اب وہ اپنے ناناپر بوجھ نہیں

madeeha-riaz
اس کی ماں کی یہ دوسری شادی ہے ۔ پہلی شادی اس کے باپ کے ساتھ ہوئی ۔اسکی پھوپھی کی شادی اسکی ماں کے وٹے سٹے میں ہوئی یعنی اس کے ماموں کے ساتھ ۔ماموں کا دل تو کسی اور جگہ اٹکا ہوا تھا ۔ماموں کو تو اپنے یار کی بہن پسند تھی ۔ان کے وٹے سٹے کی شادی کا رواج تھا اس لئے ماموں کی شادی اپنی محبوبہ سے نہ ہو سکی ۔ محبوبہ سے شادی نہ ہونے کا سب سے بڑا سبب ماموں کی ہڈ حرامی تھی ۔ماموں کہیں ٹک کے محنت مزدوری نہیں کرتے ۔مہینہ کے دو ہفتے کام کرتے اور باقی کے دو ہفتے آرام کرنا۔کبھی کسی کے ساتھ جواء کھیلتاتو کبھی گاؤں کی سی ڈی کی دکان پر فلمیں دیکھنا ،اور خود کو شان تصور کرنا ۔ماموں کے یار نے اپنی بہن سے شادی کروانے کی کچھ شرائط رکھ دیں کہ تم ہمیں 2مرلے اور دو بھینسیں لے دو ۔ہم تمہیں اپنی بہن کا رشتہ سے دیں گے ۔ اب ماموں تو تھے ہی کنگلے ۔اب اس کنگلے پن کی وجہ سے اپنی محبوبہ سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔اور پھر اس کی ماںّ اور پھوپھی کی شادیاں وٹے سٹے میں ہو گئیں ۔وہ اپنی ماں کا اکلوتا بیٹاتھا۔ اس کے باقی دو بھائی پیدائش کے وقت انتقال کر گئے ۔اور پھوپھی دوران زچگی اللہ کو پیاری ہو گئی ۔اس کے والدین کی لڑائی روزانہ کا معمول تھی مگر اس دن اس کے باپ نے غصے میں آکر اس کی ماں کو طلاق دے دی۔اور یوں اسکی ماں اپنے ماں باپ کے گھر آگئی ۔اب کی بار اس کی ماں کا رشتہ اس کے نانا کے وٹے میں ہوا ۔نانا نے اپنے سالے سے اپنی بیٹی کی شادی طے کر دی ۔اور یوں اسکی ماں کی دوسری شادی ہو گئی ۔ اور وہ اپنے نانااور نئی نانی کے ساتھ رہنے لگ گیا، کیوں کہ اسکے سوتیلے باپ نے اسے قبول نہ کیا ۔زندگی اس کے لئے پھولوں کی سیج پہلے ہی نہ تھی ۔مگر اب مزید مشکل ترین ہوتی گئی ۔کھانا مانگنے پر مار اور صلواتیں اس کا مقدر بنتی ۔وہ سات سال کا بچہّ تھا ۔اب سات کا بچہ اتنا بھی سمجھدار نہ تھا کہ وہ اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر آواز اٹھاتا ۔اسے ان زیادتیوں کا ایک ہی حل نظرآیا اس نے گھر پر رہنا بلکل کم کر دیا ۔صبح دوپہر اور شام وہ گاؤں کے مختلف گھروں میں گزارتا ۔ان گھروں کے چھوٹے موٹے کام کر دیتا یعنی بالن لے آنا 'دکان سے سودا سلف لا دینا اور ان گروں کے کمسن بچوںّکو کھانا کھلانا، یہ سب کام اس کی زندگی کاحصہّ بن گئے ۔تب کہیں جا کہ اچھی روٹی اس کو نصیب ہوتی ۔ان گھروں کے بچوں کی اترن پہن کر یہ سمجھتا ہے کہ اب وہ بڑا ہو گیا ہے، اب وہ اپنے نانا پر بوجھ نہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *