افسوس، ہم یہ جنگ نہیں لڑسکتے

ایازا میرAyaz Amir

میں نے گزشتہ صبح دو شاندار مضمون پڑھے، پہلا مضمون کمانڈر (ر) نجیب انجم ’’Give me back my old Pakistan اور دوسرا معروف کالم نگار ہارون الرشید کا ایک معاصر اردو روزنامے میں شائع ہونے والا مضمون ’’کپتان کا مستقبل‘‘نجیب انجم لکھتے ہیں…’’اگر عمران خان انقلاب چاہتے ہیں تو اُنہیں اپنے حامیوں سے کہنا چاہیے کہ وہ اپنے کام کے اوقات سے ایک گھنٹہ زیادہ کام کریں ، یا وہ اتوار کو بھی اپنے کام پر جائیں اور احتجاجاً زیادہ محنت کریں۔‘‘ اس سے بہتر اور صائب مشورے کا تصور بھی محال ہے۔ مضمون نگار کاخیال ہے کہ عوام کو ٹیکس ادا کرنے سے منع کرناعوا م اور حکومت، دونوں کو مزید غیر ذمہ دار اور کاہل بنا دے گا۔
ہارون الرشید اُس وقت سے پی ٹی آئی کی حمایت کررہے ہیں جب کوئی اس جماعت کو خاطر میں نہیں لاتا تھا۔ وہ لکھتے ہیں ۔۔۔’’سب سے اول اور سب سے بڑھ کر تحریک ِ انصاف کو تنظیم کی ضرورت ہے۔ کارکنوں کی تربیت کی۔ ان میں سے بعض اس قدر احمق ہیں کہ مجھ جیسے خیر خواہوں پر بگڑتے ہیں۔ علم نہ تمیز، عقل نہ عاقبت اندیشی۔ صلاحیت تربیت سے نکھرتی ہے…‘‘یہ مضمون نہ صرف پی ٹی آئی کے حامیوں کو پڑھنا چاہیے بلکہ اپنا نصاب قرار دے کر اسے ازبر کرنے کی ضرورت بھی ہے۔ عمران کے لئے بھی ضرورت ہے کہ وہ اسے کم ازکم دو مرتبہ ضرور پڑھے۔ ہارون الرشید نے یہ کالم مکمل طور پر عمران سے مخاطب ہو کر لکھا ہے اور اُنھوں نے بھٹو صاحب کی کچھ خوبیوں کا حوالہ دے کرعمران کی کوتاہیوں کو اجاگر کیا ہے۔ دوسری طرف کمانڈر صاحب نے عمران کا ذکر قدرے سرسری انداز میں کیا ہے۔ تاہم دونوں کالم نگاروں نے پاکستان کے موجودہ معروضی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس ملک کے سیاسی افق پر عمران کے سوا کوئی اور قابل ِ ذکر شخصیت دکھائی نہیں دیتی۔ ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ عمران یونانی داستانوں کا دیومالائی ہیرو اکیلس نہیں لیکن ان کے مدِ مقابل تو کسی شمار میں بھی نہیں۔
عمران نے اپنی تحریک کا آغاز بنیادی طور پر گزشتہ انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کے احتجاج کے طور پر کیا، لیکن جب وہ میدان میں آئے تو اُنھوں نے بیانیے کو دھاندلی سے کہیں آگے بڑھا دیایہاں تک کہ وہ ہماری سیاسی زندگی کا سب سے اہم معاملہ بن گیا۔ قوم ایک تبدیلی کے خواب دیکھنے لگی۔ کیا وہ اس خواب او رجوش کو قائم رکھنے اور اسے وسعت اور ہمہ گیریت دیتے ہوئے اگلے انتخابات تک انتظار ، اور بقول ہارون الرشید، تنظیم سازی کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے؟اس وقت ان کے پاس جوشیلے لیکن خام سیاسی کارکن ہیں جنہیں تربیت، نظم اور سب سے بڑھ کر ربط درکار ہے۔ اس وقت عمران خان کے سامنے چیلنج یہی ہے۔
اس وقت پاکستان کو بھی پی ٹی آئی کے منظم پارٹی بن کر سامنے آنے کی ضرورت ہے کیونکہ اسے قیادت کے بحران کا سامنا ہے۔ اگرچہ ہم اس بحران سے پہلے بھی آگاہ تھے لیکن جن کو کچھ مغالطہ تھا، گزشتہ دو ہفتوں کے دوران، پشاور سانحہ کے بعد، پیش آنے والے واقعات نے دور کردیا ہوگا۔ دوسری جنگ ِ عظیم کے دوران ا سٹالن اور روز ویلٹ نے اتنی کمیٹیاں نہیں بنائی ہوں گی جتنی نواز شریف نے ان چند دنوں میں بنا ڈالی ہیں۔ شاید ہمیں اس وقت ایک اور کمیٹی کی ضرورت ہے جو پتہ چلائے ان تمام کمیٹیوں کی کیا ضرورت تھی؟دوسری طرف جنرل راحیل شریف اپنے کام میں دوٹوک اور واضح ہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ یا تو وہ اس جنگ کی قیادت کریں یا وزیرِاعظم ہائوس میں ہونے والی ان گنت میٹنگز میں شرکت کرتے رہیں۔ ایک بات طے ہے، ان دونوں میں سے ایک ہی کام ہوسکتا ہے۔ یا جنگ کرلیں یا اسلام آباد کے دورے کرتے رہیں۔
ہم نواز شریف کو مورد ِ الزام نہیں ٹھہراتے، وہ وہی کچھ کررہے ہیں جو کر سکتے ہیں۔ جب آپ کے تخیلات اور ذرائع محدود ہوں، جب آپ میں صلاحیت بھی وہی ہو جس کا آپ اظہار کرتے رہتے ہیں تو پھر کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ عمل کی بجائے صرف باتوں میں وقت کیوں ضائع کیا جارہا ہے۔ وزیر ِ اعظم کا کہنا ہے کہ وہ اس جنگ کی قیادت کریںگے۔ صاحب طرز کالم نگار ، حسن نثار کے الفاظ بہت بر محل ہیں۔۔۔’’آپ کیا، آپ کی قیادت کیا‘‘۔یہ بات قدرے سخت بھی کہی جاسکتی تھی لیکن کالم نگار نے ’ہاتھ ہولا‘‘ ہی رکھا۔ یقینا دودھ سے ہی مکھن نکالا جاسکتا ہے، آپ تمام رات پانی میں مدھانی چلاتے رہیں، وہ پانی ہی رہے گا، آپ کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ چنانچہ آپ کو وزیر ِ اعظم کے گرد میز پرجو چہرے دکھائی دیتے ہیں،کیا اُنہیں سنجیدگی سے جنگی کابینہ کے رکن کہا جاسکتا ہے؟ احسن اقبال، میرے دوست عرفان صدیقی، آصف کرمانی اور مانند تریاق ہر مسلے کا حل فواد حسن فواداور سوچ میں غرق کچھ اور شرکامیٹنگ کامعرکہ سجاتے ہیں یہاں تک کہ ایک دن گزرجاتا ہے۔ حکمران جماعت یہی وہ واحد اور اپنے تئیں بہترین کام ہے جو کرسکتی ہے۔ اگر لوگوں کی آہ و بکاپر شدت پسند طنزیہ ہنسی ہنس رہے ہوں تو ان کا قصور نہیں، اس کا موقع ہم اُنہیں دے رہے ہیں۔
مجھے وہ وقت یاد ہے جب وزیر ِ اعظم آبروریزی کا شکار ہونے والی خواتین کی داد رسی کے لئے جاتے تھے۔ ہر شام ٹی وی ان کے چہرے پر رنج والم کے تاثرات دکھاتے ہوئے قوم کو باورکراتا کہ وزیراعظم مظلوم خواتین کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ فرق یہ پڑا ہے کہ اس دور میں آبروریزی کی جگہ دہشت گردی نے لے لی ہے… وزیراعظم کی فعالیت ، یعنی آنیاں جانیاں، اپنی جگہ پر جوں کی توں موجود جبکہ کیمرے قوم کو ان کی غمگساری اور عزم سے آگاہ کرنے میں کسی کنجوسی سے کام نہیں لیتے۔
کیا نفرت میں ڈوبے اور فرقہ واریت کے تعصب میں جکڑے ہوئے دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے کل جماعتی کانفرنس درکار ہوتی ہے؟کیا ایک منتخب شدہ حکومت کو کسی اور کی حمایت کی حاجت ہوتی ہے کہ سزا یافتہ مجرموں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ سانحہ ٔ پشاور کے بعد، ان دوہفتوں کے دوران ہم نے سیاسی قیادت سے فوجی عدالتوں اور گرفتار شدہ مجرموں کو پھانسی دینے کی بحث کے سوا اور کیا سنا ہے؟یہ بحث جاری ہے اور اب ہم اس سے اختلاف کرنے والوں کی آواز بھی سننا شروع ہوگئے ہیں۔ درحقیقت اس وقت ملک میں سیاسی قیادت نہ ہونے کے برابر ہے۔ صرف کیمروں کے سامنے ، بیان بازی کرتے ہوئے اپنی فعالیت کا تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن عملی اقدامات صفر۔ اس بے مقصد بحث میں فوجی چیفس کو الجھا لیا گیا ہے کیونکہ وہ وہاں بیٹھ کر بے مقصد بحث اور دلائل سنتے رہتے ہیں ۔ یقینا فوج کے سامنے ایک واضح ایجنڈاہوتا ہے اوراسے اپنے مقصد اور ہدف کے بارے میں دوٹوک ہونے کی ضرورت ہوتی ہے،چنانچہ اسے ایسے مخمصے میں الجھنے کی ضرورت نہیںہوتی۔یقینا وزیر ِ اعظم ہائوس میں ہونے والی میٹنگز ہمارے جنرلوں کے اعصاب کا امتحان لے رہی ہیں۔ یقینا اس طریقے سے دہشت گردوں کا نہ کچھ بگڑے گا اور نہ ہی قوم ان سے نجات پائے گی۔ دہشت گردی کی جڑیں ہماری زمین میں بہت گہری گڑی ہیں، ایسے سرسری انداز میں ان کا کچھ نہیں بگڑے گا۔ 2015 بھی ایسی ہی میٹنگز کی نذر ہوجائے گا۔ دہشت گردی اپنی جگہ پر موجود ہم سے خون کا خراج لیتی رہے گی۔ یہ جنگ صرف جنرل راحیل صاحب کے دور تک ہی نہیں لڑی جانی، ہمیں اس کے لئے طویل مدت کے لئے مورچہ بندی کرنی ہے۔ تاہم ایسا کون کرے گا؟ نہ تو نواز شریف، نہ پی ایم ایل (ن) کے پاس پاکستان کے ان مسائل کا حل ہے۔ ہمیں ایک متحرک اور زیرک قائد کی ضرورت ہے لیکن وہ قائد کون ہوگا؟ایساف اور نیٹو یہاں سے جارہے ہیں ، ہم نے یہ جنگ لڑنی اور اکیلے ہی لڑنی ہے۔ اس جنگ میں ہمارا قائد کون ہے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *