رہی ہے ۔زمانہ قبل ازاسلام ہو یا قبل ازمسیح کے دور کا احوال اٹھا کردیکھ لیں ،آپکو معیشت پر یہودی اثرات واضع اور ناقابل تردید نظر آئیں گے۔قصہ کوتاہ یہ کہ سلطنت روماکے درالحکومت روم شہر کی معیشت پر بھی یہودیوں نے پنجے گاڑھ رکھے تھے ،یہودی تاجر شہرکے داخلی دروازوں پرہی بیٹھے ہوتے تھے ۔بینچوں پر بیٹھے ان یہودیوں کی سرگرمیاں بہت عجب نو عیت کی تھیں ۔جیسے ہی خریدار لوگ شہر میں داخل ہوتے ،وہ لکڑی کے بینچوں پر بیٹھے ہوئے ان یہودیوں کے پاس اپنا ما ل امانتاََرکھوادیتے چونکہ بازار کا رواج مال کے تبادلے کا تھا ، جس یہودی کے پاس بھی تاجر اپناسامان رکھو اکر جاتا وہ یہودی اپنے نا م سے ایک رسید جاری کردیتا ۔کہ حامل رقعہ ہذاٰکا فلاں فلاں سامان میرے پاس امانتاََپڑا ہے اور مطالبہ پر فوری مہیا کردیاجائیگا ۔اب تاجر یہ رسیدلے کرشہر کے بازاروں میں آزادانہ گھومتا پھرتا اور اپنا مطلوبہ سامان تلاش کرتا ۔جس جگہ سودا بن جاتا وہ تاجر اس دوکاندار کو یہودی کی جاری کردہ مذکورہ رسید تھما دیتا ۔کہ میرافلاں فلاں سامان فلاں یہودی کے پاس امانتاََپڑا ہے ،وہاں سے جاکر وصول کرلو ۔دوکاندار تاجرسے رسید لیکر اسے مطلوبہ سودا فراہم کردیتااور یہودی سے جاکر رسید دیکر سامان وصول پاتا تھا ۔بازار اب بھی بارٹر سسٹم یا جنس کے بدلے جنس کے اصول پر چل رہا تھا ۔تبدیلی یوںآئی کہ یہودیوں کا بازار میں اعتبار بتدریج بڑھتا چلا گیا ،اور یہ تاثر مضبوط ہوتا چلاگیا کہ وہ لین دین میں بے ایمانی نہیں کرتے، امانت دار لوگ ہیں ۔اگلے مرحلے میں شہر کے دوکاندار روم شہر میں خریداری کی غرض سے آنے والے لوگوں سے یہودی تاجر لی جاری کردہ رسید یں جو وہ شہر کے داخلی دروازے پر بیٹھے گاہکوں کا سامان وصول کرکے انہیں جاری کرتے تھے ،وصول کرکے ان کا مطلوبہ مال فراہم کر دیتے تھے مگر ان رسیدوں کے بدلے یہودیوں سے سامان وصول کرنے کی بجائے ان کے عوض خود خریداری کرلیتے تھے ۔اب منظر کچھ یوں بنا
کہ روم شہر میں تاجر وں کا تمام تر سامان شہر کے داخلی دروازوں پر چوبی بنچوں پر بیٹھے ہوئے یہودیوں کے پاس جمع رہتا اوران کے عوض جاری کردہ رسیدوں پرہی شہر میں بازار کالین دین ہونے لگا ۔لاطینی زبان اور اطالوی میں بینچ کو’’بانکو‘‘کہتے ہیں۔سامان جمع کرکے رسیدجاری کرنے والے بنچوں پربیٹھے ہوئے یہودیوں کو’’بانکو‘‘کہاجانے لگا۔انگریزی زبان میں جاکر یہ بنک ہو گیا۔جبکہ یورپ کی زیادہ ترزبانوں میں یہ اب بھی ’’بانکو‘‘ہی کہلاتا ہے۔یہیں سے جدیدبنکاری کی ابتداء اور کرنسی کا بنیادی خیال پروان چڑھاتھا۔پھر یہ نظام دوسری شہروں اور دیگر ممالک تک پھیل گیا۔اس تاریخی واقعے کا یہ پہلوبھی دلچسپ ہے کہ یہ یہودی شہر کے دروازوں پہ ہی کیوں بیٹھے تھے؟تاجر یا خریداران کے گھر وں پر ہی کیوں نہیں چلے جاتے تھے؟اس کی وجہ یہ تھی کہ زیادہ ترتاجر اور خریدارعیسائی مذہب کے پیروکار تھے۔اور یہودیوں کے گھر جاناناپاک خیال کرتے تھے۔ان کے ساتھ کھانا،پیناحرام سمجھتے تھے۔لہٰذاان یہودیوں کو اپنا اڈاگھراور بازار سے ہٹ کرچوبی بنچوں پرجماناپڑتاتھا۔عیسائی تاجروں کی یہودیوں کوناپاک سمجھنے کی وجہ بنی اسرائیل کا حضرت عیسیٰؑ کومصلوب کرواناتھا۔یورپ میں بارہایہودیوں کی بے دخلی کی وجہ انکا معیشت پر کنٹرول اور یہی واقعہ بناتھا۔جس کی آخری جھلک ہم نے جرمنی میں ایڈولف ہٹلرکے دورمیں دیکھی ۔یہودی نسل درنسل معیشت میں اپناکرداراداکرتے رہے۔کولمبس نے نئی دنیا دریافت کی تو امریکہ میں وال سٹریٹ کی بنیادبھی نیویارک آنے والے انہی یہودیوں نے رکھی اور آہستہ آہستہ مالیاتی شعبے کا کنٹرول سنبھال لیا۔ترکی کے مسلمان خلیفہ نے ایک بارسپین سے بے دخل کیے گئے، یہودیوں کو اپنے ملک میں لانے کے لیے بحری جہاز بھیجاتھااور انہیں خوش آمدید کہتے ہوئے یہ جملے کہے تھے کہ کوئی شہراس وقت تک شہرہی نہیں بنتا جب تک اس میں یہودی موجو دنہ ہوں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *