لال پیلے بابا نعیم الحق کے دفاع میں بول پڑے

syed arif mustafa

کہاجاتا ہے علم کی کوئی سرحد نہیں ،،، میں اس میں یہ اضافہ کرتا ہوں کہ جہالت کی بھی کوئی حد نہیں ہوتی ،،، اگر کوئی روز روشن کی طرح حقائق کو یا کسی جانی مانی بات کو جھٹلانے پہ ہی اتر آئے تو یہیں سے جہالت بیکراں ہوجاتی ہے ،،، عالم کا مگر مسئلہ یہ ہے کہ وہ جتنا جانتا جاتا ہے اتنا ہی اسکا یہ احساس بڑھتا جاتا ہے کہ وہ بہت کم جانتا ہے ،،، لیکن جاہل کی پہچان ہی یہ ہے کہ وہ بہت معمولی سا علم ہتھے لگتے ہی اس زعم میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ وہ بہت زیادہ جانتا ہے اور اسکے سر میں یہ سودا سماجاتا ہے کہ اپنے شعبے کا تو وہ گویا بلامقابلہ نمبر ون ہے ،،، عامر لیاقت کا بھی کچھ ایسا ہی احوال ہے جہاں بیٹھتا ہے وہیں سے نمبر ون کے مقام پہ جاپہنچنے کی خبریں پھیلاتا ہے ،،، ان دعووں میں کس حد تک سچائی ہوتی تھی یا ہے اس پہ میں اپنے پاس موجود ریٹنگ کے اعداد وشمار کے حوالے سے آئندہ کبھی بات کروں لیکن فی الوقت میری آج کی گفتگو موصوف کی جانب سے بول پہ 5 اپریل کو نشر ہونے والے اپنے پروگرام "ایسے نہیں چلے گا " میں پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات نعیم الحق کا دفاع کرنے کے حوالے سے ہے

آپکو یاد ہوگا کہ 3 اپریل کو نعیم الحق صاحب نے جیو کے شاہزیب خانزادہ کے پروگرام میں انکے سوالات کا جواب دیتے ہوئے اپنے تئیں یہ انکشاف کیا تھا کہ سنہ 2013 کے الیکشن میں پی ٹی آئی کی شکست میں جنرل کیانی پوری طرح ملوث تھے اور یہی کردار الیکشن کمیشن امریکا اور سعودی عرب کا بھی تھا ،،، اس نہایت سنگین الزام پہ شاہزیب نے مزید وضاحت کیلیئے ان سے بڑے صاف اور دو ٹوک سوالات بھی کیئے لیکن انہوں نے تو بات اور کھول کے بیان کردی کہ ' یہ بات تو ہم بہت پہلے ہی شروع ہی سے جانتے تھے ۔۔۔ نعیم الحق کے اس بیان پہ کھلبلی مچ گئی اور عسکری و بیرونی حلقوں میں اس پہ شدید ناراضگی کا تاثر ملا کیونکہ جنرل کیانی کو دھاندلی میں ملؤث قرار دینے کا کھلا اور صاف مطلب یہ تھا کہ پاک فوج اس بےایمانی کی ذمہ دار تھی کیونکہ فوج کا سربراہ جو بھی کوئی پلان بناتا ہے اس پہ عملدرآمد اپنے زیرکمان ادارے ہی سے نہیں کروائے تو اور کس سے کروائےگا

ادھر خدا خدا کرکےعمران خان آرمی ھاؤس میں جنرل باجوہ سے تفصیل سے مل ملا کے آئے تھے تاکہ فوج کے ساتھ عمدہ تعلقات کا نقش قائم کرسکیں اور اس سے فائدہ اٹھا کے اپنے رستے میں مزاحم ہونے والوں کو بین السطور اپنی نئی طاقتور پوزیشن کا ڈروا دے کر بیک فٹ پہ پہنچاسکیں تو ادھر نعیم الحق نے اپنے اس شرپسندانہ بیان سے ساری کوششوں کو مٹی میں ملادینے کی حماقت کا ارتکاب کرڈالا اور اس پہ خان کو یوں لگا کہ گویا وزیراعظم بننے کے انکے دیرینہ پلان کی پکتی دیگ کو نعیم الحق اوندھانے کے قریب لے آئے ہیں
نعیم الحق کا معاملہ یہ ہے کہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار نظر آن کو گویا جزو ایمان باور کرتے ہیں لیکن چونکہ بنیادی طور پہ ایسی کوششیں کرنے والے پیٹ بھرکے احمق ہوا کرتے ہیں چنانچہ ایسے نادانوں کی دوستی کو صاحبان عقل کئی صدی "نادان کی دوستی جی کا جنجال جیے محاورے کے کوزے میں بند کرچکے ہیں ۔۔۔ اور اس جی کے جنجال کے ہاتھوں پہنچنے والے نقصان سے بچنے کے لیئے یعنی نعیم الحق کے اس بیان کی تلافی کے لیئے پی ٹی آئی نے ایک بار پھر پرانی روایت نبھائی اور فوری یو ٹرن لیتے ہوئے ان الزامات کو انکی ذاتی رائے قرار دے ڈالا ،،، لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر غلطی کی تاویل معقول بھی ہو ،،، انکے موقف کے بودے پن کو سبھی حلقوں میں بری طرح سے محسوس کیا گیا
تاہم تاریخی طور پہ حماقت کو ہمیشہ منافقت کی مدد دستیاب رہتی
ہے لہٰذا لال پیلے بابا نے اپنے پروگرام میں 'نیلے پیلے کو بے نقط سنائیں اور کہا کہ جب انکی پارٹی نے یہ کہدیا کہ یہ انکی ذاتی رائے تھی تو جیو اسے مان کیوں نہیں لیتا ؟؟

کوئی اس بقراط اعظم لال پیلے بابا سے پوچھے کہ کسی بھی ٹی وی چینل پہ جب کسی پارٹی کے کسی عہدیدار کو مدعو کیا جاتا ہے تو کیا اسے وہاں اسکی ذاتی حیثیت میں بلایا جاتا ہے ،،، اگر وہ وہاں اپنی پارٹی کے موقف کو بیان کرنے کے لیئے نہیں جاتا تو کیا اس سے موسم کا حال پوچھنا مقصود ہوتا ہے۔۔۔؟؟ اور وہ بھی کون سیکریٹری اطلاعات جیسے اہم منصب پہ متمکن شخص ،،، اور یہ عہدہ تو خاص بارٹی لائن ہی کی ترجمانی کرنے کے لیئے مخصوص ہوتا ہے ۔۔۔ تو پی ٹی آئی کے باضابطہ سیکریٹری انفارمیشن کے بیان کو کیسے اور کیونکر نعیم الحق کی ذاتی رائے تصور کر لیا جائے ،، پھر ایسی عجیب و غریب کہ مکرنی واردات کے بعد تو ہر اینکر کے لیئے یہی رستہ بچتا ہے کہ وہ اپنے ہر پروگرام کے آغاز میں ہی حلف برداری کی ایک تقریب بھی منعقد کیا کرے جس میں کہ اسکے پروگرام میں مدعو کیئے گئے مہمان سے حلف لیا جائے کہ وہ وہاں ذاتی رائے دینے نہیں آیا ہے بلکہ،،،، بلکہ ،،، خیر چھوڑیئے ہم اپنے اسی جملے کو دہرا کے پہ یہاں بات ختم کیئے دیتے ہیں کہ "حماقت کو ہمیشہ منافقت کی مدد میسر رہتی ہے " لیکن ایسے کیسے چلےگا۔۔۔؟؟؟

[email protected]

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *