انجام

محمد طاہرM tahir

کیا ہوا، اس جنگ کا انجام بآلاخر کیا ہوا؟
یہ کابل کی ایک تقریب ہے۔جس میں گزشتہ روز امریکی جنرل جان کیمبل نے نیٹو کے زیرقیادت ایساف فورس کا پرچم بآلاخر لپیٹ لیا۔یہ دراصل افغانستان میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے جنگی مشن کے خاتمے کا باضابطہ اعلان تھا۔ اب شاید ہی کسی کو یاد ہو کہ امریکا نے اس جنگ کے آغاز میں کیا دعوے کئے تھے اور متکبر امریکی صدر بش نے اِسے کروسیڈ کہتے ہوئے دنیا کو کیا پیغام دئے تھے؟امریکی صدر بش نے 30؍جنوری 2001 کواپنے پررعونت خطاب میں کہا تھا کہ
’’افغانستان میں دہشت گردی کی تربیت دینے والے ٹریننگ کیمپوں کو تباہ کردیا گیا
ہے۔۔۔۔ایک ملک کو ظالمانہ حکومت سے رہائی دلائی ہے۔امریکی پرچم کابل میں
ہمارے سفارت خانے پر پھر سے لہرانے لگا ہے۔وہ دہشت گرد جنہوں نے افغانستان
پر قبضہ کر رکھا تھا اب وہ خلیج گوانٹاناموبے میں بنے ہوئے پنجروں میں قید ہیں۔اور
دہشت گردوں کے وہ رہنما جو اپنے پیروکاروں کو اپنی جانوں کی قربانی دینے کے لئے
اکساتے تھے، اب اپنی جانیں بچانے کے لئے بھاگتے پھر رہے ہیں۔۔‘‘
سابق امریکی صدر بش نے اپنے نشانے پر مسلمانوں کو لیتے ہوئے اس جنگ کو ’’کروسیڈ‘‘ کہا تھا۔ پھر دنیا بھر کی مسلم ریاستوں کے پٹھو حکمرانوں نے اپنے آقا کو یہ باور کرایا کہ وہ اس نام کے ساتھ اُن کی کامل اطاعت کا بھرم کیسے برقرار رکھ پائیں گے تو امریکی صدر نے اس کروسیڈ کو ’’دیرپا آزادی‘‘ (Enduring Freedom) کی گمراہ کن اصطلاح میں ملفوف کر دیا۔مگر جب گزشتہ روز اس کروسیڈ کے باضابطہ خاتمے کا اعلان کیا جارہا تھا تو اسے ایک اور نئے نام’’آپریشن پختہ حمایت‘‘ Operation Resolute Support))کی مالا پہنا دی گئی۔ گویا اپنی دیرپا آزادی کی حفاظت خود ہی کرتے رہیں جسے ہماری بوقت ضرورت حمایت ملتی رہے گی۔گزشتہ روزکابل میں امریکی ناکامی ایک کھلے اشتہار کی طرح تھی۔اس امریکی ناکامی میں دراصل تاریخ کے بہت گہرے اسباق پوشیدہ ہیں۔ مگر زیر نظر تحریر میں صرف ایک پہلو کا جائزہ لینا مقصود ہے کہ دراصل واقعات اپنی بناؤٹ میں کیا ہوتے ہیں اور اِسے کیسے پیش کیا جاتا ہے۔واقعات کا یہ تعبیری فہم آج کے پاکستان کے لئے انتہائی اہم ہے۔
امریکا میں 11ستمبر 2001 کو نیویارک کے سب سے بڑے تجارتی مرکز ورلڈ ٹریڈ ٹاور پر جہازوں سے کئے گئے حملوں کے جواب میں امریکا نے 7؍اکتوبر2001 کو افغانستان پر حملہ کر دیا۔ عظیم امریکی دانشور نوم چومسکی نے نوگیارہ کے حملے پر امریکی ردِعمل کا فوراً جائزہ لیا۔اور اِن واقعات کا امریکی تناظر واضح کر دیا۔ امریکا کے اندر اُس کامیزائل پروگرام بے پناہ تنقید کی زد میں تھا۔ تمام تزویراتی تجزیہ کار کہہ رہے تھے کہ امریکا کے اندر کسی بھی نوع کی دہشت گردی کے لئے یہ آسانی سے ہاتھ لگنے والے وہ ہتھیار ہیں جو امریکا کی تباہی کا باعث بن سکتے ہیں۔ نوم چومسکی نے تب کہا کہ
’’نوگیارہ کے واقعات کو انہی (میزائل) نظاموں کو آگے بڑھانے اور نافذ کرنے
کے لئے استعمال کیا جائے گا۔خلا کو فوجیانے ( Militarisation) کے منصوبوں کے
لئے صرف ’’دفاع‘‘ کا بہانہ کافی نہیں۔ (یعنی حملے کا خطرہ ایک حقیقت کے طور پر نظر
آئے، جیسا کہ نوگیارہ کے واقعات سے عوام کا عمومی مشاہدہ بن گیا) اور اچھے تعلقاتِ
عامہ (پی آر) سے اب بودے دلائل خوف زدہ عوام کے ذہنوں میں کچھ نہ کچھ بار پا
جائیں گے۔۔‘‘
نوم چومسکی نے اپنے اساسی موقف کی مکمل وضاحت کچھ اس طرح کی کہ
’’مختصر یہ کہ یہ جُرم جنگ پسند دائیں بازو کے لئے ایک تحفہ ہے، اُن لوگوں کے لئے
جو اپنے علاقوں کو کنٹرول کرنے کے لئے طاقت کے استعمال کی امید کرتے ہیں۔‘‘
نوم چومسکی ریاستوں کے سخت ترین اقدامات کے پیچھے کارفرما حقیقی محرکات پر غور کرنے کی بے پناہ صلاحیت میں ایک منفرد شان رکھتے ہیں۔ایک ریاست کیوں سفاکانہ روپ دھارتی ہے، اس کے لئے اُسے کیسے جواز درکار ہوتے ہیں اور وہ اُن جوازوں کی خود تخلیق میں کیسے سرگرداں رہتی ہے؟ نوم چومسکی کے اس حوالے سے بلاتعصب جستجو اور تلاشِ حق کی پیاس بے مثال ہے۔ چنانچہ وہ کسی اور کا نہیں فوراً ہی رابرٹ فسک کا حوالہ دیتے ہیں کہ اُس کی بات پر دھیان دیں۔رابرٹ فسک تب ہی سے اُن ’’مجرموں‘‘ کے ذہنوں میں جھانک رہے تھے جس میں کچلے ہوئے اور ذلت کے مارے لوگوں کی ’’شرانگیزی اور حیرت ناک سنگ دلی‘‘پرورش پارہی تھی۔
’’آئندہ دنوں میں جنگ اُن امریکی میزائلوں سے متعلق ہوگی، جنہوں نے فلسطینیوں
کے گھر توڑ پھوڑ ڈالے، اُن امریکی ہیلی کاپٹروں سے متعلق ہوگی جنہوں نے 1996
میں ایک لبنانی ایمبولینس پر میزائل داغے، ان امریکی بموں سے متعلق ہوگی جو قنعا نامی
گاؤں پر گرے۔اور اس لبنانی ملیشیا سے متعلق ہوگی جسے امریکا کے اتحادی اسرائیل نے
یونیفارم اور پیسے دئے تھے اورجس نے پناہ گزین بستیوں میں زنا کاری اور قتل و غارت گری
کرتے ہوئے اپنا راستا بنایاتھا۔۔‘‘
اس سیاق و سباق کی جنگ کو امریکی صدر بش نے کس طرح پیش کیا؟ یہ اس کا سب سے دلچسپ پہلو ہے۔یہی پہلو دنیا میں رونما ہوتے واقعات کو ریاست کی بے رحم قوتوں کے حوالے کرتا ہے کہ وہ جس طرح چاہیں اِسے اپنی مرضی کی تعبیر دے کر آپا دھاپی کریں۔ چنانچہ امریکی صدر بش نے نوگیارہ کے واقعات کو کس طرح بنا کر پیش کیا اُس کی مثال نو گیارہ کے صرف دس روز بعد21 ستمبرکی اُن کی سب سے اہم تقریر کے مندرجات سے کیجئے جس پر انیس مرتبہ نظر ثانی کی گئی اور جسے صدر بش کی سب سے اچھی تقریر کہا گیا تھا۔
’’امریکی پوچھ رہے ہیں کہ وہ (دہشت گرد) ہم سے نفرت کیوں کرتے ہیں؟
انہیں اصل میں اس چیز سے نفرت ہے جو آج اس ایوان میں انہیں دکھائی دے رہی
ہے اور یہ ایک جمہوری طور پر منتخب حکومت ہے۔ہمارے مخالفین کے لیڈر اور حکمران
منتخب نہیں ہوتے، اپنے آپ کو خود حاکم بنا لیتے ہیں۔دہشت گردوں کو ہمیں حاصل
آزادیوں سے نفرت ہے۔ ہماری مذہبی آزادی سے نفرت ہے۔ہماری آزادئ اظہار
سے نفرت ہے۔ہمیں ووٹ دینے اور ایک جگہ جمع ہونے اور ایک دوسرے سے اختلاف
کرنے کی جو آزادی ہے، ہمارے مخالفین اس سے نفرت کرتے ہیں؟‘‘
یہ امریکی تاریخ میں امریکی سرزمین پر ہونے والی سب سے بڑی دہشت گردی کی امریکی صدر نے تشخیص کی تھی تب تمام مغربی ممالک کے حکمران بھی اس میں شریک ہوگئے تھے۔یہ واقعات کو ایک خاص تعبیر دے کر خوف زدہ امریکیوں کو ایک خاص دنیا میں دھکیلنے کی تیاری تھی۔ بآلاخر وقت نے ثابت کیا کہ ورلڈ ٹریڈ ٹاور پر حملے سے کہیں زیادہ خوف ناک اُس واقعے کا ریاستی استعمال ثابت ہوا۔جب امریکی صدر امریکی عوام کو غیر متعلق وجوہات کے ذریعے اپنے سفاکانہ اقدامات کے لئے تیار کررہے تھے، تب نوم چومسکی نے اس پر امریکی ردِعمل کا جائز راستہ دکھایا تھا۔ اُس نے کہا کہ
’’ہم یہ جاننے کی کوشش کر سکتے ہیں کہ کون سے عوامل ان جرائم کا باعث بنے۔
مطلب یہ کہ ہم ممکنہ مجرموں کے دماغوں کو کھوجنے کی ایک کوشش کریں۔اگر ہم یہ
راستا منتخب کریں تو اس سے اچھی اور کوئی بات نہیں ہوگی۔۔۔‘‘
اپنی اِسی تحریر میں نوم چومسکی نے اس راستے کو اختیار نہ کرنے کے نقصانات سے خبردار بھی کردیا تھا کہ
’’میں پھر کہوں گا، ہمیں انتخاب کرنا ہے۔ ہم سمجھنے کی کوشش بھی کر سکتے ہیں اور اس سے
انکار بھی۔ اور انکار کی صورت میں موجودہ واقعات سے بدتر واقعات میں اپنا حصہ ڈال
سکتے ہیں جن کے سامنے آنے کا امکان موجود ہے۔۔‘‘
ریاستوں کی طرف سے واقعات کا غلط تعبیری ذہن تاریخی جرائم کا موجب بن جاتا ہے۔ امریکا نے نوگیارہ کے بعد یہی کیا۔اب اس کرہ ارض پر شاید ایک بھی ایسا فرد نہ ہو جو یہ کہہ سکے کہ دنیا امریکا کی جانب سے افغانستان پر حملے کے بعد پہلے کی نسبت زیادہ محفوظ ہوگئی ہے۔ یہ دنیا آج پہلے سے زیادہ خطرناک ہے۔ جس میں دہشت گردی کتنے ہی کچلے ہوئے اور ذلت کے مارے لوگوں کا آخری ہتھیار بن چکی ہے۔ریاست پاکستان کے پاس بھی دو راستے ہیں۔ ایک بش کا راستا ہے اور دوسرا نوم چومسکی کا تجویز کردہ۔ امریکی جنگ کے انجام میں ہم اپنے آغاز کا انجام بھی دیکھ سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *