حمید بھائی کی واپسی

zunaira mushtaq

آج کل پردیس میں نوکری کرنے کا رحجان عام ہو گیا ہے۔ پاکستان میں ہر دوسرے شخص کا یہی خواب ہے کہ وہ نوکری کیلئے پردیس جائے ۔ اسی طرح ہمارے پڑوس میں رہتے حمید بھائی کو بیٹھے بیٹھے باہر جانے کا جنون سوار ہو ا اور وہ اپنے گھر والوں سے کہنے لگے کہ پاکستان میں نوکری ملنا بہت مشکل ہو گیا ہے اگر نوکری مل بھی جائے تو تنخواہ مناسب نہیں ہوتی اس لیے میں سوچ رہا ہوں کہ پردیس چلا جاؤں اور پھر واپس نہیں آؤں گااور بس آرام سے اپنی زندگی بسر کروں گا۔ان کے ایک قریبی دوست نے ان کو بہت سمجھایا کہ پردیس رہنا اتنا آسان نہیں ہے جتنا آپ سمجھ رہے ہیں میری بات مانیں اور یہی رہ کر کوئی کام شروع کر لیں۔لیکن حمید بھائی نے کسی کی ایک نہ سنی اور جانے کی تیاریوں میں مصروف ہو گئے۔آخر کار وہ دن آ گیا جب وہ پردیس کے لیے روانہ ہو گئے۔جب جہاز نے پروان بھری تو شور مچانے لگے کہ ’’ارے ذرا دھیرے چلاؤ تم تو ہمیں پردیس جانے سے پہلے ہی مار دو گے‘‘۔تمام مسافر حمید بھائی کو تک رہے تھے اور انہیں چپ چاپ بیٹھے رہنے کا کہا۔

Image result for pakistani with suitcase

حمید بھائی نے کلمہ پڑھ کر آنکھیں زور سے بند کی اور تمام سفر یہ کہہ کر گزارا کہ پردیس جا کر خوب مزے کریں گے۔حمید بھائی بالکل بھی پڑھے لکھے نہیں تھے جب ائر پورٹ پر اترے اور چیکنگ کا سلسلہ شروع ہوا توکچھ کاغذات ان سے مانگے گے جن کو دینے سے انہوں نے انکار کر دیاکہ ایسے کوئی کاغذات ان کے پاس نہیں ہیں،ہر طرف شور مچ گیا کہ ایک پاکستانی بغیر کسی قانونی کاروائی کے آیا ہے۔سکیورٹی کو بلایا گیا اور سامان کی تلاشی شروع کر دی گئی لیکن سامان سے کچھ نہ ملا۔ اتنے میں ایک اہلکار کی نظر اس کی بغل میں موجود ہینڈ بیگ پر پڑی اور جب ان سے پوچھا گیا کہ اس میں کیا ہے تو کہنے لگے کہ اس میں ان کا ویزہ ہے۔سب کے سب ماتھے پہ ہاتھ رکھ کر وہیں بیٹھ گئے کہ پچھلے دو گھنٹوں سے جس چیز کا شور ڈال رہے ہیں وہ ان کی بغل میں موجود ہے۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ ’’ بغل میں چھری منہ میں رام رام‘‘۔خیر ائیرپورٹ سے نکلے ٹیکسی لی اور ہوٹل کے کمرے میں آ گئے۔کچھ دیر بستر پر لیٹ گئے جب آنکھ کھلی تو بھوک ستانے لگی لیکن کھانے کو کچھ نہ تھا ۔ دوکان پر گئے کھانے پینے کا سامان خریدا اور واپس کمرے میں آگئے۔اگلے ہی روز نوکری کی تلاش میں نکل پڑے ۔ پڑھے لکھے نہ ہونے کی وجہ سے بہت کی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ اللہ اللہ کرکے وہاں مزدوری کی نوکری ملی اب ان کے تمام مزے اڑانے کے خواب مٹی میں مل چکے تھے کیونکہ اس نوکری میں آرام کم اور کام زیادہ تھا ۔نوکری سے واپس آتے تو ہزاروں کاموں کی پریشانی ستانے لگتی کہ ابھی کھانا بنانا ہے، کپڑے دھونے ہیں، اوہو کل کے برتن بھی ویسے ہی پڑے ہیں۔ ایسے میں گھر والوں کی بہت یاد آتی۔جب فون پہ گھر والوں سے بات ہوتی تو یہی ظاہر کرتے کہ وہ پردیس میں بہت خوش ہیں۔ انکے دوست کی کہی سب باتیں یاد آتی کہ پردیس میں رہنا آسان نہیں۔جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ان کا ’’ پردیس نوکری‘‘ کا شوق پورا ہوتا گیا۔ پھر ایک دن اچانک پاکستان واپس آ گئے ۔ گھر والے دیکھ کر حیران ہوئے کہ بغیر کسی اطلاع کے واپس آنے کی وجہ پوچھی تو یہ بے وزن مصرعے کہہ کر بات ختم کر دی کہ۔۔۔
یوں تو گئے تھے اپنے مزے کو
کیا معلوم تھا کہ یہ شوق پڑے گا گلے کو
بہت تھا کام پر نہ تھا آرام وہاں۔۔۔
کہہ آئے خیر آباد پردیس کو۔۔۔
کہ ہم تو چلے اپنے دیس کو

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *